Category: منتخب غزلیں
-

-

-

اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں پروین شاکر اپنی…
اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں پروین شاکر اپنی رسوائی ترے نام کا چرچا دیکھوں اک ذرا شعر کہوں اور میں کیا کیا دیکھوں نیند آ جائے تو کیا محفلیں برپا دیکھوں آنکھ کھل جائے تو تنہائی کا صحرا دیکھوں شام بھی ہو گئی دھندلا گئیں آنکھیں بھی مری بھولنے والے میں کب تک…
-

گُلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں سِتارہ ہو کوئی وُجُودِ…
گُلاب ہاتھ میں ہو آنکھ میں سِتارہ ہو کوئی وُجُودِ محبّت کا اِستِعارہ ہو مَیں گہرے پانی کی اُس رو کے ساتھ بہتی رہُوں جزیرہ ہو کہ مُقابِل کوئی کِنارہ ہو کبھی کبھار اُسے دیکھ لیں کہیں مِل لیں یہ کب کہا تھا کہ وہ خوش بدن ہمارا ہو قُصُور ہو تو ہمارے حِساب لِکھ…
-

گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح پروین شاکر…
گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح پروین شاکر گئے موسم میں جو کھلتے تھے گلابوں کی طرح دل پہ اتریں گے وہی خواب عذابوں کی طرح راکھ کے ڈھیر پہ اب رات بسر کرنی ہے جل چکے ہیں مرے خیمے مرے خوابوں کی طرح ساعت دید کہ عارض ہیں گلابی اب تک…
-

ﮔﺮﻡِ ﺗﻼﺵ ﻭ ﺟُﺴﺘﺠﻮ ﺍﺏ ﮨﮯ ﺗِﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﺧُﻮﻥ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ …
ﮔﺮﻡِ ﺗﻼﺵ ﻭ ﺟُﺴﺘﺠﻮ ﺍﺏ ﮨﮯ ﺗِﺮﯼ ﻧﻈﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﺧُﻮﻥ ﮨﮯ ﮐﭽﮫ ﺟﻤﺎ ﮨُﻮﺍ، ﻗﻠْﺐ ﮐﮩﺎﮞ، ﺟِﮕﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﮨﮯ ﯾﮧ ﻃﺮِﯾﻖِ ﻋﺎﺷﻘﯽ، ﭼﺎﮨﯿﺌﮯ ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﺨﻮﺩﯼ ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﭼُﻨﺎﮞ ﭼُﻨﯿﮟ ﮐﮩﺎﮞ، ﺍِﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﮔﺮ ﻣﮕﺮ ﮐﮩﺎﮞ ﺯُﻟﻒ ﺗﮭﯽ ﺟﻮ ﺑِﮑﮭﺮ ﮔﺌﯽ، ﺭُﺥ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻧِﮑﮭﺮ ﮔﯿﺎ ﮨﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺷﺎﻡ ﺍﺏ ﮐﮩﺎﮞ، ﮨﺎﺋﮯ ﻭﮦ ﺍﺏ…
-

عمیر نجمی جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم …
عمیر نجمی جہان بھر کی تمام آنکھیں نچوڑ کر جتنا نم بنے گا یہ کُل مِلا کر بھی ہجر کی رات میرے گِریے سے کم بنے گا میں دشت ہوں’ یہ مغالطہ ہے’ نہ شاعرانہ مبالغہ ہے مِرے بدن پر کہیں قدم رکھ کے دیکھ ‘ نقشِ قدم بنے گا ہمارا لاشہ بہاو ورنہ لحَــد…
-
اداس اداس طبیعت جو تھی سنبھلنے لگی ابھی میں رو ہی …
اداس اداس طبیعت جو تھی سنبھلنے لگی ابھی میں رو ہی رہا تھا کہ رُت بدلنے لگی پڑوس والو!! دریچوں کو مت کھلا چھوڑو تمہارے گھر سے بہت روشنی نکلنے لگی ذرا تھمے تھے کہ پھر ہو گئے رواں آنسو جو رک گئی تھی وہ غم کی برات چلنے لگی بھلا ہو شہر کے لوگوں…
-

-

کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے جوانی نہ رہتی تو پھر…
کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے جوانی نہ رہتی تو پھر ہم نہ رہتے نشیمن نہ جلتا نشانی تو رہتی ہمارا تھا کیا ٹھیک رہتے نہ رہتے زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا ہمی سوگئے داستان کہتے کہتے کوئی نقش اور کوئی دیوار سمجھا زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے مری ناؤ…