سکول کی آخری گھنٹی بجنے میں ابھی چند منٹ باقی تھے …
اس کی کلائی میں بندھی پرانی چاندی کی گھڑی بار بار ڈھیلی ہو کر نیچے سرک جاتی، اور وہ ہر جملے کے ساتھ اسے اوپر چڑھا لیتی۔
یہی گھڑی اس کا واحد زیور تھی۔
"اگر میرے بیٹے کو روز سب کے سامنے ذلیل کرنا ہی تھا تو داخلہ کیوں دیا تھا؟”
ریسپشن پر بیٹھی کلرک نے نظریں چرائیں، کلاس ٹیچر نے پانی کا گلاس آگے بڑھایا، مگر عورت نے ہاتھ تک نہ لگایا۔ اس کی آواز میں صرف غصہ نہیں تھا؛ کئی راتوں کی بے خوابی، کئی مہینوں کی خاموش جنگ، اور کئی برسوں کی تنہائی ایک ساتھ بول رہی تھی۔
وہ تیس برس سے بھی کم عمر بیوہ تھی۔
شوہر کو گزرے صرف دو سال ہوئے تھے۔
اب اس کی پوری دنیا سات سالہ اذان تھا… وہی بچہ جس کی شرارتوں کی فائل ہر ہفتے موٹی ہوتی جا رہی تھی۔
کبھی لڑائی۔
کبھی کاپی پھاڑ دینا۔
کبھی کلاس سے بھاگ جانا۔
آخرکار اسے پرنسپل کے دفتر بھیج دیا گیا۔
—
کمرے میں داخل ہوتے ہی عورت نے سلام کیا بھی نہیں۔
"آپ لوگ تعلیم دیتے ہیں یا بچوں کا اعتماد توڑتے ہیں؟ ہر دوسرے دن مجھے بلا لیتے ہیں۔ کبھی کسی نے یہ پوچھا کہ بچہ ایسا کیوں ہے؟”
پروفیسر حارث نے میز پر رکھی فائل بند کر دی۔
بس اتنا کیا۔
انہوں نے ایک لفظ نہیں کہا۔
عورت بولتی رہی۔
کمرے کی دیوار پر لگی گھڑی کی ٹک ٹک اس کی آواز کے درمیان کہیں دب گئی۔
وہ کبھی استادوں پر برستی، کبھی نصاب پر، کبھی اس معاشرے پر جہاں ہر ضدی بچہ بدتمیز سمجھ لیا جاتا ہے۔
اور پروفیسر صرف سنتے رہے۔
درمیان میں ایک بار بھی نہیں ٹوکا۔
جب خاموشی آئی تو پہلی بار کمرے میں پنکھے کی چرچراہٹ سنائی دی۔
پروفیسر نے اپنی عینک اتاری، رومال سے شیشے صاف کیے، پھر مسکرا کر بولے۔
"ایک بات پہلے ہی واضح کر دوں، خاتون۔”
وہ چونک کر سیدھی ہو بیٹھی۔
"یہ مت سمجھیے گا کہ میں آپ کے حسن کے رعب میں خاموش رہا ہوں۔ ایسا بھی نہیں کہ آپ کی روشن پیشانی یا جھیل جیسی آنکھوں نے مجھے بے زبان کر دیا۔ میں نہ غالب ہوں کہ کسی کے شیریں لبوں سے ڈانٹ کھا کر شعر کہنے لگوں، نہ میر کہ کسی کالے تل میں کائنات تلاش کرتا پھروں۔”
عورت کے ماتھے کی شکن ذرا سی بدلی۔
پروفیسر نے اسی سکون سے بات جاری رکھی۔
"میں اس لیے خاموش تھا کہ غصے میں آدمی اپنی اصل تکلیف بتا دیتا ہے، اگر اسے درمیان میں نہ روکا جائے۔”
کمرے میں پھر خاموشی اتر آئی۔
"آپ ابھی تک اپنے بیٹے کی شکایت نہیں کر رہیں… آپ اپنے شوہر کی موت سے لڑ رہی ہیں۔”
عورت کی انگلیاں بے اختیار اپنی چاندی کی گھڑی پر جا رکیں۔
وہی گھڑی۔
جو شوہر نے پہلی تنخواہ سے خرید کر دی تھی۔
پروفیسر نے فائل اس کی طرف سرکا دی۔
"میں نے اذان کی کاپیاں دیکھی ہیں۔”
انہوں نے ایک صفحہ کھولا۔
اس پر ہر صفحے کے کونے میں ایک ہی تصویر بنی تھی۔
ایک آدمی۔
اور اس کے ہاتھ میں گھڑی۔
"یہ ہر جگہ اپنے والد کو بناتا ہے۔”
عورت کی سانس جیسے کہیں اٹک گئی۔
"بچہ لڑ نہیں رہا، وہ ہر روز کسی کو سزا دے رہا ہے… شاید اس موت کو، جسے وہ سمجھ نہیں پایا۔”
پہلی بار اس عورت نے نظریں جھکا دیں۔
غصہ کرسی پر رہ گیا تھا۔
صرف تھکن اس کے ساتھ بیٹھی تھی۔
—
اس دن کوئی فیصلہ نہیں ہوا۔
نہ معافی مانگی گئی۔
نہ معافی دی گئی۔
صرف یہ طے ہوا کہ ہر جمعے اذان آدھا گھنٹہ پرنسپل کے دفتر میں بیٹھا کرے گا۔
کبھی شطرنج کھیلتے۔
کبھی خاموش تصویریں بناتے۔
کبھی دونوں کچھ بھی نہ بولتے۔
—
مہینوں بعد اذان نے پہلی بار اپنے والد کی تصویر بغیر گھڑی کے بنائی۔
پروفیسر نے کچھ نہیں کہا۔
بس تصویر تہہ کر کے اس کی فائل میں رکھ دی۔
—
وقت عجیب مستری ہے۔
جو چیزیں جوڑ نہیں سکتا، ان کے ساتھ جینا سکھا دیتا ہے۔
دو برس بعد وہی عورت اسکول کی لائبریری میں بچوں کو کہانیاں پڑھانے لگی۔
پھر مستقل ملازمت۔
پھر انتظامی ذمہ داریاں۔
پھر ایک دن پورا اسکول حیران رہ گیا جب خبر پھیلی کہ پروفیسر حارث نے اسی خاتون سے نکاح کر لیا ہے۔
کسی نے سرگوشی میں کہا،
"پروفیسر صاحب نے تو خوب بازی جیت لی۔”
پروفیسر مسکرا دیے۔
"نہیں…”
"میں نے صرف اس دن ایک ماں کی بات پوری سن لی تھی، جسے دنیا ہر جگہ بیچ میں ٹوک دیتی تھی۔”
—
کئی برس بعد، جب وہ خاتون اسی اسکول کی وائس پرنسپل تھیں، ان کی کلائی میں اب بھی وہی پرانی چاندی کی گھڑی بندھی رہتی۔
کسی نے ایک دن پوچھ لیا،
"اتنی پرانی گھڑی ابھی تک؟”
وہ ہلکا سا مسکرائیں۔
"یہ وقت نہیں بتاتی…”
"…یہ یاد دلاتی ہے کہ بعض رشتے بولنے سے نہیں، پوری بات سن لینے سے شروع ہوتے ہیں۔”
افسانہ: گھڑی
©️ انتخاب سخن
#teachingandlearning #urduadab #studentlife #lifelessons