منتخب غزلیں
یہ سوچتے رہے منزل کبھی تو آئے گی گزار دی یونہی سار…

یہ سوچتے رہے منزل کبھی تو آئے گی
گزار دی یونہی ساری حیات رستے ہیں
…..
ڈاکٹرعابداللہ غازی کا یومِ وفات
April 11, 2021
.
ڈاکٹرعابداللہ غازی ۶ جولائی ۱۹۳۶ کو پیدا ہوے اورعلیگڑھ سے فارغ ہوے تو لندن وہارورڈ جامعات سے تعلیمی ڈگریاں لیں اورامریکہ میں قیام کے دوران اقرافاونڈیشن کے ذریعے بچوں کی دینی ودنیاوی تعلیم کے لئے ایک جامع نصاب مرتب کیا جس کی اشاعت سے قبل وہ جدہ میں اسپانسرشپ کے لئے پروگرام منعقد کرچکے تھے ۔ ۱۴۰ سے زیادہ کتابوں کے مصنف ، ستارہ امیتاز اورنشان امتیاز جیسے ایوارڈ حاصل کرنے والے ڈاکٹرعابداللہ انصاری غازی دراصل مجاہد آزادی محمد میاں منصور انصاری کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔
…
وہ یہ کہہ رہے ہیں ہم سے، نئی محفلیں سجاؤ
اُنہیںکیا خبر ہیں تازہ مرے درد کے الاؤ
مرا دل اُٹھا سکے گا نہ اُمید کی کرن بھی
مری شامِ غم میں لوگو نہ چراغ تم جلاؤ
مرے حال پر رفیقو! نہ دوا کی فکر کیجو
مجھے وحشتِ جنوں ہے، کوئی سنگ آزماؤ
یہ دماغ ڈھونڈتا ہے اُسی پیرہن کی خوشبو
کبھی اُس گلی سے ہو کر بھی نسیمِ صبح آؤ
ابھی غنچگی نے کھولی ہیں بہار میں نگاہیں
یہ حیاتِ مختصر ہے شب و روز مسکراؤ
ہیں بہت طویل عابد مری فرقتوں کی راتیں
کوئی دل کا تار چھیڑو کوئی شعر گنگناؤ
………………..
گزار دی یونہی ساری حیات رستے ہیں
…..
ڈاکٹرعابداللہ غازی کا یومِ وفات
April 11, 2021
.
ڈاکٹرعابداللہ غازی ۶ جولائی ۱۹۳۶ کو پیدا ہوے اورعلیگڑھ سے فارغ ہوے تو لندن وہارورڈ جامعات سے تعلیمی ڈگریاں لیں اورامریکہ میں قیام کے دوران اقرافاونڈیشن کے ذریعے بچوں کی دینی ودنیاوی تعلیم کے لئے ایک جامع نصاب مرتب کیا جس کی اشاعت سے قبل وہ جدہ میں اسپانسرشپ کے لئے پروگرام منعقد کرچکے تھے ۔ ۱۴۰ سے زیادہ کتابوں کے مصنف ، ستارہ امیتاز اورنشان امتیاز جیسے ایوارڈ حاصل کرنے والے ڈاکٹرعابداللہ انصاری غازی دراصل مجاہد آزادی محمد میاں منصور انصاری کے خانوادے سے تعلق رکھتے تھے۔
…
وہ یہ کہہ رہے ہیں ہم سے، نئی محفلیں سجاؤ
اُنہیںکیا خبر ہیں تازہ مرے درد کے الاؤ
مرا دل اُٹھا سکے گا نہ اُمید کی کرن بھی
مری شامِ غم میں لوگو نہ چراغ تم جلاؤ
مرے حال پر رفیقو! نہ دوا کی فکر کیجو
مجھے وحشتِ جنوں ہے، کوئی سنگ آزماؤ
یہ دماغ ڈھونڈتا ہے اُسی پیرہن کی خوشبو
کبھی اُس گلی سے ہو کر بھی نسیمِ صبح آؤ
ابھی غنچگی نے کھولی ہیں بہار میں نگاہیں
یہ حیاتِ مختصر ہے شب و روز مسکراؤ
ہیں بہت طویل عابد مری فرقتوں کی راتیں
کوئی دل کا تار چھیڑو کوئی شعر گنگناؤ
………………..



