ذرا تصور کرو..، آدھی رات کے سناٹے میں تمہارے درواز…
ذرا تصور کرو..،
آدھی رات کے سناٹے میں تمہارے دروازے پر دستک ہو،
تم ہڑبڑا کر اٹھو، دروازہ کھولو اور سامنے مجھے پاؤ،
وہی پرانی مسکراہٹ اور وہی تھکی ہوئی آنکھیں۔
تم سوال نہ کرو، بس خاموشی سے چائے بناؤ،
فریج سے سینڈوچ نکال کر گرم کرو،
اور ہم سیڑھیاں چڑھ کر چھت کے اس کونے میں جا بیٹھیں،
جہاں چاند کی روشنی دھندلی پڑ رہی ہو۔
رات تین بجنے تک ہم یادوں کے تانے بانے بنتے رہیں،
چائے کی بھاپ میں پرانی باتیں تازہ ہوں،
ہوا ہلکی ہو، ٹھنڈک پوروں میں اترنے لگے،
اور خاموشی ہمیں اداس نہ کرے، کیونکہ ہمارا شور ہی کافی ہو۔
پھر اچانک، نیچے کمرے میں تمہارے فون کی گھنٹی بجے،
تم کہو، "میں ابھی دیکھ کر آتا ہوں”،
تم آہستہ سے اٹھو، نیچے جاؤ اور فون اٹھاؤ۔
دوسری طرف سے کوئی روتی ہوئی آواز میں کہے:
"وہ تو رات گیارہ بجے ہی اس دنیا سے رخصت ہو چکا…”
تمہارے ہاتھ سے فون چھوٹ جائے،
تمہاری سانسیں منجمد ہو جائیں،
اور تم بھاگتے ہوئے واپس چھت پر آؤ…
مگر وہاں صرف خالی کرسی ہو،
چائے کی پیالی سے دھواں اٹھنا بند ہو چکا ہو،
سینڈوچ کا ایک ٹکڑا وہیں پڑا ہو،
اور ہوا پہلے سے زیادہ سرد ہو گئی ہو۔
تب تم کیا کرو گے؟
کیا تم اس ٹھنڈی چائے کے سامنے بیٹھ کر
میرا انتظار کرو گے؟
یا اس خاموشی میں اپنی ہی چیخیں سنو گے؟
شور تو اب بھی ہوگا، مگر اب وہ ہمارا نہیں،
صرف تمہاری تنہائی کا ہوگا…