وہی بانٹے رحمتیں چار سُو، ہیں اُسی کی نعمتیں کُو ب…


وہی بانٹے رحمتیں چار سُو، ہیں اُسی کی نعمتیں کُو بہ کُو
وہی تو ہے جلَّ جلال ہُو، وہی تو ہے جلَّ جلال ہُو
——
عائشہ بیگ عاشی کا یومِ پیدائش
September 13, 1988.
——
منتخب کلام
——
اس گھر کی میں بنیاد ہی کسطرح بدل دُوں
میں نے تو کبھی گھر کے ملازِم نہیں بدلے
رشتوں کا بھرم رکھنے کو قربانی ء جذبات
اے عشق! ترے اب بھی لوازِم نہیں بدلے
——

مثلِ دریا یہ جو چڑھتا ہے اُتر جاتا ہے
وقت اچھا ہو بُرا ہو یہ گزر جاتا ہے

آنکھ سے اشک بلا وجہ نہیں بہتے ہیں
حد گزر جانے سے برتن بھی تو بھر جاتا ہے
۔۔۔۔۔
خمارِ عشق رکوع و سجود میں موجود
سبھی حدود سے باہر حدود میں موجود

میرے خیال مری سوچ میں تصور میں
رہینِ روح ہے لیکن وجود میں موجود
۔۔۔۔۔۔
بس اپنی ذات پہ منہائی کا عمل رکھا
جُڑا ہوا ہے تبھی میرا خانداں اب تک
۔۔۔۔۔
اشک بن کر اُبل رہے ہو تُم
میری آنکھوں میں جل رہے ہو تُم

تُم سویرا ہو زندگی کا مری
شام میں کیسے ڈھل رہے ہو تُم

دل میں آتش فشانِ الفت ہے
اور اُس سے نکل رہے ہو تُم
……
جس مٹی نے سب کو عاشیؔ ماں جیسی گود میسر کی
کیونکر نہ وہ مٹی سر پیٹے مٹی سے وفائیں چھلنی ہیں
——
لہُو جبیں کا ملا ہے حرَم کی چوکھٹ پر
میں کیسے اور کوئی آستاں تلاش کرُوں
——
کتابِ زیست کا ہر باب دیکھنا ہوگا
تمام باتیں تو عنوان میں نہیں ملتیں
——
خوشی کا اور راحت کا کبھی اِک پل نہیں دیتی
سدا بےچین رکھتی ہے محبت کل نہیں دیتی
——
عاشی نہ جانے کس گھڑی گِر جائے آسمان
تھامے تھا جو فلک، وہ سہارا نہیں رہا