منتخب غزلیں
شادؔ غیرممکن ہے شکوۂ بتاں مجھ سے میں نے جس سے الف…

شادؔ غیرممکن ہے شکوۂ بتاں مجھ سے
میں نے جس سے الفت کی اس کو باوفا پایا
…..
شاد عارفی کا یومِ وفات
February 08, 1964
نام احمد علی خان اور شادؔ تخلص کرتے تھے۔ 1900ء میں لوہارو اسٹیٹ میں پیدا ہوئے شادؔ عارفی کا شمار اردو کے اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے
..
منتخب کلام
…
اپنے جی میں جو ٹھان لیں گے آپ
یا ہمارا بیان لیں گے آپ
جستجو قاعدے کی ہو ورنہ
در بدر خاک چھان لیں گے آپ
عہد حاضر کے باد آئے گا
وہ زمانہ کہ جان لیں گے آپ
یوں تو غصہ حرام ہے لیکن
روز جب امتحان لیں گے آپ
آپ کو مہرباں سمجھتے ہیں
اور کیا ناک کان لیں گے آپ
صاف کہئے کہ چاہتے کیا ہیں
کیا غریبوں کی جان لیں گے آپ
یہ حریفان کم نظر اے شادؔ
مجھ کو اک روز مان لیں گے آپ
….
ہماری غزلوں ہمارے شعروں سے تم کو یہ آگہی ملے گی
کہاں کہاں کارواں لٹے ہیں کہاں کہاں روشنی ملے گی
جہاں ملیں گے بتوں کے ہونٹوں پہ یوں تو گہری ہنسی ملے گی
مگر بہ باطن خلوص و شائستگی میں واضح کمی ملے گی
اسی سمے ہم نے ان کو ٹوکا تھا باغباں جب یہ کہہ رہے تھے
بہار آتے ہی جی اٹھے گا چمن نئی زندگی ملے گی
سنبھل سنبھل کر قدم بڑھاتے ہیں اس طرح مصلحت کے پیرو
کہ جیسے سکے کی طرح رستے میں کامیابی پڑی ملے گی
ہمیں ستا کر جو ہیں پشیمان دل میں شاید وہ بچ بھی جائیں
ہمیں ستا کر جو مطمئن ہیں انہیں سزا لازمی ملے گی
بھرے ہوئے ساغر و سبو میں شراب بھر پائے گا نہ ساقی
تو پھر غریقان عیش و عشرت کو خاک آسودگی ملے گی
نہیں ہے انسانیت کے بارے میں آج بھی ذہن صاف جن کا
وہ کہہ رہے ہیں کہ جس سے نیکی کرو گے اس سے بدی ملے گی
غم محبت کے بعد آتی ہے سرحد التفات جاناں
شراب کی تلخیاں سہو گے تو لذت بے خودی ملے گی
یہ بد گمانان انجمن شادؔ کس لیے جان کھو رہے ہیں
نقاب اٹھانے کے بعد بھی اس نگاہ میں برہمی ملے گی
….
عہد مایوسی جہاں تک سازگار آتا گیا
اپنے آپے میں دل بے اختیار آتا گیا
کچھ سکوں کچھ ضبط کچھ رنگ قرار آتا گیا
الغرض اخفائے راز قرب یار آتا گیا
اڑتے اڑتے اس کے آنے کی خبر ملتی رہی
بال کھولے مژدۂ گیسوئے یار آتا گیا
رفتہ رفتہ میری الغرضی اثر کرتی رہی
میری بے پروائیوں پر اس کو پیار آتا گیا
جستہ جستہ لہلہایا گلشن زخم جگر
رفتہ رفتہ دستۂ گل پر نکھار آتا گیا
نیند آنکھوں میں مگر آتی گئی اڑتی گئی
دوش نکہت پر پیام زلف یار آتا گیا
اس نے جس حد تک بھی ہم سے داستان غم سنی
ہم کو اس نسبت سے فن اختصار آتا گیا
غالباً یہ بھی ہے میری کامیابی کا سبب
اپنی ناکامی پہ غصہ بار بار آتا گیا
ان میں شامل مسکراتے پھول بھی تارے بھی ہیں
جن دریچوں سے شعور حسن یار آتا گیا
آگے آگے آشیانے خار و خس چنتے چلے
پیچھے پیچھے تخت طاؤس بہار آتا گیا
اس قدر نزدیک تر آتی رہی قدموں کی چاپ
جس قدر خدشہ خلاف انتظار آتا گیا
اس کے رجحان نظر میں دل کشی پاتے ہوئے
اعتبار گردش لیل و نہار آتا گیا
رنگ لائے گی ہماری تنگ دستی ایک دن
مثل غالبؔ شادؔ گر سب کچھ ادھار آتا گیا
………………….
میں نے جس سے الفت کی اس کو باوفا پایا
…..
شاد عارفی کا یومِ وفات
February 08, 1964
نام احمد علی خان اور شادؔ تخلص کرتے تھے۔ 1900ء میں لوہارو اسٹیٹ میں پیدا ہوئے شادؔ عارفی کا شمار اردو کے اہم ترین شعرا میں ہوتا ہے
..
منتخب کلام
…
اپنے جی میں جو ٹھان لیں گے آپ
یا ہمارا بیان لیں گے آپ
جستجو قاعدے کی ہو ورنہ
در بدر خاک چھان لیں گے آپ
عہد حاضر کے باد آئے گا
وہ زمانہ کہ جان لیں گے آپ
یوں تو غصہ حرام ہے لیکن
روز جب امتحان لیں گے آپ
آپ کو مہرباں سمجھتے ہیں
اور کیا ناک کان لیں گے آپ
صاف کہئے کہ چاہتے کیا ہیں
کیا غریبوں کی جان لیں گے آپ
یہ حریفان کم نظر اے شادؔ
مجھ کو اک روز مان لیں گے آپ
….
ہماری غزلوں ہمارے شعروں سے تم کو یہ آگہی ملے گی
کہاں کہاں کارواں لٹے ہیں کہاں کہاں روشنی ملے گی
جہاں ملیں گے بتوں کے ہونٹوں پہ یوں تو گہری ہنسی ملے گی
مگر بہ باطن خلوص و شائستگی میں واضح کمی ملے گی
اسی سمے ہم نے ان کو ٹوکا تھا باغباں جب یہ کہہ رہے تھے
بہار آتے ہی جی اٹھے گا چمن نئی زندگی ملے گی
سنبھل سنبھل کر قدم بڑھاتے ہیں اس طرح مصلحت کے پیرو
کہ جیسے سکے کی طرح رستے میں کامیابی پڑی ملے گی
ہمیں ستا کر جو ہیں پشیمان دل میں شاید وہ بچ بھی جائیں
ہمیں ستا کر جو مطمئن ہیں انہیں سزا لازمی ملے گی
بھرے ہوئے ساغر و سبو میں شراب بھر پائے گا نہ ساقی
تو پھر غریقان عیش و عشرت کو خاک آسودگی ملے گی
نہیں ہے انسانیت کے بارے میں آج بھی ذہن صاف جن کا
وہ کہہ رہے ہیں کہ جس سے نیکی کرو گے اس سے بدی ملے گی
غم محبت کے بعد آتی ہے سرحد التفات جاناں
شراب کی تلخیاں سہو گے تو لذت بے خودی ملے گی
یہ بد گمانان انجمن شادؔ کس لیے جان کھو رہے ہیں
نقاب اٹھانے کے بعد بھی اس نگاہ میں برہمی ملے گی
….
عہد مایوسی جہاں تک سازگار آتا گیا
اپنے آپے میں دل بے اختیار آتا گیا
کچھ سکوں کچھ ضبط کچھ رنگ قرار آتا گیا
الغرض اخفائے راز قرب یار آتا گیا
اڑتے اڑتے اس کے آنے کی خبر ملتی رہی
بال کھولے مژدۂ گیسوئے یار آتا گیا
رفتہ رفتہ میری الغرضی اثر کرتی رہی
میری بے پروائیوں پر اس کو پیار آتا گیا
جستہ جستہ لہلہایا گلشن زخم جگر
رفتہ رفتہ دستۂ گل پر نکھار آتا گیا
نیند آنکھوں میں مگر آتی گئی اڑتی گئی
دوش نکہت پر پیام زلف یار آتا گیا
اس نے جس حد تک بھی ہم سے داستان غم سنی
ہم کو اس نسبت سے فن اختصار آتا گیا
غالباً یہ بھی ہے میری کامیابی کا سبب
اپنی ناکامی پہ غصہ بار بار آتا گیا
ان میں شامل مسکراتے پھول بھی تارے بھی ہیں
جن دریچوں سے شعور حسن یار آتا گیا
آگے آگے آشیانے خار و خس چنتے چلے
پیچھے پیچھے تخت طاؤس بہار آتا گیا
اس قدر نزدیک تر آتی رہی قدموں کی چاپ
جس قدر خدشہ خلاف انتظار آتا گیا
اس کے رجحان نظر میں دل کشی پاتے ہوئے
اعتبار گردش لیل و نہار آتا گیا
رنگ لائے گی ہماری تنگ دستی ایک دن
مثل غالبؔ شادؔ گر سب کچھ ادھار آتا گیا
………………….


