Category: منتخب غزلیں
-

دسمبر اب کے آؤ تو تم اُ س شہرِ تمنّا کی خبر لانا ک…
دسمبر اب کے آؤ تو تم اُ س شہرِ تمنّا کی خبر لانا کہ جس میں جگنوؤں کی کہکشائیں جھلملاتی ہیں جہاں تتلی کے رنگوں سے فضائیں مسکراتی ہیں وہاں چاروں طرف خوشبو وفا کی ہے اور اُس کو جو بھی پوروں سے نظر سے چھو گیا پل بھرمہک اُٹھا دسمبر اب کے آؤ تو…
-

-

ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺎﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ…
ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ ﺩﻝ ﮨﻮ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﻦ ﻣﯿﮟ ﺯﺑﺎﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺴﮯ ﻣﺎﻥ ﻟﻮﮞ ﮐﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﺑﯿﺎﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﮑﻮﺕِ ﻟﺐ پہ ﺑﮭﯽ ﺍﻟﺰﺍﻡ ﺁ ﮔﺌﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﻃﺮﺡ ﭼﻤﻦ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺑﮯ ﺯﺑﺎﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﺳﻮﺯِ ﺩﻝ ﻭ ﮔﺪﺍﺯِ ﺟﮕﺮ، ﻣﻌﺘﺒﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻏﻢِ ﺣﺒﯿﺐِ ﻏﻢِ ﺩﻭ ﺟﮩﺎﮞ ﻧﮧ ﮨﻮ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ…
-

ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﮔﺎ، ﺁﺝ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺐ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺩﯼ ﻣﺠﮭﮯ…
ﺧﯿﺎﻝ ﮐﯿﺠﺌﮯ ﮔﺎ، ﺁﺝ ﮐﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺐ ﺍُﺱ ﻧﮯ ﺩﯼ ﻣﺠﮭﮯ ﮔﺎﻟﯽ، ﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﮐﮩﺎ ﯾﮧ ﺻﺒﺮ ﻧﮯ ﺩﻝ ﺳﮯ ﮐﮧ ﻟﻮ ﺧﺪﺍ ﺣﺎﻓﻆ ﺣﻘﻮﻕِ ﺑﻨﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﺎ، ﺗﻤﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﻨﻮﮞ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺩﻭﻟﺖ، ﮨﻮﺍ ﺣﺼﻮﻝ ﻣﺠﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﻨﮓ ﻭ ﻧﺎﻡ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌﺍ، ﯾﮧ ﻧﺎﻡ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﮐﯿﺎ ﻣﺰﺍ…
-

4 دسمبر: یومِ شہادت مولانا صلاح الدین – معروف صحاف…
4 دسمبر: یومِ شہادت مولانا صلاح الدین – معروف صحافی اور ہفت روزہ ‘تکبیر’ کے بانی اور مدیر (ولادت: 5 جنوری 1935ء – شہادت: 4 دسمبر 1994ء)
-

سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے بسمل سعیدی س…
سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے بسمل سعیدی سر جس پہ نہ جھک جائے اسے در نہیں کہتے ہر در پہ جو جھک جائے اسے سر نہیں کہتے کیا اہل جہاں تجھ کو ستم گر نہیں کہتے کہتے تو ہیں لیکن ترے منہ پر نہیں کہتے کعبے میں مسلمان کو کہہ…
-

کلام ۔ قتیل شفائی کتاب ۔ رنگ ۔ خُوشبُو ۔ روشنی کُل…
کلام ۔ قتیل شفائی کتاب ۔ رنگ ۔ خُوشبُو ۔ روشنی کُلّیات غزلیں برگد ۔ صفحہ ۔ 651 روکا ہے تُو نے جس کو سدا عرضِ حال سے ہجرت وہ کر گیا تِرے شہرِ وصال سے وہ مر گیا جب اس کی سکونت بدل گئی جیون سے بڑھ کر پیار تھا پنچھی کو ڈال سے…
-

یارِ پری چہرہ – جوش ملیح آبادی وہ یارِ پری چہرہ ک…
یارِ پری چہرہ – جوش ملیح آبادی وہ یارِ پری چہرہ کہ کل شب کو سِدھارا طوفاں تھا، تلاطم تھا، چھلاوا تھا، شرارا گل بیز و گہر ریز و گہر بار و گہر تاب کلیوں نے جسے رنگ دیا، گل نے سنوارا نوخواستہ و نورس و نوطلعت و نوخیز وہ نقش جسے خود یدِ قدرت…
-

تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے اسر…
تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے اسرار الحق مجاز تسکین دل محزوں نہ ہوئی وہ سعئ کرم فرما بھی گئے اس سعئ کرم کو کیا کہیے بہلا بھی گئے تڑپا بھی گئے ہم عرض وفا بھی کر نہ سکے کچھ کہہ نہ سکے کچھ سن نہ سکے یاں ہم نے…
-

رخ پہ گیسو جو بکھر جائیں گے ہم اندھیرے میں کدھر ج…
رخ پہ گیسو جو بکھر جائیں گے ہم اندھیرے میں کدھر جائیں گے اپنے شانے پہ نہ زلفیں چھوڑو دل کے شیرازے بکھر جائیں گے یار آیا نہ اگر وعدے پر ہم تو بے موت کے مر جائیں گے اپنے ہاتھوں سے پلا دے ساقی رند اک گھونٹ میں تر جائیں گے قافلے وقت کے…