منتخب نظمیں
میری نند نے میری مہندی والے دن میرے bridal setup …
🌵💥 میری نند نے میری مہندی والے دن میرے bridal setup پر کانٹوں والے کیکٹس رکھ دیے تھے۔ 💔😑
میرا نام مائرہ ہے۔
اور میری شادی احسن سے ہونے والی تھی۔
لاہور کے ایک پڑھے لکھے، بظاہر مہذب خاندان میں۔
منگنی کو دو سال ہو چکے تھے۔
شروع میں مجھے لگتا تھا احسن بہت مختلف ہے۔
نرم مزاج۔
سمجھدار۔
اور اُن مردوں جیسا نہیں جو شادی کے بعد بیوی کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔
مگر بعض لوگ شروع میں محبت نہیں دکھاتے…
صرف اپنا بہترین کردار ادا کرتے ہیں۔
اصل انسان وقت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
شادی سے دو دن پہلے ہمارے گھر مہندی کی تقریب تھی۔
صحن میں پیلی روشنیوں کی لڑیاں لگی ہوئی تھیں۔
ڈھولکی کی آوازیں آ رہی تھیں۔
خالائیں گانے گا رہی تھیں۔
اور امّی ہر چند منٹ بعد میرے ماتھے کو چوم لیتی تھیں۔
“بس اب ہماری بیٹی اپنے گھر چلی جائے گی…”
اُن کی آنکھوں میں خوشی بھی تھی…
اور وہی پرانا ماں والا خوف بھی۔
احسن کی فیملی بھی آئی ہوئی تھی۔
اُن میں عنایا بھی تھی۔
میری ہونے والی نند۔
شروع دن سے ہی اُس کے رویّے میں ایک عجیب سی تلخی تھی۔
اگر احسن میرے لیے کچھ لے آتا تو اُس کا mood خراب ہو جاتا۔
اگر وہ میرے ساتھ زیادہ وقت گزار لیتا تو وہ کئی دن منہ بنائے رکھتی۔
پہلے مجھے لگا شاید بھائی سے attachment زیادہ ہے۔
پھر آہستہ آہستہ محسوس ہوا…
یہ صرف محبت نہیں۔
یہ possessiveness ہے۔
اور possessiveness جب حد سے بڑھ جائے…
تو رشتے بیمار ہو جاتے ہیں۔
رات تقریباً گیارہ بجے کی بات ہے۔
مہندی تقریباً ختم ہو چکی تھی۔
زیادہ تر مہمان جا چکے تھے۔
میں اپنے کمرے میں آئی تاکہ کپڑے بدل سکوں۔
یہ وہی کمرہ تھا جہاں میرا bridal setup بنایا گیا تھا۔
آئینے کے گرد پھول، sofa پر cushions، اور سامنے امّی کی بڑی محبت سے رکھی ہوئی میری چوڑیاں۔
مگر جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی…
میرے قدم وہیں رک گئے۔
میرے bridal sofa پر چھوٹے چھوٹے cactus کے گملے رکھے تھے۔
کانٹے ہی کانٹے۔
اور درمیان میں ایک folded paper پڑا تھا۔
میں نے کانپتے ہاتھوں سے اُسے کھولا۔
اُس پر لکھا تھا:
“میرے بھائی کی زندگی میں جگہ بنانا اتنا آسان نہیں جتنا تم سمجھتی ہو…”
میرا گلا خشک ہو گیا۔
اُسی لمحے پیچھے سے ہنسی کی آواز آئی۔
عنایا دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔
“کیسا لگا surprise؟”
میں کافی دیر اُسے دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے پوچھا:
“یہ سب کیا ہے؟”
وہ کندھے اچکا کر بولی:
“Warning ہے۔
بھائی شادی کر رہے ہیں…
تمہیں اُن پر حکومت نہیں مل رہی…”
اُس کی امّی فوراً وہاں آ گئیں۔
“عنایا! یہ کیا حرکت ہے؟”
مگر عنایا ہنسنے لگی۔
“اتنی serious کیوں ہو رہے ہیں سب؟
مزاق تھا…”
مزاق۔
لوگ اکثر سب سے بڑی بےعزتی کو
“مزاق” کہہ کر بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں نے فوراً احسن کو call کی۔
وہ چند منٹ بعد اوپر آیا۔
اور قسم سے…
میں اُس ایک لمحے میں صرف یہ چاہتی تھی
کہ وہ آتے ہی کہے:
“عنایا، enough.”
بس اتنا۔
مگر اُس نے آتے ہی تھکے ہوئے انداز میں کہا:
“یار مائرہ… تم بھی ہر بات دل پر لے لیتی ہو…”
میرا دل جیسے اندر سے بیٹھ گیا۔
میں نے حیرت سے پوچھا:
“تمہیں یہ سب normal لگ رہا ہے؟”
وہ آہستہ سے بولا:
“عنایا emotionally attached ہے مجھ سے۔
تمہیں تھوڑا adjust کرنا پڑے گا…”
Adjust؟
آج وہ میرے bridal setup پر کانٹے رکھ رہی تھی۔
کل شاید میری عزت روندی جاتی۔
اور ہر بار مجھ سے یہی کہا جاتا:
“سمجھداری دکھاؤ…”
اتنے میں ابو بھی اوپر آ گئے۔
انہوں نے خاموشی سے وہ cactus اٹھائے…
اور ایک طرف رکھ دیے۔
پھر پہلی بار احسن کی طرف دیکھ کر بولے:
“بیٹا…
شادی وہاں کامیاب ہوتی ہے جہاں مرد اپنی بیوی کو تحفظ دے۔
امتحان یہ نہیں کہ تم اپنی بہن سے محبت کرتے ہو یا نہیں…
امتحان یہ ہے کہ تم حق کے وقت کس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہو…”
احسن خاموش رہا۔
عنایا فوراً بولی:
“اگر بھائی نے اِس لڑکی کی طرفداری کی نا… تو میں گھر چھوڑ دوں گی!”
اور احسن؟
وہ فوراً اُس کے پاس چلا گیا۔
“بس عنایا… calm down…”
قسم سے…
اُسی لمحے مجھے اپنا پورا مستقبل نظر آ گیا تھا۔
ہر بار…
مجھے ہی قربانی دینا ہوگی۔
ہر بار…
مجھے ہی چپ رہنا ہوگا۔
ہر بار…
کسی اور کی خوشی کیلئے میری عزت قربان ہوگی۔
میں نے آہستہ سے اپنی انگوٹھی اُتاری۔
اور احسن کے ہاتھ پر رکھ دی۔
“مجھے شوہر چاہیے…
ایسا مرد نہیں
جو ہر غلط بات کے بعد مجھے ہی سمجھوتہ سکھائے…”
کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
امّی کی آنکھیں بھر آئیں۔
مگر ابو نے پہلی بار سکون کا سانس لیا۔
اور میں؟
میں اُس رات ٹوٹی نہیں تھی۔
میں بچ گئی تھی۔ 🌙
میرا نام مائرہ ہے۔
اور میری شادی احسن سے ہونے والی تھی۔
لاہور کے ایک پڑھے لکھے، بظاہر مہذب خاندان میں۔
منگنی کو دو سال ہو چکے تھے۔
شروع میں مجھے لگتا تھا احسن بہت مختلف ہے۔
نرم مزاج۔
سمجھدار۔
اور اُن مردوں جیسا نہیں جو شادی کے بعد بیوی کو تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔
مگر بعض لوگ شروع میں محبت نہیں دکھاتے…
صرف اپنا بہترین کردار ادا کرتے ہیں۔
اصل انسان وقت کے ساتھ سامنے آتا ہے۔
شادی سے دو دن پہلے ہمارے گھر مہندی کی تقریب تھی۔
صحن میں پیلی روشنیوں کی لڑیاں لگی ہوئی تھیں۔
ڈھولکی کی آوازیں آ رہی تھیں۔
خالائیں گانے گا رہی تھیں۔
اور امّی ہر چند منٹ بعد میرے ماتھے کو چوم لیتی تھیں۔
“بس اب ہماری بیٹی اپنے گھر چلی جائے گی…”
اُن کی آنکھوں میں خوشی بھی تھی…
اور وہی پرانا ماں والا خوف بھی۔
احسن کی فیملی بھی آئی ہوئی تھی۔
اُن میں عنایا بھی تھی۔
میری ہونے والی نند۔
شروع دن سے ہی اُس کے رویّے میں ایک عجیب سی تلخی تھی۔
اگر احسن میرے لیے کچھ لے آتا تو اُس کا mood خراب ہو جاتا۔
اگر وہ میرے ساتھ زیادہ وقت گزار لیتا تو وہ کئی دن منہ بنائے رکھتی۔
پہلے مجھے لگا شاید بھائی سے attachment زیادہ ہے۔
پھر آہستہ آہستہ محسوس ہوا…
یہ صرف محبت نہیں۔
یہ possessiveness ہے۔
اور possessiveness جب حد سے بڑھ جائے…
تو رشتے بیمار ہو جاتے ہیں۔
رات تقریباً گیارہ بجے کی بات ہے۔
مہندی تقریباً ختم ہو چکی تھی۔
زیادہ تر مہمان جا چکے تھے۔
میں اپنے کمرے میں آئی تاکہ کپڑے بدل سکوں۔
یہ وہی کمرہ تھا جہاں میرا bridal setup بنایا گیا تھا۔
آئینے کے گرد پھول، sofa پر cushions، اور سامنے امّی کی بڑی محبت سے رکھی ہوئی میری چوڑیاں۔
مگر جیسے ہی میں اندر داخل ہوئی…
میرے قدم وہیں رک گئے۔
میرے bridal sofa پر چھوٹے چھوٹے cactus کے گملے رکھے تھے۔
کانٹے ہی کانٹے۔
اور درمیان میں ایک folded paper پڑا تھا۔
میں نے کانپتے ہاتھوں سے اُسے کھولا۔
اُس پر لکھا تھا:
“میرے بھائی کی زندگی میں جگہ بنانا اتنا آسان نہیں جتنا تم سمجھتی ہو…”
میرا گلا خشک ہو گیا۔
اُسی لمحے پیچھے سے ہنسی کی آواز آئی۔
عنایا دروازے سے ٹیک لگائے کھڑی تھی۔
“کیسا لگا surprise؟”
میں کافی دیر اُسے دیکھتی رہی۔
پھر آہستہ سے پوچھا:
“یہ سب کیا ہے؟”
وہ کندھے اچکا کر بولی:
“Warning ہے۔
بھائی شادی کر رہے ہیں…
تمہیں اُن پر حکومت نہیں مل رہی…”
اُس کی امّی فوراً وہاں آ گئیں۔
“عنایا! یہ کیا حرکت ہے؟”
مگر عنایا ہنسنے لگی۔
“اتنی serious کیوں ہو رہے ہیں سب؟
مزاق تھا…”
مزاق۔
لوگ اکثر سب سے بڑی بےعزتی کو
“مزاق” کہہ کر بچانے کی کوشش کرتے ہیں۔
میں نے فوراً احسن کو call کی۔
وہ چند منٹ بعد اوپر آیا۔
اور قسم سے…
میں اُس ایک لمحے میں صرف یہ چاہتی تھی
کہ وہ آتے ہی کہے:
“عنایا، enough.”
بس اتنا۔
مگر اُس نے آتے ہی تھکے ہوئے انداز میں کہا:
“یار مائرہ… تم بھی ہر بات دل پر لے لیتی ہو…”
میرا دل جیسے اندر سے بیٹھ گیا۔
میں نے حیرت سے پوچھا:
“تمہیں یہ سب normal لگ رہا ہے؟”
وہ آہستہ سے بولا:
“عنایا emotionally attached ہے مجھ سے۔
تمہیں تھوڑا adjust کرنا پڑے گا…”
Adjust؟
آج وہ میرے bridal setup پر کانٹے رکھ رہی تھی۔
کل شاید میری عزت روندی جاتی۔
اور ہر بار مجھ سے یہی کہا جاتا:
“سمجھداری دکھاؤ…”
اتنے میں ابو بھی اوپر آ گئے۔
انہوں نے خاموشی سے وہ cactus اٹھائے…
اور ایک طرف رکھ دیے۔
پھر پہلی بار احسن کی طرف دیکھ کر بولے:
“بیٹا…
شادی وہاں کامیاب ہوتی ہے جہاں مرد اپنی بیوی کو تحفظ دے۔
امتحان یہ نہیں کہ تم اپنی بہن سے محبت کرتے ہو یا نہیں…
امتحان یہ ہے کہ تم حق کے وقت کس کے ساتھ کھڑے ہوتے ہو…”
احسن خاموش رہا۔
عنایا فوراً بولی:
“اگر بھائی نے اِس لڑکی کی طرفداری کی نا… تو میں گھر چھوڑ دوں گی!”
اور احسن؟
وہ فوراً اُس کے پاس چلا گیا۔
“بس عنایا… calm down…”
قسم سے…
اُسی لمحے مجھے اپنا پورا مستقبل نظر آ گیا تھا۔
ہر بار…
مجھے ہی قربانی دینا ہوگی۔
ہر بار…
مجھے ہی چپ رہنا ہوگا۔
ہر بار…
کسی اور کی خوشی کیلئے میری عزت قربان ہوگی۔
میں نے آہستہ سے اپنی انگوٹھی اُتاری۔
اور احسن کے ہاتھ پر رکھ دی۔
“مجھے شوہر چاہیے…
ایسا مرد نہیں
جو ہر غلط بات کے بعد مجھے ہی سمجھوتہ سکھائے…”
کمرے میں مکمل خاموشی چھا گئی۔
امّی کی آنکھیں بھر آئیں۔
مگر ابو نے پہلی بار سکون کا سانس لیا۔
اور میں؟
میں اُس رات ٹوٹی نہیں تھی۔
میں بچ گئی تھی۔ 🌙
#ToxicLove #toxicpeople #EmotionalStory #storytelling #intikhabesukhan