منتخب نظمیں

“میری بیوی میرے سامنے بیٹھی تھی… اور میں اسے کھو ر…

“میری بیوی میرے سامنے بیٹھی تھی… اور میں اسے کھو رہا تھا—کسی اور کے ساتھ نہیں بلکہ اپنے ہی۔۔۔۔۔ 💔”

“میں تم سے بات کر رہی ہوں…”
“ہوں… ایک منٹ…”

یہ “ایک منٹ” کبھی ختم نہیں ہوا۔

علی کو لگا یہ کوئی بڑی بات نہیں۔
وہ روز کی طرح بستر پر لیٹا تھا…
ایک ہاتھ میں موبائل…
انگلیاں ریلز پر چل رہی تھیں…

اور سامنے…
اس کی بیوی مریم… چپ بیٹھی تھی۔

پہلے وہ بات کرتی تھی۔
پھر سوال پوچھتی تھی۔
پھر انتظار کرتی تھی۔

اور اب…
وہ صرف دیکھتی تھی۔

خاموش۔

علی کو یاد بھی نہیں کہ آخری بار اس نے مریم کی آنکھوں میں دیکھ کر کب بات کی تھی۔
لیکن اسے ہر نئی ویڈیو یاد تھی۔

ہر میم… ہر کلپ… ہر اسکرول۔

ایک رات… مریم نے آہستہ سے کہا،
“تم بدل گئے ہو…”

علی ہنسا،
“یار، ڈرامہ نہ کرو… میں یہی ہوں…”

لیکن وہ یہی نہیں تھا۔

وہ جسم سے وہیں تھا…
دل کہیں اور۔

اسی رات…
مریم اس کے پاس آئی…
اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا۔

“علی… مجھے تم سے بات کرنی ہے…”

اس نے بغیر دیکھے کہا،
“بس یہ ویڈیو ختم ہونے دو…”

وہ ویڈیو ختم ہوئی…
پھر دوسری شروع ہو گئی۔

اور اس کے ساتھ…
ان کا رشتہ بھی آہستہ آہستہ ختم ہونا شروع ہو گیا۔

چند ہفتوں بعد…
گھر میں خاموشی بڑھنے لگی۔

کھانے کی میز پر…
دو پلیٹیں…
دو موبائل…
اور زیرو گفتگو۔

بیڈروم میں…
دو لوگ…
مگر درمیان میں ایک تیسرا—
موبائل۔

ایک رات…
علی نے سر اٹھا کر دیکھا۔

مریم سو رہی تھی…
یا شاید سونے کی اداکاری کر رہی تھی۔

اس کے ہاتھ میں بھی فون تھا۔

وہ بھی اسکرول کر رہی تھی۔

علی نے پہلی بار عجیب سا محسوس کیا۔

“یہ کب ہوا…؟”

وہ جو لڑکی اس کے ایک “ہوں” پر ناراض ہو جاتی تھی…
آج خود اس کی طرح ہو گئی تھی۔

اب وہ بھی بات نہیں کرتی تھی۔

صرف اسکرین سے بات کرتی تھی۔

چند دن بعد…
علی گھر آیا تو مریم کچن میں نہیں تھی۔

نہ ہال میں۔

نہ بیڈروم میں۔

صرف ایک پرچی تھی۔

“میں کہیں نہیں جا رہی…
بس تھوڑی دیر کے لیے خود کو ڈھونڈنے جا رہی ہوں۔
تم سے نہیں ہاری…
تمہارے فون سے ہار گئی ہوں…”

علی کے ہاتھ سے موبائل گر گیا۔

پہلی بار…
خاموشی نے اسے کاٹا۔

اس نے فوراً کال کی۔

“مریم… سنو…”

دوسری طرف سے آواز آئی،
“اب میں مصروف ہوں… بعد میں بات کرتی ہوں…”

وہی جملہ۔

وہی انداز۔

جو وہ ہمیشہ بولتا تھا۔

علی بیٹھ گیا۔

اسے پہلی بار سمجھ آیا—

بے وفائی ہمیشہ کسی تیسرے انسان سے نہیں ہوتی…
کبھی کبھی ایک چھوٹی سی اسکرین بھی رشتہ چرا لیتی ہے۔

اس رات…
علی نے موبائل بند کیا۔

پہلی بار۔

گھر خاموش تھا…
لیکن دل شور کر رہا تھا۔

اگلے دن…
وہ مریم کے پاس گیا۔

کوئی لمبی تقریر نہیں کی۔

صرف اس کا ہاتھ پکڑا…
اور آہستہ سے کہا،

“میں تمہیں کھو رہا تھا… اور مجھے پتہ بھی نہیں چلا…”

مریم نے اس کی طرف دیکھا۔

لمبے عرصے بعد…
آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر۔

“رشتہ ایک دن میں نہیں ٹوٹتا علی…”
وہ آہستہ بولی،
“روز تھوڑا تھوڑا مر جاتا ہے…”

خاموشی چھا گئی۔

پھر اس نے اس کا ہاتھ تھوڑا مضبوطی سے تھام لیا۔

“لیکن اگر دونوں چاہیں…
تو دوبارہ زندہ بھی ہو سکتا ہے…”

اس دن کے بعد…
انہوں نے ایک چھوٹا سا اصول بنایا—

بیڈروم میں موبائل نہیں۔
کھانے پر موبائل نہیں۔

اور روز… کم از کم ایک گھنٹہ—
صرف ایک دوسرے کے لیے۔

شروع میں عجیب لگا۔
خاموشی بھی ہوئی۔
جھگڑے بھی ہوئے۔

لیکن آہستہ آہستہ…

وہ ہنسی واپس آ گئی
جو کبھی گم ہو گئی تھی۔

وہ باتیں واپس آ گئیں
جو “ایک منٹ” میں کھو گئی تھیں۔

اور وہ رشتہ…
جو اسکرین کے پیچھے مر رہا تھا…
دوبارہ سانس لینے لگا۔

کیونکہ سچ یہ ہے—

موبائل ہمیں دنیا سے جوڑتا ہے…
لیکن اگر احتیاط نہ کریں…
تو ہمیں اپنے ہی لوگوں سے توڑ دیتا ہے۔

آج رات…
فون سائیڈ پر رکھ کر دیکھو…

شاید جس شخص کو تم نظر انداز کر رہے ہو…
وہ تمہاری پوری دنیا ہو۔ ❤️

Related Articles

Check Also
Close
Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/