Category: کالم
-

لاء آف اٹریکشن:کتنی حقیقت؟۔۔عمیر فاروق
لاء آف اٹریکشن کی ذاتی حیثیت کیا ہے کہ ہم اس کا پرچار کرتے پھریں؟ انسانی اذہان میں جنم لینے والی اختراعات اور منفرد خیالات کائنات کے آفاقی اصول Cause & Effect اور برسوں کی محنت کا نتیجہ تھیں اور اس سے بڑہ کر یہ ایجادات ان لوگوں کے ہاتھوں سے ہوئیں جن پر قدرت…
-

اقبالؒ کے فکری کے مآخذ – طارق محمود مرزا
شاعرِمشرق حضرت علامہ اقبالؒ کے فکری مآخذ کے متعلق مختلف قیاس آرائیوں کا سلسلہ ان کی حیات میں شروع ہو گیا تھا جو ابھی تک تھما نہیں ہے۔ خصوصاً ان کے شہرہ آفاق اور معراجِ انسانیت فلسفہِ ’خودی‘ کے متعلق مختلف نقّادوں نے مختلف یورپی علمی شخصیات کے نام لیے ہیں۔ زیادہ تر کی تان…
-

ایک قبر کی کہانی۔۔رؤف کلاسرا
مکالمہ 26 September 2021ء یہ تحریر 1087 مرتبہ دیکھی گئی۔ امریکہ میں مقیم میرے بھائی ڈاکٹر عاصم صہبائی نے اپنی فیس بک پر دو ایسی تصاویر لگا دی ہیں کہ مجھے لگتا ہے‘ ان کا امیج مجھے طویل عرصے تک ڈسٹرب رکھے گا۔ یہ تصویر ایک دس بارہ سالہ بچے اویس کی ہے جس نے…
-

شہد کی مکھی آنے کی دیر ہے۔۔آصف محمود
آصف محمود 26 September 2021ء یہ تحریر 1032 مرتبہ دیکھی گئی۔ سال کے بعد ایک خطاب ہوتا ہے اور اہل دربار اپنے سارے غناء کے ساتھ سال کے بارہ موسم قصیدے میں گزار دیتے ہیں۔ ملک الشعراء اور ان کے تمام ہمنوائوں کے ہاں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ مارٹن لوتھر کنگ…
-

ڈرامہ، طرب و المیہ اور مجرا کلچر – اقدس ہاشمی
بہت عرصہ پہلے جب ڈرامہ کے باب میں ارسطو کی “بوطیقا” پڑھی تو ڈرامے کے دو عناصر “المیہ اور طربیہ” اور انکے سماجی اطلاق و عملداری کے متعلق سوچنا شروع کیا۔ دوستو ڈرامہ یونان و روم کے ایوانوں سے ہوتے ہوۓ مشرق میں ناٹک و سوانگ کے رنگ رچاتے ہوۓ جدیدیت میں داخل ہوتا ہے…
-

خون آشام بَلائیں ۔۔ڈاکٹر مختیار ملغانی
فطرت میں ہر چیز نہ صرف اعتدال پسند ہے بلکہ اعتدال اور توازن کی طرف گامزن ہے، فضا کے دباؤ میں ردوبدل آئے تو ہوا میں کمی بیشی سے اسے اعتدال میں لایا جاتا ہے، ماحول کے درجۂ حرارت کے اتار چڑھاؤ سے انسانی جسم اپنی گرمی کے حفظ و خلاصی کی مدد سے خود…
-

مسلم تصورِ اخلاق اور تاریخ کا جبر – ڈاکٹر غلام شبیر
تخلیق کائنات کے باب میں جہاں مذہب اور سائنس یکساں نکتہ نظر رکھتے ہیں وہاں آغاززندگی سے متعلق بھی دونوں ایک صفحے پر ہیں۔ جانے وہ کونسا لمحہ سعید تھا جب مٹی پر پانی کی بوند پڑی اور حیات خوابیدہ آنکھیں ملتے ہوئے اٹھ بیٹھی تھی۔ طین لازب جس سے زندگی نے انگڑائی لی مٹی…