منتخب غزلیں

رئیس نیازی کا یومِ وفات اصلی نام :غلام حسنین پیدائ…

رئیس نیازی کا یومِ وفات
اصلی نام :غلام حسنین
پیدائش : Aug 24, 1920 | بچھراوں, اتر پردیش
وفات : Jul 16, 1994 | سونی پت, ہریانہ
……………..
تمہاری بزم میں مجھ تک بھی جام آیا تو
وفور شوق نے کوئی مقام پایا تو

قدم قدم پہ ہماری ہی آزمائش ہے
اگر تمہیں کسی منزل پہ آزمایا تو

ہم اپنی تاب نظر سے بہت پشیماں ہیں
پھر اب کی بار ہمیں کچھ نظر نہ آیا تو

دل تباہ سے شاید کوئی کرن پھوٹی
حریم شوق کا ہر گوشہ جگمگایا تو

تمہارے غم کو متاع حیات سمجھا ہوں
بہ اتفاق یہ غم بھی نہ راس آیا تو

مجھے ستاؤ بڑے شوق سے ستاؤ تم
مجھے ستا کے بھی تم نے نہ چین پایا تو
…………………
اب یہ عالم ہے کہ جس شے پہ نظر جاتی ہے
ہو بہ ہو آپ کی تصویر نظر آتی ہے

خود کو تاریخ کسی وقت جو دہراتی ہے
میرے حالات پہ دنیا کو ہنسا جاتی ہے

یاد ایام بہاراں بھی نہیں وجہ سکوں
اب تو تزئین قفس ہی مجھے بہلاتی ہے

برق بن بن کے گری ہے مرے دل پر اکثر
وہ تجلی جو سر طور نظر آتی ہے

آج کچھ ان کی توجہ میں کمی پاتا ہوں
زندگی موت سے دو چار ہوئی جاتی ہے

دل بھر آتا ہے مرا دیکھ کے نم آنکھ کوئی
اپنے رونے پہ تو اب مجھ کو ہنسی آتی ہے

میں وہ اک ننگ زمانہ ہوں ازل ہی سے رئیسؔ
زندگی ہے کہ مرے نام سے شرماتی ہے
….
مزاج نغمہ و شعر و شراب پیدا کر
حیات عشق میں کچھ آب و تاب پیدا کر

نظر کو خیرگئ شوق بے پناہ ملے
ہر ایک ذرے سے وہ آفتاب پیدا کر

شکست خواب کے با وصف بند ہیں آنکھیں
پھر ایک بار تماشائے خواب پیدا کر

یہ بے نیازئ تزئین آئنہ کب تک
کبھی کبھی تو خود اپنا جواب پیدا کر

ہر ایک ذرہ ہے معمورۂ جمال حبیب
دل حزیں نگۂ کامیاب پیدا کر

دل و نگاہ کو دھوکے بھی راس آئے ہیں
وفور تشنہ لبی میں سراب پیدا کر

نہ کر شکایت دوراں نہ بن حریف زماں
مصیبتوں کا کوئی سد باب پیدا کر

پہنچ بلند مقامات شعر و نغمہ تک
ادب میں ایک دل آویز باب پیدا کر

غرض تو یہ ہے ترا مرکز نگاہ رہوں
سکون دل نہ سہی اضطراب پیدا کر

رئیسؔ تجھ کو تو مرنے کی بھی نہیں فرصت
کہا تھا کس نے کہ ایسے عذاب پیدا کر
….
حیات عشق کی خورشید سامانی نہیں جاتی
مٹا جاتا ہے دل ذروں کی تابانی نہیں جاتی

جو کل تک کھیل سمجھے تھے ہمیں برباد کر دینا
اب ان مغرور نظروں کی پشیمانی نہیں جاتی

ہمیں پر لطف کی بارش ہے لیکن وائے نادانی
ہمیں سے وہ نگاہ لطف پہچانی نہیں جاتی

وطن کیا جرأت اہل جنوں سے ہو گیا خالی
خرد کی قوت تجدید ویرانی نہیں جاتی

بہار آئی کھلے غنچے مگر اے ناظم گلشن
ہمارے آشیاں کی شعلہ سامانی نہیں جاتی

مری صہبا کی عظمت صرف اہل دل سمجھتے ہیں
پئے جاتا ہوں لیکن پاک دامانی نہیں جاتی

یہ کس کافر ادا کا جلوۂ معصوم دیکھا ہے
رئیسؔ اب تک مری نظروں کی حیرانی نہیں جاتی
……………………………..


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/