Category: منتخب غزلیں
-

( غیــر مطبــوعــہ ) ڈر یہ تھا ‘ کعبۂِ جاں روند ن…
( غیــر مطبــوعــہ ) ڈر یہ تھا ‘ کعبۂِ جاں روند نہ دے فیل کوئی کیا خبر تھی’ اِسے ڈھا دے گی ابابیل کوئی اپنے ہاتھوں سے کریں اپنا مسیحا مصلوب اور پھر چاہتے ہیں آئے گی انجیل کوئی حیرتی اتنا ہے کیوں دیکھ کے آنکھیں میری کیا کبھی دیکھی نہیں خشک ہوئی جھیل کوئی…
-

جوشؔ ملیح آبادی . بہار آئی ہے کُچھ بے دِلی کا چار…
جوشؔ ملیح آبادی . بہار آئی ہے کُچھ بے دِلی کا چارہ کریں چمن میں آؤ حریفو ! کہ اِستخارہ کریں شرابِ ناب کے قُلزُم میں غُسل فرمائیں کہ آبِ مُردۂ تسنِیم سے غرارہ کریں جُمود گاہِ یخ و زمہرِیر ہی میں رہیں کہ سیرِ دائرۂ شُعلہ و شرارہ کریں حِصارِ صومِعہ کے گِرد ،…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) بخت کا بھید ستارے میں نہیں ہ…
( غیــر مطبــوعــہ ) بخت کا بھید ستارے میں نہیں ہو سکتا آدمی اِتنے خسارے میں نہیں ہو سکتا ساتویں رنگ سے آگے نہیں جاتی آنکھیں آٹھواں رنگ نظارے میں نہیں ہو سکتا خواب دیکھا ہے کہ آپ آتے ہیں مِلنے مجھ سے کوئی شک آپ کے بارے میں نہیں ہو سکتا آسماں چُھو نہیں…
-

سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں اداسیوں میں بھی …
سنہری دھوپ سے چہرہ نکھار لیتی ہوں اداسیوں میں بھی خود کو سنوار لیتی ہوں مِرے وجود کے اندر ہے اِک قدیم مکان جہاں سے میں یہ اداسی ادھار لیتی ہوں کبھی کبھی مجھے خود پر یقیں نہیں ہوتا کبھی کبھی میں خدا کو پکار لیتی ہوں جنم جنم کی تھکاوٹ ہے میرے سینے میں…
-

اندھیرا ‘ شہر ‘ ویرانی ‘ مسافِر سفر ‘ آئینہ ‘ حیر…
اندھیرا ‘ شہر ‘ ویرانی ‘ مسافِر سفر ‘ آئینہ ‘ حیرانی ‘ مسافِر وفا ‘ آوارگی ‘ گلیاں ‘ دریچے بدن ‘ صَحرا ‘ پشیمانی ‘ مسافِر جزیرہ ‘ رات ‘ آبادی ‘ ٹھکانہ سَمُندر ‘ چاند ‘ طُغیانی ‘ مسافِر گھروندا ‘ شام ‘ ساحِل ‘ خواب ‘ آنکھیں ستارے ‘ لڑکیاں ‘…
-

مدح النبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ) ہم تو آواز…
مدح النبی ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلّم ) ہم تو آواز میں آواز ملاتے ہیں میاں! نعت کے شعر کہیں اور سے آتے ہیں میاں! رنگِ مضموں تو ہے منّتِ کشِ جبریل کہ ہم سادہ کاغذ پہ لکیریں سی بناتے ہیں میاں! تم جو چاہو اسے معراج کہو تو کہہ لو میرے آقاؐ تو…
-

-

مُحسن نقوی بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند…
مُحسن نقوی بَدن میں اُتریں تھکن کے سائے تو نیند آئے یہ دِل کہانی کوئی سُنائے تو نیند آئے بُجھی بُجھی رات کی ہتھیلی پہ مُسکرا کر! چراغِ وعدہ، کوئی جلائے تو نیند آئے ہَوا کی خواہش پہ کون آنکھیں اُجاڑتا ہے دِیے کی لو خود سے تھر تھرائے تو نیند آئے تمام شب…
-

( غیــر مطبــوعــہ ) درمیاں اُس نے حیا کی ج…
( غیــر مطبــوعــہ ) درمیاں اُس نے حیا کی جو رِدا تانی ہے سامنے میرے یہی ایک پریشانی ہے کاسۂ دل میں زرِ غم کی فراوانی ہے درد سینے میں جو تھا’ اب سرِ پیشانی ہے منکشف حُسن ترا مجھ پہ ہوا پہلے بھی بحرِ جذبات میں پر اب کے جو طغیانی ہے میرا پیغام…
-

دِل تو چاہے کہ کام ہو جائے طائرِ زیر دام ہوجائے ک…
دِل تو چاہے کہ کام ہو جائے طائرِ زیر دام ہوجائے کام جتنے بھی ہوں مگر اِک وہ جس سے دِل اُس کا رام ہو جائے شفیق خلشؔ