Category: منتخب غزلیں
-

وامق جونپوری کی وفات November 21, 1998 وامق ان شا…
وامق جونپوری کی وفات November 21, 1998 وامق ان شاعروں میں سے ہیں جنہوں نے ترقی پسند فکر اور نظریے سے اپنی مضبوط وابستگی کی بنا پر اپنی ساری زندگی اور اپنی ساری صلاحیتیں اس کی تشہیر وتبلیغ کیلئے وقف کردی تھیں ۔ وامق نے ترقی پسند نظریے کے تحت شاعری کی اور اپنے اس…
-

وامق جونپوری مرے فکر و فن کو نئی فضا نئے بال و پر …
وامق جونپوری مرے فکر و فن کو نئی فضا نئے بال و پر کی تلاش ہے جو قفس کو یاس کے پھونک دے مجھے اس شرر کی تلاش ہے ہے عجیب عالم سرخوشی نہ شکیب ہے نہ شکستگی کبھی منزلوں سے گزر گئے کبھی رہ گزر کی تلاش ہے مجھے اس جنوں کی ہے جستجو…
-

بھوکا ہے بنگال ………. وامق جونپوری پورب دیس می…
بھوکا ہے بنگال ………. وامق جونپوری پورب دیس میں ڈگی باجی پھیلا سکھ کا حال دکھ کی آگنی کون بجھائے سوکھ گئے سب تال جن ہاتھوں میں موتی رو لے آج وہی کنگال آج وہی کنگال بھوکا ہے بنگال رے ساتھی بھوکا ہے بنگال پیٹھ سے اپنے پیٹ لگائے لاکھوں الٹے کھاٹ بھیک منگائی سے…
-

دیوانے، دیوانے ٹھہرے کھیل گئے انگاروں سے آبلہ پائی…
دیوانے، دیوانے ٹھہرے کھیل گئے انگاروں سے آبلہ پائی اب کوئی پوچھے ان ذہنی بیماروں سے بات تو جب ہے شعلے نکلیں بربط- دل کے تاروں سے شور نہیں نغمے پیدا ہوں تیغوں کی جھنکاروں سے کس نے بسایا تھا اور ان کو کس نے یوں برباد کیا اپنے لہو کی بو آتی ہے ان…
-

’’وامق ٹیڑھے تھے،اس بات کو انہوں نے اپنی زندگی میں…
’’وامق ٹیڑھے تھے،اس بات کو انہوں نے اپنی زندگی میں ثابت کردیا۔وہ ڈپٹی کلکٹر تھے اور ایسے پکے اپنے اصولوں کے تھے کہ بہت کم لوگ اس زمانے میں ایسے ڈپٹی کلکٹر تھے،انہوں نے اپنی نوکری ترک کردی،استعفی دے دیا اور کہتے رہے: چاکری کرتے ہوئے بھی ہم رہے آزادرو دست و پائے شوق میں…
-

امجد حیدرآبادی کی چند رباعیات …………………..
امجد حیدرآبادی کی چند رباعیات ……………….. ہر چیز مسبب سبب سے مانگو منت سے لجاجت سے ادب سے مانگو کیوں غیر کے آگے ہاتھ پھلاتے ہو گر بندے ہو رب کے تو رب سے مانگو ……….. اس سینے میں کائنات رکھ لی میں نے کیا ذکر صفات ذات رکھ لی میں نے ظالم سہی جاہل…
-

نہیں نِگاہ میں منزِل تو جُستجُو ہی سہی نہیں وِصال …
نہیں نِگاہ میں منزِل تو جُستجُو ہی سہی نہیں وِصال مُیسّر تو آرزُو ہی سہی نہ تن میں خُون فراہم نہ اشک آنکھوں میں نمازِ شوق تو واجب ہے بے وُضُو ہی سہی کسی طرح تو جمے بزم میکدے والو نہیں جو بادہ و ساغر تو ہاؤ ہُو ہی سہی گر اِنتِظار کٹھن ہے تو…
-

اطہر نفیس کی وفات Nov 21, 1980 21 نومبر 1980ء کو …
اطہر نفیس کی وفات Nov 21, 1980 21 نومبر 1980ء کو اردو کے ایک معروف اور معتبر غزل گو شاعر جناب اطہر نفیس کراچی میں وفات پاگئے۔ اطہرنفیس کا اصل نام کنور اطہر علی خان تھا۔ وہ 1933ء میں جگنیر ضلع علی گڑھ میں پیدا ہوئے تھے۔ جناب اطہر نفیس نے ابتدائی تعلیم مسلم یونیورسٹی…
-

سو رنگ ہیں کس رنگ سے تصویر بناؤں – اطہر نفیس سو ر…
سو رنگ ہیں کس رنگ سے تصویر بناؤں – اطہر نفیس سو رنگ ہیں کس رنگ سے تصویر بناؤں میرے تو کئی روپ ہیں، کس روپ میں آؤں کیوں آ کے ہر اک شخص میرے زخم کریدے کیوں میں بھی ہر اک شخص کو حال اپنا سناؤں کیوں لوگ مصر ہیں کہ سنیں میری کہانی…
-

وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا ا…
وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا اطہر نفیس وہ عشق جو ہم سے روٹھ گیا اب اس کا حال بتائیں کیا کوئی مہر نہیں کوئی قہر نہیں پھر سچا شعر سنائیں کیا اک ہجر جو ہم کو لاحق ہے تا دیر اسے دہرائیں کیا وہ زہر جو دل…