منتخب غزلیں

عقیل دانش کا یومِ پیدائش July 15, 1940 اس مریض غم …

عقیل دانش کا یومِ پیدائش
July 15, 1940
اس مریض غم غربت کو سنبھالا دے دو
ذہن تاریک کو یادوں کا اجالا دے دو
ہم ہیں وہ لوگ کہ بے قوم وطن کہلائے
ہم کو جینے کے لئے کوئی حوالہ دے دو
میں بھی سچ کہتا ہوں اس جرم میں دنیا والو
میرے ہاتھوں میں بھی اک زہر کا پیالہ دے دو
اب بھی کچھ لوگ محبت پہ یقیں رکھتے ہیں
ہو جو ممکن تو انہیں دیس نکالا دے دو
وہ نرالے ہیں کرو ذکر تم ان کا دانشؔ
اپنی غزلوں کو بھی انداز نرالا دے دو
……
کتنے سوال سب کی نگاہوں میں رکھ دیئے
گھر کے سبھی چراغ ہواؤں میں رکھ دیئے
یہ انقلاب گردش دوراں تو دیکھیے
اجسام کیسے کیسی قباؤں میں رکھ دیئے
محفل میں شعر ہی نہیں کچھ روشنی بہ دوش
انوار ہم نے دل کی فضاؤں میں رکھ دیئے
ہر شخص چاہتا ہے کہ ہوں اس پہ آشکار
اسرار تو نے کیسے گناہوں میں رکھ دیئے
فطرت کا یہ ستم بھی ہے دانشؔ عجیب چیز
سر کیسے کیسے کیسی کلاہوں میں رکھ دیئے
……………………….


Related Articles

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/