منتخب غزلیں
کچھ تو مجھے محبوب ترا غم بھی بہت ہے کچھ تیری توجہ…
کچھ تو مجھے محبوب ترا غم بھی بہت ہے
کچھ تیری توجہ کی نظر کم بھی بہت ہے
کچھ تیری توجہ کی نظر کم بھی بہت ہے
اشکوں سے بھی کِھلتا ہے وہ دل جو ہے گرفتہ
کلیوں کے لئے قطرۂ شبنم بھی بہت ہے
ہم خود ہی نہیں چاہتے صیاد سے بچنا
سازش نگہ و دل کی منظم بھی بہت ہے
ہے رشتۂ دُزدیدہ نگاہی بھی عجب شے
قائم یہ ہوا پر بھی ہے، محکم بھی بہت ہے
ڈھائے دلِ نازک پہ بہت اس نے ستم بھی
پھر لطف یہ ہے مجھ پہ وہ برہم بھی بہت ہے
یہ طُرفہ تماشا ہے کیا قتل بھی مجھ کو
اور پھر مرے مرنے کا انہیں غم بھی بہت ہے
پڑتے ہیں ستمگر کے ذرا وار بھی اوچھے
اور فضلئ بسمل میں ذرا دم بھی بہت ہے
(فضل احمد کریم فضلی)
المرسل :-: ابوالحسن علی ندوی


بہت عمدہ
Wah
Wah! ! ❤️
la jawab
Bahut khoob
زبردست
V nice