💥 اماں اتنی خاموشی سے رونے لگیں کہ مجھے لگا شاید اس گھر میں اب آواز نام کی کوئی چیز نہیں رہی۔ 🥹💔
اس رات مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ کمرے کی دیواریں بھی قریب آ سکتی ہیں۔
وہ وہیں تھیں جہاں ہمیشہ ہوتی تھیں، مگر اس رات یوں لگ رہا تھا جیسے کسی نے انہیں آہستہ آہستہ سرکا کر ہمارے گرد ایک چھوٹا سا دائرہ بنا دیا ہو۔ شاید وہ میری بے بسی دیکھنا چاہتی تھیں۔
ابا چارپائی پر بیٹھے تھے۔
ان کے ہاتھ گھٹنوں پر رکھے تھے اور انگلیاں آپس میں اس طرح پھنسی ہوئی تھیں جیسے کوئی شخص کسی ٹوٹتی ہوئی چیز کو آخری بار تھامنے کی کوشش کر رہا ہو۔
ڈاکٹر ابھی ابھی گیا تھا۔
وہ بہت آہستہ بولا تھا۔
اتنا آہستہ کہ ہر جملے کے بعد مجھے لگتا تھا شاید اگلا جملہ پچھلے جملے کو جھٹلا دے گا۔
مگر کچھ سچ ایسے ہوتے ہیں جنہیں ڈاکٹر بھی صرف آواز دیتا ہے، حقیقت وہ پہلے ہی جسم میں لکھ چکی ہوتی ہے۔
میں ابا کے سامنے بیٹھا اسے دیکھ رہا تھا۔
دل چاہ رہا تھا کہ کوئی ایسی بات کہوں جو معجزہ بن جائے۔
کہوں کہ فکر نہ کریں۔
کہوں کہ سب ٹھیک ہو جائے گا۔
کہوں کہ میں ہوں نا۔
مگر میرے پاس ان تین لفظوں کے سوا کچھ نہیں تھا۔
میں ہوں نا۔
اور مجھے پہلی بار احساس ہوا کہ کبھی کبھی انسان کا ہونا بھی کسی کام نہیں آتا۔
میں نے کہا:
"ابا، پانی دوں؟”
انہوں نے میری طرف دیکھا۔
اور مسکرا دیے۔
وہ مسکراہٹ آج تک میرے اندر کہیں پھنسی ہوئی ہے۔
مجھے اس دن سمجھ آیا کہ بعض مسکراہٹیں خوشی نہیں ہوتیں، معافی ہوتی ہیں۔
—
اگلے چند دن گھر میں گھڑی کی سوئیوں کے تابع گزرے۔
صبح کی دوا۔
دوپہر کی دوا۔
شام کی دوا۔
رات کی دوا۔
درمیان میں چائے۔
پھر خاموشی۔
امی ہر تھوڑی دیر بعد کمرے میں آتیں، ابا کو دیکھتیں اور واپس چلی جاتیں۔
ایک دن میں نے انہیں دروازے پر کھڑے دیکھا۔
وہ کافی دیر تک ابا کو سوتے ہوئے دیکھتی رہیں۔
پھر آہستہ سے دیوار پر ہاتھ رکھ دیا۔
آنکھیں بند کیں۔
ہونٹ ہل رہے تھے۔
شاید دعا کر رہی تھیں۔
مجھے نہیں معلوم وہ اللہ سے کیا مانگ رہی تھیں۔
شاید وقت۔
شاید صحت۔
شاید ایک دن اور۔
شاید صرف اتنا کہ ابا کی سانس اگلی سانس تک پہنچ جائے۔
میں بھی چاہتا تھا کہ کوئی ایسا مقام ہو جہاں جا کر انسان خدا سے کہہ سکے:
"یہ آدمی نہیں۔ اسے چھوڑ دیں۔”
مگر دنیا میں ایسی کوئی کھڑکی نہیں تھی۔
ہم سب اپنی اپنی جگہ بیٹھے تھے۔
اور بیماری اپنا کام کر رہی تھی۔
—
ایک شام ابا نے مجھے پاس بلایا۔
میں ان کے قریب جا کر بیٹھ گیا۔
انہوں نے ہاتھ بڑھایا۔
میں نے ان کا ہاتھ پکڑ لیا۔
ہاتھ بہت ہلکا ہو گیا تھا۔
وہی ہاتھ جس نے کبھی میرے سر پر رکھا تھا تو مجھے لگتا تھا دنیا میں کوئی مجھے چھو بھی نہیں سکتا۔
اب وہ ہاتھ میری ہتھیلی میں تھا۔
اور میں اسے بچا نہیں سکتا تھا۔
ابا نے کہا:
"تم بہت فکر کرتے ہو۔”
میں ہنسنا چاہتا تھا۔
نہیں ہنس سکا۔
میں نے کہا:
"میں کچھ کر بھی تو نہیں سکتا۔”
انہوں نے مجھے غور سے دیکھا۔
ان کی آنکھوں میں نہ شکایت تھی، نہ خوف۔
صرف ایک عجیب سا اطمینان تھا۔
پھر بولے:
"ہر چیز کے لیے کچھ کرنا ضروری نہیں ہوتا۔”
میں خاموش رہا۔
انہوں نے ذرا توقف کیا۔
"کبھی کبھی کچھ نہیں کیا جا سکتا۔”
یہ جملہ سن کر مجھے غصہ آیا۔
مجھے لگا ابا ہار مان رہے ہیں۔
میں چاہتا تھا وہ لڑیں۔
ڈاکٹر سے۔
بیماری سے۔
موت سے۔
مجھ سے بھی، اگر ضرورت پڑے۔
مگر وہ عجیب سکون سے بیٹھے تھے۔
جیسے انہیں مجھ سے زیادہ معلوم ہو کہ اس جنگ کا نتیجہ کیا ہے۔
—
اگلی صبح باہر محلے میں بچوں کے کھیلنے کی آواز آ رہی تھی۔
ایک بچہ مسلسل ہنس رہا تھا۔
سامنے والی گلی میں دودھ والا موٹر سائیکل کھڑی کر کے آوازیں لگا رہا تھا۔
ایک رکشہ گزرا۔
پھر کسی گھر سے پریشر ککر کی سیٹی آئی۔
دن معمول کے مطابق شروع ہو گیا۔
صرف ہمارا گھر معمول کے مطابق نہیں تھا۔
مجھے پہلی بار معلوم ہوا کہ دنیا کسی ایک گھر کے دکھ پر نہیں رکتی۔
شہر کو کوئی فرق نہیں پڑتا کہ کسی کمرے میں کسی کا باپ مر رہا ہے۔
بازار کھلے رہتے ہیں۔
دکانیں بند نہیں ہوتیں۔
بچے اسکول جاتے ہیں۔
لوگ ہنستے ہیں۔
گاڑیاں ہارن بجاتی ہیں۔
اور ایک گھر کے اندر کسی کی دنیا آہستہ آہستہ ختم ہو رہی ہوتی ہے۔
دنیا کو اس کی خبر تک نہیں ہوتی۔
شاید یہی زندگی کی سب سے بڑی بے رحمی ہے۔
—
آخری رات میں ابا کے پاس بیٹھا تھا۔
کمرے میں مدھم بلب جل رہا تھا۔
امی جائے نماز پر بیٹھی تھیں۔
کبھی دعا کرتیں، کبھی ابا کو دیکھتیں۔
میں ابا کی نبض محسوس کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔
ہر دھڑکن کے ساتھ مجھے لگتا، یہ شاید آخری ہے۔
پھر اگلی دھڑکن آ جاتی۔
میں اسے بھی پکڑ لیتا۔
جیسے دھڑکنیں میرے ہاتھ سے بھاگ رہی ہوں۔
پھر ایک وقت آیا جب میں نے انتظار کیا۔
اگلی دھڑکن نہیں آئی۔
میں نے دوبارہ انتظار کیا۔
پھر بھی نہیں۔
میں نے ابا کا ہاتھ زور سے پکڑ لیا۔
"ابا؟”
کوئی جواب نہیں آیا۔
میں نے پہلی بار ان کا نام نہیں لیا۔
میں نے انہیں پکارا۔
مگر موت کے سامنے آواز بھی کتنی چھوٹی چیز ہے۔
امی نے میری طرف دیکھا۔
میں نے کچھ نہیں کہا۔
انہیں سمجھنے کے لیے میری زبان کی ضرورت نہیں تھی۔
وہ اٹھیں۔
ابا کے پاس گئیں۔
ان کے چہرے پر ہاتھ پھیرا۔
پھر بیٹھ گئیں۔
اور اتنی خاموشی سے رونے لگیں کہ مجھے لگا شاید اس گھر میں اب آواز نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔
—
ابا کے جانے کے بعد گھر وہی تھا۔
وہی صحن۔
وہی دیواریں۔
وہی پنکھا۔
وہی چارپائی۔
وہی کمرہ۔
بس ایک آدمی کم تھا۔
لیکن عجیب بات یہ تھی کہ گھر چھوٹا نہیں ہوا تھا۔
بڑا ہو گیا تھا۔
اتنا بڑا کہ ہر چیز کے درمیان فاصلہ محسوس ہونے لگا تھا۔
ان کی کرسی دیوار کے ساتھ رکھی تھی۔
میں کئی دن اس کے پاس سے گزرتا رہا۔
ہر بار دل چاہتا کہ کوئی اس پر بیٹھا ہو۔
ایک دن میں نے بے اختیار کہا:
"ابا، پانی دوں؟”
اور اگلے ہی لمحے مجھے اپنی آواز پر شرم آئی۔
کمرے میں کوئی نہیں تھا۔
صرف دیوار تھی۔
اور وہ پہلے سے بھی زیادہ قریب۔
—
اس دن مجھے سمجھ آیا کہ بے بسی یہ نہیں کہ انسان کچھ نہیں کر سکتا۔
بے بسی تو اس لمحے کا نام ہے جب آپ کسی سے اپنی جان سے زیادہ محبت کرتے ہوں، مگر اس کی تکلیف کا ایک لمحہ بھی اپنے حصے میں نہ لے سکیں۔
آپ اس کے لیے دوا لا سکتے ہیں۔
اس کا ہاتھ پکڑ سکتے ہیں۔
اس کے سرہانے بیٹھ سکتے ہیں۔
دعائیں کر سکتے ہیں۔
راتیں جاگ سکتے ہیں۔
مگر اس کے درد کا ایک قطرہ بھی اپنے جسم میں منتقل نہیں کر سکتے۔
اور شاید محبت کی سب سے بڑی شکست یہی ہے۔
کہ آپ کسی کے لیے مرنے کو تیار ہوتے ہیں..
مگر اسے مرنے سے بچا نہیں سکتے۔
اس رات میں نے پہلی بار دعا مانگی۔
کسی معجزے کے لیے نہیں۔
اپنے لیے بھی نہیں۔
بس اتنا کہا:
"یا اللہ… اگر محبت کے باوجود میں اپنے باپ کے لیے وہ شخص نہیں بن سکا جو اسے بچا سکتا، تو مجھے اس بات کا بوجھ اٹھانے کی طاقت دے کہ میں اسے بچا نہیں سکا۔”
کافی دیر تک کوئی جواب نہیں آیا۔
پھر باہر فجر کی اذان شروع ہو گئی۔
دنیا ایک بار پھر جاگ رہی تھی۔
اور میرے اندر…
ایک پورا زمانہ مر چکا تھا۔ 💔
افسانہ: بے بس
©️ انتخاب سخن
~ Faizaan ~