“میں نے صرف 15 منٹ کے لیے کلاس میں موبائل اور لیپ…
کل میں نے کلاس وقت سے 15 منٹ پہلے ختم کر دی۔
بچے خوش ہو گئے۔
کرسیاں پیچھے ہوئیں، بیگ بند ہوئے۔
اور پھر تقریباً سب نے ایک ساتھ لیپ ٹاپ کھول لیے۔
میں نے فوراً کہا،
“نہیں، آج کوئی سکرین نہیں۔”
کلاس میں ایک ساتھ آواز آئی،
“سر پلیز…”
میں مسکرایا،
“آج بس ایک کام کرو۔ آمنے سامنے بیٹھ کر بات کرو…”
چند سیکنڈ کی خاموشی چھا گئی۔
ایسی خاموشی جو عام نہیں تھی۔
پھر کلاس کے ایک کونے میں زندگی لوٹ آئی۔
“یار، تم اصل میں اتنے مزاحیہ ہو؟”
“پتہ نہیں، شاید ہم نے کبھی بات ہی نہیں کی…”
ہنسی گونجی،
آنکھوں میں چمک آئی۔
جیسے کسی نے سکرین کے پیچھے چھپا انسان دوبارہ جگا دیا ہو۔
ایک میز پر تین لڑکیاں بیٹھی تھیں۔
“تم گھر جا کر کیا کرتی ہو؟”
“فون…”
“میں بھی…”
پھر ایک نے آہستہ سے کہا،
“آج پہلی بار لگ رہا ہے جیسے ہم واقعی دوست ہیں…”
وہ لمحہ بہت خوبصورت تھا۔
لیکن…
کلاس کے دوسرے حصے میں کچھ اور ہو رہا تھا۔
دو لڑکے سر جھکائے بیٹھے تھے۔
ایک انگلیاں میز پر چلا رہا تھا، جیسے خیالی سکرین ہو۔
دوسرا بار بار دروازے کی طرف دیکھ رہا تھا، جیسے باہر نکلنے کا راستہ ڈھونڈ رہا ہو۔
میں اُن کے پاس گیا،
“بیٹا، بات کرو…”
وہ ہلکا سا مسکرایا، مگر خالی،
“سر… کیا بات کریں؟”
میں وہیں رک گیا۔
“کیا بات کریں؟”
یہ صرف ایک سوال نہیں تھا۔
یہ ایک پوری نسل کی خاموشی تھی۔
ایک لڑکی نے آہستہ سے کہا،
“سر… ہم عادی نہیں ہیں…”
عادی نہیں ہیں۔
ہم نے اُنہیں سب کچھ سکھایا۔
انگریزی بولنا،
ٹیکنالوجی استعمال کرنا،
پریزنٹیشن دینا۔
لیکن ہم اُنہیں یہ نہیں سکھا سکے کہ کسی کی آنکھوں میں دیکھ کر بات کیسے کی جاتی ہے۔
ہم نے اُن کے ہاتھوں میں موبائل دے دیے،
اور اُن کے دلوں سے رشتے چھین لیے۔
ہم نے اُنہیں سکرین پر ہنسانا سکھایا،
لیکن سامنے بیٹھے انسان کے ساتھ ہنسنا بھلا دیا۔
کلاس ختم ہوئی۔
بچے چلے گئے۔
لیکن ایک سوال چھوڑ گئے۔
اگر سکرین ہٹا دی جائے،
تو کیا ہم اب بھی ایک دوسرے کو سمجھ سکتے ہیں؟
سچ تھوڑا کڑوا ہے،
لیکن سننا ضروری ہے۔
یہ بچے غلط نہیں ہیں۔
یہ ہم ہیں۔
ہم جو کھانے کی میز پر بھی فون دیکھتے ہیں۔
ہم جو بچوں کی بات آدھی سنتے ہیں، آدھی سکرول کرتے ہیں۔
ہم جو کہتے ہیں “بس ایک منٹ”، اور وہ ایک منٹ سالوں میں بدل جاتا ہے۔
آج ایک بچے نے مجھ سے کہا،
“سر… جب گھر میں سب فون پر ہوتے ہیں، تو میں کس سے بات کروں؟”
میرے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
آپ کے پاس ہے؟
آج رات ایک چھوٹا سا تجربہ کریں۔
فون ایک طرف رکھ دیں۔
ٹی وی بند کر دیں۔
اور اپنے بچے کے پاس بیٹھ کر صرف یہ پوچھیں،
“آج تم کیسا محسوس کر رہے ہو؟”
شاید وہ فوراً جواب نہ دے۔
شاید تھوڑی جھجک ہو۔
لیکن یاد رکھیں،
ہر مضبوط رشتہ ایک چھوٹی سی بات سے شروع ہوتا ہے۔
کیونکہ بچے ہمیں سن کر نہیں، ہمیں دیکھ کر سیکھتے ہیں۔
رشتے وائی فائی سے نہیں، وقت سے جڑتے ہیں۔
اور اگر ہم نے ابھی نہیں بدلا،
تو کل ہمیں وہ بچے ملیں گے جو سب کچھ سمجھتے ہوں گے،
مگر کسی سے کہہ نہیں سکیں گے۔
اب فیصلہ آپ کا ہے۔
آپ اپنے بچوں کو سکرین دیں گے،
یا اپنا آپ؟ ❤️
© ~Intikhaab-E-Sukhan~