Category: منتخب غزلیں
-

سلیمؔ کوثر . تم نے سچ بولنے کی جرأت کی یہ بھی توہی…
سلیمؔ کوثر . تم نے سچ بولنے کی جرأت کی یہ بھی توہین ہے عدالت کی منزلیں راستوں کی دُھول ہُوئیں پوُچھتے کیا ہو تم مسافت کی اپنا زادِ سفر بھی چھوڑ گئے جانے والوں نے کتنی عُجلت کی میں جہاں قتل ہو رہا ہُوں، وہاں میرے اجداد نے حکومت کی پہلے مجھ سے جُدا…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) (محترم پرویز ساحرؔ کی زمین م…
( غیــر مطبــوعــہ ) (محترم پرویز ساحرؔ کی زمین میں، اُن ہی کی نذر) عُـشّــاق ہیں’ سو مَوت سے ڈرنا تو ہے نہیں اُور کس لئے ڈریں ؟ ہمیں مرنا تو ہے نہیں ہم لوگ کچھ نہیں ہیں’ مگر اِس کے باوجود سب کچھ ہمارے دَم سے ہے’ ورنہ تو ہے نہیں ! آنسو ‘…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) بے پَروا جب آخری بار ہم مِ…
( غیــر مطبــوعــہ ) بے پَروا جب آخری بار ہم مِلے تھے ٹھہَـر گئ- تھی وہ شام جیسے ہماری پلکوں پہ بوجھ بن کے ہمارے سینے کا زخم بن کر فَضا پہ تھا حبس کا تسلط کہ سبز موسِم دھواؑں دھواؑں تھا لہو لہو آسمان تھا جب جکڑ لیے تھے قدم زمیں نے میں دلدلوں…
-

با دِ صَرصَر بھی قُربت کی چلتی رہے ، دن نکلتا رہے …
با دِ صَرصَر بھی قُربت کی چلتی رہے ، دن نکلتا رہے شام ڈھلتی رہے زُلف ہاتھوں سے تیرے َسنورتی رہے ، دن نکلتا رہے شام ڈھلتی رہے تیری چاہت ُگلابوں کی خوش بُو َبنے ٫ میرے دیوار و دَر میں کچھ ایسی بسے تیری مہکار کمرے سے آتی رہے ، دن نکلتا رہے شام…
-
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا …
میں دل پہ جبر کروں گا تجھے بھلا دوں گا مروں گا خود بھی تجھے بھی کڑی سزا دوں گا یہ تیرگی مرے گھر کا ہی کیوں مقدر ہو میں تیرے شہر کے سارے دیئے بجھا دوں گا ہوا کا ہاتھ بٹاؤں گا ہر تباہی میں ہرے شجر سے پرندے میں خود اڑا دوں گا…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) بیٹھے بِٹھائے دوستو !! کب سا…
( غیــر مطبــوعــہ ) بیٹھے بِٹھائے دوستو !! کب سانحـہ ہُوا کچھ تو ہُوا ہے ‘ جس کے سبب سانحـہ ہُوا اک نیند تھی کہ چِپکی ہُوئی تھی ہر آنکھ سے کل رات میرے شہر میں جب سانحـہ ہُوا مجھ کو اکیلا دیکھ کے ‘ غم ساتھ ہو لیا تم سے جُدا ہُوئی تو عجب…
-

ہِجڑا سینہ بَند اپنے لیے مَیں بھی منگانا چاہُوں م…
ہِجڑا سینہ بَند اپنے لیے مَیں بھی منگانا چاہُوں مجھ کو حال آں کہ یہ معلوم بھی ہے سب کی طرح کہ مری چھاتیاں وہ پَھل بھی نہیں جن کے لیے کوئی جنّت بھی لٹا کر نہ پشیماں ٹھہرے غازہ و سُرخی و سُرمہ بھی مجھے چاہییے ہے اپنے رخسار ولب و چشم سجانے کے…
-

پھر یہاں ہجــر کی شب طلِســم ِ زمان و مکاں ‘ صُــب…
پھر یہاں ہجــر کی شب طلِســم ِ زمان و مکاں ‘ صُــبح تک خواب ہو جائے گا پھر زمیں صُــبح تک خواب ہو جائے گی ‘ آسماں صُــبح تک خواب ہو جائے گا پھر اچانک تِرے ناز کی لہلہاتی ہری کھیتیاں خُشک ہو جائیں گی وقت تھم جائے گا ۔۔ اَور ہر ایک منظر یہاں…
-

( غیــر مطبوعــہ ) سمَجھ سکو تو بتانا کہ وہ…
( غیــر مطبوعــہ ) سمَجھ سکو تو بتانا کہ وہ کہاں نئیں ہے اگرسمجھ میں وہ آئے ، سمجھ لو ہاں ، نئیں ہے وریدِ جاں سے الجھ کر گرا ہوں سجدے میں سنا ہے’ اُس کے سوا کوئی بھی یہاں نئیں ہے حصارِ جسم سے آگے پڑاو اور بھی ہیں پر ان کے بعد…
-

ا( غیــر مطبــوعــہ ) ایک دو پَل کی آشنائی ۔۔۔۔ …
ا( غیــر مطبــوعــہ ) ایک دو پَل کی آشنائی ۔۔۔۔ بَس اور پھر عُمــر بھر دُہائی ۔۔۔۔ بس عُــذر دینے میں کچھ ‘ نہیں لیکن میرے دامن میں ہے خدائی ۔۔۔ بس دیــد کی تاب ہی نہ دی اُس نے اپنی آواز ہی سُــنائی ۔۔۔۔۔ بس کس نےآواز خــدّ و خــال کو دی میں نے…