محبت صرف تم سے (حذیفہ ہارون) قسط نمبر 09 "نہیں ت…

قسط نمبر 09
"نہیں تم مذاق کر رہے ہو مجھے پتا ہے تم مذاق کر رہے ہو”….” میں مذاق نہیں کر رہا زینب میں سچ کہہ رہا ہوں میں واقعی ایک قاتل ہوں”…”میں نہیں مان سکتی یہ بات "….” تمھیں ماننی ہی ہوگی زینب میں نے قتل کیا ہے دو لوگوں کا اور لاکھوں کی کرپشن بھی کی ہے”…”جھوٹ بول رہے ہو تم”..”نہیں میں سچ بول رہا ہوں امجد شاہ کے بیٹے افنان کو میں نے جان بوجھ کر مارا تھا ہاں اس نے مجھ پے حملہ کیا تھا لیکن حملہ اتنا زیادہ خطرناک نہیں تھا اس نے صرف ایک گولی چلائی تھی جس سے میں بچ گیا تھا لیکن پھر میں نے اسے قتل کر دیا کیونکے وہ میرے اور تمہارے درمیان آ رہا تھا اور میں نہیں چاہتا تھا کہ ہمارے درمیان کوئی بھی آئے سو میں نے اسے مار دیا اور دوسرا قتل میں نے یہیں کیا کوئٹہ میں ایک اسکول پرنسپل کا اس نے مجھے دھوکہ دیا تھا اس لئے میں نے اسے قتل کر دیا "زینب کو لگا کہ وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے لیکن یہ خواب نہیں تھا یہ حقیقت تھی شہریار سچ کہہ رہا تھا ” زینب میں نے لاکھوں کی رشوت لی ہے لیکن اس رشوت کا ایک پیسا بھی میں نے اپنے اوپر خرچ نہیں کیا وہ سب یا تو میں نے کسی ہسپتال میں دئے یا پھر کسی اسکول میں دے دئے اسکا ایک روپیہ بھی میں نے اپنے ذاتی خرچ کیلئے نہیں لیا "…” تم ایسا کیسے کر سکتے ہو”..”پتا نہیں کیوں لیکن بس میں اپنے ملک کا نظام بہتر کرنا چاہتا تھا اس ہی لئے یہ سب کرتا تھا اور کرتا بھی رہوں گا "…”مجھے تم سے یہ امید نہیں تھی”…” آئی ایم سوری زینب”شہریار نے افسوس بھرے انداز میں کہا زینب نے اسکی بات کا کوئی جواب نہیں دیا بس وہاں سے اٹھی اور اپنی جیپ کی طرف چل پڑی ان دونوں کی کافی ایسے ہی پڑی تھی شہریار بھی خاموشی سے وہاں سے اٹھا اور جیپ میں جا کر بیٹھ گیا اسکے بیٹھنے کے فورا بعد ہی انکے ڈرائیور نے جیپ سٹارٹ کر دی اور وہ اس خوبصورت جھیل سے دور ہوتے چلے گئے..
*************************************************
زینب اپنے گھر کے لان میں دونوں ہاتھ سینے پے باندھے کھڑی تھی وہ لوگ کوئٹہ سے آ چکے تھے شہریار نے جب رات زینب کو کمرے میں نہیں پایا تو وہ بھی اسے ڈھونڈتا ہوا لان میں پہنچ گیا..”کیا کر رہی ہو یہاں رات کو کمرے میں چلو”شہریار بولا لیکن زینب خاموش رہی "کچھ تو بولو جب سے ہم کوئٹہ سے آئے ہیں تم نے اتنی سی بھی بات نہیں کی مجھ سے”…” تم بات کرنے کے قابل نہیں ہو شہریار ناصر "زینب نے اسکی طرف دیکھ بغیر جواب دیا…” آخر ایسا بھی کیا کر دیا میں نے کونسا غلط کام کیا ہے میں نے جو تم مجھسے اس طرح منہ بنا کر بیٹھی ہو یہ سب تو ملک میں عام ہے ہر کوئی رشوت لے رہا ہے اور جو بھی لے رہا ہے وہ رشوت کے اس پیسے کو اپنے ذاتی خرچ میں لا رہا ہے لیکن میں نے تو رشوت کے پیسوں میں سے ایک روپیہ بھی اپنے اوپر خرچ نہیں کیا کبھی کسی اسکول میں تو کبھی کسی ہسپتال میں دے دیا لیکن تم پھر بھی مجھسے ناراض ہو یہ ناراضگی میری سمجھ سے باہر ہے”…”اور وہ جو تم نے دو لوگوں کا قتل کر دیا اسکا کیا "….” وہ میں نے مجبوری میں کئے تھے اور سچ پوچھو تو مجھے ان دونوں کے قتل کا بلکل بھی افسوس نہیں ہے وہ دونوں اس ہی قابل تھے اور انکے ساتھ جو بھی میں نے کیا ہے بلکل ٹھیک کیا ہے "…” شہریار اتنے ظالم تو ہرگز نہیں تھے تم”…”میں ظالم نہیں ہوں زینب تم سمجھنے کی کوشش کرو”…”تم کرو کوشش سمجھنے کی تم نے جو بھی کیا بہت غلط کیا تمھیں کوئی حق نہیں کسی کی جان لینے کا تم نے جو بھی کیا بلکل غلط کیا تمھیں اپنے کئے پے ذرا بھی پچھتاوا نہیں ہے؟”….”نہیں ذرا بھی نہیں میں نے جو بھی کیا ہے صحیح کیا ہے اور مجھے یقین ہے کہ میں اپنے کئے پے کبھی بھی نہیں پچھتاؤں گا”…”تم پچھتاؤ گے شہریار تم پچھتاؤ گے بہت جلد پچھتاؤ گے”زینب نے کہا اسکی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں یہ کہنے کے بعد وہ وہاں نہیں رکی بلکہ گھر کے اندر چلی گئی شہریار لان میں ہی لگی کرسیوں میں سے ایک کرسی پے بیٹھ گیا .”پتا نہیں یہ اتنا غلط کیوں سوچ رہی ہے پتا نہیں کیا ہو گیا ہے اسے میں نے کچھ بھی تو غلط نہیں کیا میں نے یہ رشوت اپنے لئے تو نہیں لی یہ تمام پیسے میں اپنے ملک پے ہی خرچ کر رہا تھا نہ پھر کیوں ناراض ہے وہ اور رہی بات قتل کی تو وہ بھی کوئی اتنے بڑی بات نہیں ہے وہ دونوں اس ہی سزا کے حقدار تھے اور اگر آئندہ کسی نے میرے ساتھ ایسا کیا تو اسکا وہ حال کروں گا کہ دنیا دیکھے گی مجھے دھوکے بازی پسند نہیں اور اکرم نور نے دھوکہ بازی کی تھی سو اسے اس کی سزا ملی اور افنان میرے اور زینب کے درمیان رکاوٹیں کھڑی کر رہا تھا سو اسے اسکی سزا ملی سمپل”شہریار نے اس طرح کہا جیسے یہ کوئی عام بات ہو اور یہ کہ کر وہ بھی اٹھا اور گھر کے اندرونی حصّے کی طرف چل پڑا…
***************************************************
امجد شاہ اپنے گھر کے لاؤنج میں ٹی وی کھولے بیٹھا ایک نیوز چینل دیکھ رہا تھا صبح کے دس بجے کی ہیڈ لائنز چل رہی تھیں جس میں مختلف باتیں بتائی جا رہی تھیں…”ایک اہم خبر ہم آپکو دے رہے ہیں کراچی کے ایس پی شہریار ناصر نے منشیات کا ایک بڑا ذخیرہ شہر کے ایک بے آباد علاقے میں ایک بنگلے سے دریافت کیا ہے ابھی اس معاملے کی تفشیش جاری ہے اور یہ معلوم کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے کہ یہ بنگلہ کس کے نام پر ہے اور یہ منشیات کس کی ہیں اور ابھی ابھی ایس پی شہریار نے میڈیا کو یہ بتایا ہے کہ اس بنگلے سے دو ادھيڑ عمر آدمی بھی گرفتار کئے گئے ہیں ابھی تک ان سے کچھ پوچھا نہیں گیا لیکن بہت جلد ان سے بھی معلومات لی جائیں گی ہر خبر سے باخبر رہنے کیلئے ہمارے ساتھ رہئے "یہ کہہ کر نیوز اینکر خاموش ہوا اور سکرین پے اس بنگلے کی تصویر دکھائی جانے لگیں یہ بنگلہ کسی اور کا نہیں امجد شاہ کا تھا اور وہ سب منشیات جو اس بنگلے سے ملی تھیں وہ بھی اس ہی کی تھیں امجد شاہ نے فورا موبائل اٹھایا اور شہریار کو کال ملائی اسکے پاس شہریار کا نمبر سیو تھا شہریار نے فورا کال اٹینڈ کر لی …” ہیلو شاہ صاحب کیسے یاد کیا”….”تمہاری مجھسے کیا دشمنی ہے کیوں برباد کرنے پے تلے ہوئے ہو مجھے؟”….”اسکی وجہ میں آپکو پہلے ہی بتا چکا ہوں شاہ صاحب مجھے منشیات کا کاروبار کرنے والوں سے سخت نفرت ہے کیونکے یہ میرے ملک کے نوجوانوں کا مستقبل خراب کر رہی ہیں اور میں اتنا سنگدل ہرگز نہیں کہ یہ گھٹیا کاروبار اپنے ملک میں چلنے دوں امجد شاہ میں تمھیں برباد کر کے رکھ دوں گا یہ میرا تم سے وعدہ ہے شہریار ناصر کا تم سے وعدہ ہے اور اب کام کی بات کر لیتے ہیں اگر میں چاہوں تو اس معاملے میں تمھیں فورا گرفتار کر سکتا ہوں لیکن میں ایسا نہیں کروں گا اس معاملے میں تمہارا نام ہرگز سامنے نہیں آئے گا اور ایسا کرنے کیلئے تم مجھے دس لاکھ دو گے دو گے نہ؟”…شہریار نے سوال کیا..”تم نے پہلے بھی مجھسے پچاس لاکھ لئے تھے”…”ہاں تو اب دس لاکھ لے رہا ہوں بتاؤ تم کیا کر لو گے”…”میں کچھ نہیں کروں گا "…” پھر دس لاکھ دو گے نہ؟”…”ہاں بھجواتا ہوں پولیس سٹیشن اپنے ایک آدمی کے ہاتھ لیکن شہریار ایک بات یاد رکھنا اگر اس معاملے میں میرا نام سامنے آیا نہ تو تمہاری جان لے لوں گا”….”سنو دس لاکھ نہیں پندرہ لاکھ بھیجو”…”کیوں؟”…”تم نے مجھے جان سے مارنے کی دھمکی دی اس لئے پندرہ لاکھ بھیجو گے اور اگر اتنی سی بھی آواز نکالی نہ تو میں پیسے بڑھا کر بیس لاکھ کر دوں گا اس لئے شرافت سے میرے پاس پندرہ لاکھ بھیجو شکریہ اڈوانس میں اللّه حافظ ڈیئر اپنا خیال رکھنا کیونکے تم ہی میرے اکلوتے A.T.M ہو” یہ کہ کر شہریار نے امجد شاہ کا جواب سنے بغیر ہی کال کاٹ دی امجد شاہ نے بے بسی سے موبائل زمین پے پٹخا اور اپنے ایک بندے کو پندرہ لاکھ روپے شہریار کو بھیجنے کی ہدایت دینے لگا..
*************************************************
امجد شاہ اپنے ایک خاص بندے مانی کے ساتھ اپنے گھر کے لان میں بیٹھا چائے پی رہا تھا ..”مانی اس شہریار ناصر کا کچھ کرو یہ تو مجھے برباد کئے دے رہا ہے”….”آپ حکم تو کریں سر میں آپکے لئے ہر چیز کر گزروں گا "…” مجھے اسے تباہ کرنا ہے اسکا بھی نقصان کرنا ہے جیسا اس نے میرے ساتھ کیا”….”کیا اسے جان سے مارنا ہے؟”…”نہیں جان سے نہیں تڑپا تڑپا کر مارنا ہے "….” میں سمجھ گیا آپ مجھے اجازت دیں میں اسے تباہ کر کے رکھ دوں گا”…”میری طرف سے اجازت ہے تم جو چاہو کرو”..”اچھا سر ایک بات پوچھوں؟”…”ہاں پوچھو”…”کیا آپ یہ سب افنان کی موت کا بدلہ لینے کیلئے کر رہے ہیں؟”…”نہیں افنان نے جو کیا اسے اسکی سزا ملی میں اسکی وجہ سے یہ سب نہیں کر رہا میں تو اپنی وجہ سے کر رہا ہوں اس نے میرا جو نقصان کیا ہے اس کی وجہ سے کر رہا ہوں”..”اوہ”.مانی نے کہا اور چائے پینے لگا…
***************************************************
"سر ایک بیڈ نیوز ہے آپکے لئے” کانسٹیبل نادر یہ کہتا ہوا شہریار کے کیبن میں داخل ہوا.”کیا ؟”….”سر آئی جی سندھ جوش میں آ گئے ہیں اور کرپٹ پولیس افسران کے خلاف آپریشن کیلئے گھر سے نکل پڑے ہیں وہ ایک ایک پولیس سٹیشن میں جا کر تفشیش کر رہے ہیں اس پولیس سٹیشن کے آس پاس کے علاقہ مکینوں سے بھی معلومات لے رہے ہیں اور انہوں نے ہر شخص سے یہ کہہ رکھا ہے کہ اگر کسی کو بھی کسی بھی پولیس انسپکٹر سے کوئی شکایت ہے تو وہ بلا جھجھک ہمیں بتائے اس پولیس افسر کے خلاف بھی کاروائی ہوگی اور انہوں نے یہ بھی کہہ رکھا ہے کہ اگر کسی انسپکٹر نے کسی شخص سے رشوت لی ہے تو وہ اس انسپکٹر کے بارے میں انہیں بتائے اس شخص کو کچھ نہیں کہا جائے گا البتہ انسپکٹر کے خلاف کوئی نہ کوئی ایکشن ضرور لیا جائے گا سر اس طرح تو آپکے لئے بہت بڑی مصیبت کھڑی ہو جائے گی بہت سے لوگ آپکے خلاف آئی جی کو شکایت کر دیں گے اور اس طرح آپ پکڑ میں آ جائیں گے اور سب سے بری خبر مجھے یہ ملی ہے کہ آئی جی سندھ تقریباً ایک ہفتے بعد ہمارے علاقے میں پہنچ رہے ہیں”….نادر نے اسے تفصیل سے بتایا ..”افففففف یہ کیا خبر سنا رہے ہو تم یہ اچانک سے آئی جی صاحب کو کیا ہو گیا..”…”سر یہ پرانے والے آئی جی نہیں ہیں کل رات ہی پرانے آئی جی کا تبادلہ ہوا ہے اور انکی جگہ یہ نئے آئی جی آئے ہیں جنہوں نے آتے ہی کرپشن کے خلاف کام شروع کر دیا ہے”….”یا اللّه یہ تو بڑی مشکل ہو گئی اب میں کیا کروں” ..شہریار نے پریشان کن لہجے میں کہا…”سر آپ ابھی اور اس ہی وقت یہاں سے فرار ہو جائیں اور کسی محفوظ مقام پے جا کر ٹہریں”…..”لیکن جب میں انہیں نہیں ملوں گا تو وہ میرے گھر والوں کو پریشان کریں گے”…”گھر والوں کو میں دیکھ لوں گا سر اس وقت آپ اپنی فکر کریں.”….”یار یہ اچانک کیا مسلہ کھڑا ہو گیا”..”اب کیا کر سکتے ہیں لیکن میں اس وقت یہی مشورہ دوں گا کہ آپ اپنے گھر والوں کو یہ کہہ دیں کہ ایک اہم کام کیلئے آپ دو ہفتوں کیلئے شہر سے باہر جا رہے ہیں لیکن آپ رہیں شہر میں ہی لیکن کسی محفوظ مقام پے.”….”ہاں کرنا تو یہی پڑے گا یہ کرپشن مجھے کہاں سے کہاں لے آیا لیکن خیر اب میں کچھ دنوں کیلئے یہاں سے غائب ہو جاؤں گا اس ہی میں بھلائی ہے”….”جی سر ٹھیک ہے”یہ کہہ کر نادر اسکے کیبن سے باہر نکل گیا شہریار نے اپنا سر اپنے دونوں ہاتھوں میں دے دیا وہ سخت پریشانی میں مبتلا تھا بیٹھے بٹھائے یہ عجیب مصیبت اسکے سر پڑ گئی تھی.
*************************************************
"میں دو ہفتوں کیلئے شہر سے باہر جا رہا ہوں کچھ سرکاری کام نپٹانے ہیں "..شہریار ڈائننگ ٹیبل پے بیٹھے افراد سے مخاطب تھا وہ لوگ رات کا کھانا کھا رہے تھے یہاں ناصر ، نجمہ اور زینب موجود تھے ..” ابھی تو تم کوئٹہ سے آئے ہو پھر جا رہے ہو”…”امی کیا کروں سرکاری کام ہے اوپر سے آرڈر آیا ہے میں کیا کر سکتا ہوں”..”اچھا اچھا چلے جاؤ لیکن اپنا پتا بتا دینا”.ناصر بولے .”میں پتا نہیں بتا سکتا ابو مجھے بہت خفیہ طریقے سے بلایا جا رہا ہے یہاں تک کہ مجھے یہ بھی نہیں بتایا گیا کہ مجھے وہاں جا کر کیا کام کرنا ہے اور یہ بھی نہیں پتا کہ جانا کہاں ہے بس آئی جی صاحب کا ایک بندا مجھے لینے آئے گا اوراس جگہ پہنچا دے گا .”…”اتنے خفیہ طور پے "نجمہ نے حیرت سے کہا..” ہاں امی اہم کام ہیں نہ لہٰذا ایسے ہی خفیہ طور پے ہوتے ہیں”…”اچھا ٹھیک ہے چلے جانا لیکن اپنا دھیان رکھنا”ناصر نے کہا..”جی ابو "شہریار نے مسکرا کر جواب دیا اور کھانا کھانے لگا اس تمام گفتگو کے درمیان زینب نے ایک لفظ بھی نہیں کہا تھا اور کسی نے یہ نوٹ بھی نہیں کیا تھا کھانا کھانے کے بعد شہریار کمرے میں آیا اسکے تھوڑی دیر بعد ہی زینب بھی گھر کے کام ختم کرنے کے بعد کمرے میں داخل ہوئی اور آتے ہی بیڈ پے سونے کیلئے لیٹ گئی ” میں دو ہفتوں کیلئے شہر سے باہر جا رہا ہوں تم کچھ نہیں کہو گی اس بارے میں.”….”نہیں”زینب نے دو ٹوک جواب دیا "کیوں؟”….”کیا کہوں گی میں اس بارے میں جا رہے ہو گے کسی سے رشوت وصول کرنے کسی کا قتل کرنے بس یہ دو کام ہی تو آتے ہیں تمھیں”..شہریار اٹھ کر زینب کے پاس چلا آیا "تم بلکل غلط سوچ رہی ہو زینب وہ قتل میں نے مجبوری میں کئے تھے اور رہی بات کرپشن کی تو سنو جو میں نے کیا ہے نہ یہ کوئی کرپشن نہیں ہے بلکہ رشوت خوری ہے کرپشن تو ملک کا پیسا کھانا ہوتا ہے لیکن میں نے ملک کا پیسا نہیں کھایا صرف اور صرف چند انسانوں کا کھایا ہے اور یہ کوئی کرپشن نہیں رشوت خوری ہے”….” یہ بھی کرپشن ہی ہے شہریار تم بات کو گھما رہے ہو تم ایک کرپٹ پولیس افسر ہو تم دو لوگوں کے قاتل ہو”….”شاید تم صحیح کہہ رہی ہو لیکن اب سو جاؤ رات زیادہ ہو گئی ہے ورنہ تمہاری نیند پوری نہیں ہو گی”..”تمھیں میری اتنی فکر کیوں ہو رہی ہے”زینب نے طنزیہ کہا اور چادر اٹھا کر اپنے چہرے تک اوڑھ لی شہریار خاموشی سے اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا اسے رات میں چائے پینے کی عادت تھی اور وہ چائے بنانے ہی گیا تھا اسکے جانے کے بعد زینب چادر میں سے ہی بولی.”آخر کیا ہو تم شہریار ناصر یہ سب جاننے کے با وجود کے تم ایک قاتل ہو ایک کرپٹ پولیس افسر ہو میں آج بھی تم سے اتنی ہی محبت کرتی ہوں جتنی پہلے کرتی تھی لیکن میں کچھ بولتی نہیں کیونکے چاہے تم میرے لئے جتنے بھی عزیز ہو لیکن تم نے جو بھی کیا غلط کیا اور میں تمھیں سدھارنا چاہتی ہوں اس لئے مجھے تم سے ایسا برتاؤ کرنا ہی پڑے گا کیونکے میں نہیں چاہتی کہ تم مزید برے انسان بنو.”
****************************************************
کراچی کے ایک پر رونق علاقے کے ایک خوبصورت گھر کے دروازے پے شہریار دستک دے رہا تھا یہ اسکے کانسٹیبل نادر کے ایک دوست (عقیل) کا گھر تھا چند منٹ بعد ہی دروازہ کھلا اور ایک خوش شکل انسان کی صورت دکھائی دی .”شہریار ناصر؟”.اسنے پوچھا.”جی اور آپ شاید عقیل ہیں”..”جی میں ہی عقیل ہوں آ جائیے اندر” یہ کہہ کر عقیل نے شہریار کیلئے راستہ چھوڑا گھر بہت اچھا تھا جس میں تین کمرے اور ایک ڈرائنگ روم تھا عقیل اس گھر میں اکیلا ہی رہتا تھا وہ ملتان سے اپنی جاب کیلئے یہاں آیا ہوا تھا وہ دونوں باتیں کرتے ہوئے گھر کے ڈرائنگ روم میں پہنچ گئے.”گھر بہت پیارا بنا ہوا ہے آپکا”شہریار نے اسکے گھر کی تعریف کی .”بہت شکریہ ویسے یہ گھر میرا نہیں ہے یہ تو میری کمپنی کی طرف سے مجھے رہنے کیلئے ملا ہوا ہے ” ….”فلحال تو آپکا ہی ہے نہ "شہریار نے مسکرا کر کہا .” جی ہاں یہ کہہ سکتے ہیں خیر آپ بتائیں کیا پينا پسند کریں گے ؟”…”میں تو صرف چائے ہی پیتا ہوں لیکن ابھی تو چائے پینے کا بھی موڈ نہیں”..”اچھا پھر کیا لاؤں آپکے لئے”…”آپ کچھ نہیں لائیں بس یہیں بیٹھ جائیں”..”واہ کیا شعر بنایا ہے”….”بنایا نہیں بن گیا”…”ہاہاہاہا ہاں جی یہ بھی ہے”عقیل نے کہا اور شہریار کے لئے کچھ لانے کا ارادہ ترک کر کے وہیں بیٹھ گیا اور شہریار سے باتیں کرنے لگا.
***************************************************
(جاری ہے)


