Category: منتخب غزلیں
-

داغؔ دہلوی داغؔ! اُس بزم میں مہمان کہاں جاتا ہے ت…
داغؔ دہلوی داغؔ! اُس بزم میں مہمان کہاں جاتا ہے تیرا اللہ نگہبان, کہاں جاتا ہے غیر کا شکوہ بھی ہوتا ہے تو کِس لُطف کے ساتھ اُن سے تعرِیف کا عُنوان کہاں جاتا ہے وہ بھی دِن یاد ہیں، یہ کہہ کے مناتے تھے مجھے آ اِدھر، میں تِرے قُربان! کہاں جاتا ہے باغِ…
-

آغا حشر کاشمیری سُوئے میکدہ نہ جاتے، تو کُچھ او…
آغا حشر کاشمیری سُوئے میکدہ نہ جاتے، تو کُچھ اور بات ہوتی وہ نِگاہ سے پِلاتے، تو کُچھ اور بات ہوتی گو ہَوائے گُلسِتاں نےمِرے دِل کی لاج رکھ لی وہ نقاب خود اُٹھاتے،تو کُچھ اور بات ہوتی یہ بَجا، کلی نے کِھل کر کیا گُلسِتاں مُعَطّر ! اگر آپ مُسکراتے، تو کُچھ اور…
-

شاکر القادری اِک لُطفِ نا تمام بڑی دیر تک رہا وہ …
شاکر القادری اِک لُطفِ نا تمام بڑی دیر تک رہا وہ مُجھ سے ہمکلام بڑی دیر تک رہا میں تشنۂ وصال تھا، پیتا چلا گیا گردِش میں آج جام بڑی دیر تک رہا تادیر میکدے میں رہی ہے مِری نماز ساقی مِرا اِمام بڑی دیر تک رہا کل بارگاہِ حُسنِ تقدّس مآب میں دل محوِ…
-

صادقؔ باجوہ غزل کروں نذر ایسی نظر کو کیا، جو نظر ن…
صادقؔ باجوہ غزل کروں نذر ایسی نظر کو کیا، جو نظر نظر میں سما گئی تِری یاد کتنی عجیب ہے، جو دِل و دماغ پہ چھا گئی تِری آرزُو، تِری جُستجُو ، ہُوئی گومگو پِھری کُو بکُو غمِ ہجر کے بڑھے سِلسِلےمِرے نِیر کتنےبہا گئی وہ حیات کا کوئی باب تھا، کوئی خواب تھاکہ سراب…
-

شیخ امام بخش ناسخؔ قابلِ رُوح سُبک رَو بَدَنِ پِ…
شیخ امام بخش ناسخؔ قابلِ رُوح سُبک رَو بَدَنِ پِیر نہیں ایک دَم ساکنِ آغوشِ کماں تِیر نہیں تیرے ابرُو سے مہِ نَو کی جو شمشِیر نہیں ترکشِ مہر میں بھی، مِثلِ مژہ تِیر نہیں خط نُمایاں نہ ہو یا رب! رُخِ جاناں پہ کبھی یہ وہ مُصحف ہے، جِسے حاجتِ تفسِیر نہیں ایک کو…
-

اضغر گونڈوی رُخِ رنگیں پہ موجیں ہیں تبَسّم ہائے پ…
اضغر گونڈوی رُخِ رنگیں پہ موجیں ہیں تبَسّم ہائے پنہاں کی شُعائیں کیا پڑیں، رنگت نِکھر آئی گلِستاں کی یہیں پہ ختْم ہوجاتی ہیں بحثیں کُفر و اِیماں کی نقاب اُس نے اُلٹ کر یہ حَقِیقت ہم پہ عُریاں کی روَانی رنگ لائی دِیدۂ خُوں نابہ افشاں کی اُتر آئی ہے اِک تصوِیر دامن پر…
-
نا اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے خدا کے واسطے دیکھو نا مسکرا کے مجھے – بسمل …
نا اپنے ضبط کو رسوا کرو ستا کے مجھے خدا کے واسطے دیکھو نا مسکرا کے مجھے – بسمل عظیم آبادی
-

نہ کریدوں عشق کے راز کو مجھے احتیاطِ کلام ہے مرا ذ…
نہ کریدوں عشق کے راز کو مجھے احتیاطِ کلام ہے مرا ذوق اتنا بلند ہے جہاں آرزو بھی حرام ہے فقط ایک رشتۂ مشترک خلشِ سکوتِ کلام ہے یوں ہی اک زمانہ گزر گیا نہ پیام ہے نہ سلام ہے جو چراغ اشک نصیب تھے وہی صبر کر کے جلا دیے وہی کافرانہ سیاہیاں یہ…
-

شاہدؔ کبیر تمھارے شہر میں بھٹکے ہیں اجنبی کی طرح …
شاہدؔ کبیر تمھارے شہر میں بھٹکے ہیں اجنبی کی طرح کسی نے بات بھی پُوچھی نہ آدمی کی طرح بہت گراں تھی شبِ تار، وہ تو خیر ہُوئی ! تم اِس طرف جو نِکل آئے چاندنی کی طرح یہ ماہتاب سا کُچھ ہے، کہ ماہتاب ہے یہ ستارے سوچ میں ڈُوبے ہیں فلسَفی کی طرح…
-
یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا ये मज़…
یہ مزہ تھا دل لگی کا کہ برابر آگ لگتی نہ تجھے قرار ہوتا نہ مجھے قرار ہوتا ये मज़ा था दिल-लगी का कि बराबर आग लगती न तुझे क़रार होता न मुझे क़रार होता داغ دہلوی