یہ عشق فنا کر دے (حذیفہ ہارون) قسط نمبر 5 زین اپ…

قسط نمبر 5
زین اپنے کمرے میں پڑھائی کر رہا تھا کے خاور کتابوں کا ایک ڈھیر لئے اسکے کمرے میں داخل ہوا وہ نوک کئے بغیر آیا تھا زین کو بہت غصّہ آیا لیکن اسنے اپنا غصّہ قابو کرلیا کیونکے خاور کے پیچھے پیچھے حماد بخاری داخل ہوئے انکے ہاتھ میں بھی چند ایک کتابیں تھیں وہ کتابیں ان دونوں نے اسٹڈی ٹیبل پر رکھ دیں…..
یہ کیا ہے زین جو بک پڑھ رہا تھا وہ اسنے سائیڈ پر رکھی…..
یہ سب بکس ہیں…..حماد بخاری نے کہا اور ساتھ ہی خاور کو باہر جانے کو کہا وہ سر کو خم دے کر کمرے سے باہر نکل گیا……
وہ تو مجھے بھی پتا ہے لیکن یہ بکس لائبریری کی جگہ میرے کمرے میں کس خوشی میں رکھی گئی ہیں…..زین نے منہ بنا کر کہا انکے بنگلے کے پچھلے حصّے میں ایک اچھی بڑی لائبریری بھی تھی……
یہ بکس اسپیشلى تمہارے لئے ہیں اس لئے تمہارے ہی کمرے میں رکھی ہیں…..
اچھا میرے لئے کیوں….اسنے سوالیہ نگاہوں سے انکی جانب دیکھا…..
کیونکے تم رفتہ رفتہ اسلام سے دور ہوتے جا رہے ہو اس لئے میں نے تمھیں دوبارہ اسلام کی طرف راغب کرنے کا سوچا یہ تمام کی تمام بکس اسلامی ہیں….انکے کہنے پے زین نے کتابوں کو غور سے دیکھا وہ اسلامی ہی تھیں پھر اسنے منہ بنا کر کہا "آپکو پتا ہے نہ ڈیڈ مجھے اسلامک بکس پسند نہیں ہیں آپ مجھے انگلش ناولز اور ہسٹریكل بکس لا کر دے دیا کریں میں وہ پڑھتا ہوں یہ سب پڑھنا میرے بس کی بات نہیں”….
تمھیں یہ سب پڑھنا چاہئے تم ایک مسلمان ہو تمھیں اسلام کے بارے میں جاننا چاہیے ایک مسلمان ہونے کے ناتے یہ تمہارا فرض ہے…..
ایک سیاست دان اتنی اسلامی باتیں کر رہا ہے اسٹرينج…..اسنے حیرت سے کہا ایک پل کو حماد بخاری الجھ گئے کے وہ انکی تعریف کر رہا ہے یا برائی لیکن پھر انہوں نے سنبھل کر کہا ” سیاست دان ہوں منافق نہیں جو دین و اسلام کی باتیں نہیں کروں ".
لیکن زیادہ تر سیاست دان منافق ہی ہوتے ہیں….اسنے ناک سے مکھی اڑائی حماد بخاری اسکی اس بات پے صرف منہ بنا کر رہ گئے…..
منہ کیوں بنا رہے ہیں میں نے اکثر سیاست دان کہا ہے یہ نہیں کہا کے سب سیاست دان منافق ہوتے ہیں اور آپ اکثر میں نہیں سب میں آتے ہیں…..
اففففففف….زین نے انکا دماغ الجھا کر رکھ دیا تھا…..
تم بات کو پلٹ رہے ہو زین میں تم سے کیا بات کر رہا تھا اور تم کہاں تک لے گئے اس بات کو…..
ٹھیک ہے آپ اپنی ہی بات کریں ……
ہاں تو میں کیا کہ رہا تھا یہ کہ کر وہ سوچنے کیلئے رکے پھر مزید کہا …میں یہ بات کر رہا تھا کے تمہارا دل رفتہ رفتہ دین کی طرف سے اچاٹ ہوتا جا رہا ہے اور یہ سب شاید تمہارے دوست جم کی وجہ سے ہو رہا ہے مجھے ڈر ہے وہ تمھیں بھی كريسچن نہ کر دے……
اوہو ڈیڈ جم اتنا اچھا لڑکا ہے وہ آج تک کسی بھی مذہب کے خلاف نہیں گیا نہ اسنے کبھی مذہب پے بحث کی اور نہ ہی کسی کو اپنے مذہب کی طرف راغب کرنے کی کوشش کی وہ بہت اچھا لڑکا ہے بلکے وہ تو مسلمان ہونے کا سوچ رہا ہے……
اوہ ڈیٹس ویری گڈ لیکن وہ تو بہت ہی زیادہ کٹر عیسائی ہیں پھر وہ مسلمان کیسے ہو گا اسکی فیملی کچھ بھی کر سکتی ہے…..
جی ڈیڈ بس اسے اسی بات کا ڈر ہے کے اسکے اسلام قبول کرنے سے اسکی فیملی کا کیا رد عمل ہوگا ورنہ وہ اب تک اسلام قبول کر چکا ہوتا …..
چلو اللّه تعالیٰ اسے ہمت دیں اسلام قبول کرنے کی اور اسے ایک نیک مسلمان بھی بنائیں میں چلتا ہوں انہوں نے گھڑی دیکھتے ہوئے کہا …..اور ہاں تم یہ بکس ضرور پڑھ لینا اسلام کے بارے بہت اچھی معلومات ملے گی تمھیں ان بکس سے…..یہ کہ کر انہوں نے دروازہ کھولا اور باہر نکل گئے زین اثبات میں سر ہلا کر رہ گیا جو کتاب وہ کچھ دیر پہلے پڑھ رہا تھا وہی کتاب اسنے پھر ہاتھ میں لے لی ان اسلامک بکس کی طرف اسنے آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا……….
ڈیڈ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے. جم نے اپنے ڈیڈ کے دروازے پر دستک دی..
آ جاؤ ….سائمن نے اسے اجازت دی وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا اندر داخل ہوا بیڈ پر سائمن کے برابر ہی بیٹھ گیا کافی دیر تک تو وہ سوچتا ہی رہا کے وہ انسے اس بارے میں بات کرے یا نہ کرے….
کہو کیا بات ہے ….سائمن نے جھلا کر کہا…..
وہ ڈیڈ میں مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہوں……اسنے ڈرتے ڈرتے کہا اسے پتا تھا اسکے باپ کا کیا رد عمل ہونے والا تھا……
جم میں اس وقت مذاق کے موڈ میں بلکل بھی نہیں ہوں جاؤ مجھے سونا ہے رات زیادہ ہو رہی ہے…..سائمن سمجھا کے وہ مذاق کر رہا ہے…
میں مذاق نہیں کر رہا میں سنجیدہ ہوں میں واقعی مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہوں….اس بار اسکے چہرے پے چھائے ڈر کی جگہ سنجیدگی نے لے لی …..
اچھا کونسا مذہب اختیار کرو گے پھر تم….سائمن کافی پرسكون دکھائی دے رہا تھا گویا اسے اس بات کا کوئی خوف نہیں تھا کے اسکا بیٹا مذہب تبدیل کر رہا ہے……
اسلام…اس نے مختصر کہا …
اچھا تمھیں اسلام کے بارے میں ذرا بھی معلومات ہے……
جی ڈیڈ مجھے بہت معلومات ہے میں نے دین اسلام پے لکھی ڈھیروں کتابیں پڑھی ہیں اور کافی سوچ بچار کے بعد میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کے اسلام سہی ہے …
تم یہ کہنا چاہ رہے ہو کے ہم غلط ہیں ہمارا مذہب غلط ہے……سائمن نے اسے گھور کر دیکھا ……
جی بلکل ہم غلط ہیں ہمارا مذہب بھی غلط ہے …اسنے صاف گوئی سے کہا….
پھر جب تم فیصلہ کر ہی چکے ہو تو میرے پاس کیا لینے آئے ہو…..انہوں نے خفگی سے کہا….
بس آپکی اجازت درکار ہے….جم نے شریفانا لہجے میں کہا…..
ٹھیک ہے پھر میں تمھیں منع کرتا ہوں تم مذہب تبدیل نہیں کرو اب کہو مانو گے میری بات نہیں دیتا میں تمھیں اجازت مذہب تبدیل کرنے کی ہم ٹھیک ہیں ہم بلکل سچے ہیں ہمارا مذہب بھی سچا ہے……
سوری ڈیڈ یہ تو بس اخلاقاً اجازت لی تھی میں نے ورنہ میں اب رک نہیں سکتا مجھے اب اپنا مذہب تبدیل کرنا ہے اسکے کیلئے کچھ بھی کر سکتا ہوں میں کچھ بھی چھوڑ سکتا ہوں کچھ بھی…..وہ اپنے ارادے کا پکّا تھا……
ٹھیک ہے تم مسلمان ہو جاؤ لیکن اسکا بھی نتیجہ نکلے گا اسکے ذمہ دار تم خود ہو گے ….
جی بلکل میں ہی ذمہ دار ہوں گا … اسنے یہ کہا اور پاس رکھے جگ میں سے گلاس میں پانی انڈيلنے لگا اسکا حلق خشک ہو گیا تھا اسنے دو گھونٹ پانی پیا اور بچا ہوا پانی وہیں رکھ دیا …..
اب کیا کوئی بات کرنے کیلئے رہ گئی ہے ….انہوں نے اسے گھور کر دیکھا…..
نہیں ….وہ اٹھا اور کمرے سے باہر نکل گیا……
جم اپنے کمرے میں بیٹھا ایک اسلامی کتاب پڑھ رہا تھا اب وہ اسلام کے زیادہ قریب ہو گیا تھا اور کامران اور زین وغیرہ سے دور ہو گیا تھا وہ اپنا زیادہ تر وقت انہی کتابوں کے ساتھ گزارتا تھا اسنے بہت سے برے کام بھی چھوڑ دئے تھے اور مزید بھی ایک ایک کرکے چھوڑ رہا تھا اسے اب سائمن کا بھی خوف نہیں تھا اسے پتا تھا کے وہ راہ حق پر ہے اسے معلوم ہو گیا تھا کے دین اسلام ہی دنیا کا سب سے سچا مذہب ہے اسے اب اس بات کا ڈر نہیں تھا کے اسلام قبول کرنے کے بعد اسکی فیملی اسکے ساتھ کیا کرنے والی تھی شاید وہ اسکی پڑھائی چھڑوا دیتے یا اسے در بدر کرتے لیکن اب اسے پرواہ نہیں تھی اسکی فیملی اسکے ساتھ جو بھی کریں اسے گھر سے نکال دیں اس گھر کے دروازے ہمیشہ کیلئے اسے بند کر دیں اسے پتا تھا چاہے دنیا جہاں کا تمام دروازے بند ہو جائیں پھر بھی ایک دروازہ ہمیشہ اسکے لئے کھلا رہے گا وہ ہے اللّه تبارک و تعالیٰ کا دروازہ اسکی رحمت کا دروازہ اسکی بخشش کا دروازہ اللّه نے اپنا ہر دروازہ اسکے لئے کھول رکھا ہے اس وقت جم کو زندگی میں پہلی دفع اتنی خوشی ہوئی تھی وہ سچائی کی راہ پے بھی تو پہلی دفع ہی چل رہا تھا حق کی راہ پے بھی تو پہلی دفع ہی چل رہا تھا تو یہ خوشی بھی اسے پہلی دفع ہی محسوس ہونی تھی اتنے سال تک اسکی آنکھوں پر جھوٹ کی پٹی بندھی تھی لیکن اب وہ پٹی اتر گئی تھی سچائی کا رستہ اسکے سامنے تھا اب بس اسے اس راہ کا مسافر بننا تھا ایسا مسافر جسکو صرف اپنی منزل کی فکر ہو اسکی منزل آخرت تھی اسے آخرت تک کا سفر طے کرنا تھا پھر اسکے بعد یہ سفر ہمیشہ کیلئے ختم ہو جانا تھا تمام مسافر اپنی منزل تک پہنچ جاتے اپنے انجام تک پہنچ جاتے کسی کو اچھا مسافر بن کر دنیا کی اس طویل راہ پر حق کیلئے قدم بڑھانے پے جنّت سے نوازا جاتا اور کوئی دوزخ پا لیتا جم کو بھی ایک ایسا ہی مسافر بننا تھا جو دنیا کی اس طویل راہ پر حق کیلئے قدم بڑھاتا تو اسے اسکے انعام میں جنّت سے نواز دیا جاتا یوں تو وہ کتاب کھولے بیٹھا تھا لیکن اسکا ذہن کہیں اور تھا وہ کچھ اور سوچ رہا تھا وہ آدھی سے زیادہ بک پڑھ چکا تھا اسنے بک بند کی اور جیب سے موبائل نکالا اور زین کو ٹیکسٹ کیا …
السلام و علیکم…..
وعلیکم السلام تم سلام کر رہے ہو جم یو آر آ کرسچین اور تم سلام کر رہے ہو….اس ٹیکسٹ کے پیچھے بے پناہ حیرت چھپی تھی ….
میں بہت جلد مسلمان ہونے والا ہوں ..
اچھا کب ؟….
کل عصر کی آذان سے پہلے ابراہیم مسجد میں میں اسلام قبول کروں گا اور پھر ہم ساتھ میں عصر کی نماز پڑھیں گے …
ٹھیک ہے بائے ….شاید وہ بور ہو رہا تھا وہ کبھی بھی اسلام کے بارے میں دلچسپی نہیں لیتا تھا صرف سرسری سی گفتگو کرتا اور بات کو ٹال دیتا آج بھی اسنے یہی کیا تھا جم اسلام کے بارے میں اس سے کچھ ڈسکس کرنا چاہتا تھا لیکن زین نے اس سے بات تک نہیں کی تھی اس کی جگہ اگر وہ کسی مووی کے بارے میں بات کر رہا ہوتا تو اس سے گھنٹوں بات کر لیتا لیکن اسلام پے اسنے اتنی سی بھی بات نہیں کی تھی بحر حال جم نے اس بارے میں زیادہ نہیں سوچا کامران کو کال کرکے اسے بھی بتا دیا اور کل شام عصر کی آذان سے پہلے ابراہیم مسجد آنے کو کہا کامران نے فورا حامی بھر لی جم نے موبائل واپس جیب میں رکھا اور دوبارہ وہی بک کھول کر بیٹھ گیا ….
سورج کی خوبصورت کرنيں مسجد کے صاف شفاف صحن پر پڑ رہی تھیں جہاں جم کامران اور ان کے چند اور دوست بھی جمع تھے بس زین ہی نہیں آیا تھا اسنے یہ کہ دیا تھا کے وہ بیزی ہے اس لئے آ نہیں سکا تھا جبکے جم کو معلوم تھا کے اسنے بہانہ بنایا ہے وہ مسجد میں آنا ہی نہیں چاہتا تھا جم نے بھی اسے دوبارہ نہیں کہا اسکی مرضی وہ آئے یا نہ آئے…
کچھ ہی دیر میں وہ جم سے بلال ہونے والا تھا اسنے اپنے لئے خود ہی یہ نام تجویز کیا تھا اب وہ ہمیشہ کیلئے بلال ہونے والا تھا بس کچھ دیر اسے انتظار کرنا تھا چندمنٹوں بعد ہی مولوی صاحب آئے انہوں نے پہلے تو سب سے سلام کیا پھر جم کے سامنے بیٹھ گئے انہوں نے سب سے پہلے اسے کلمہ طیبہ پڑھایا پھر اسکے بعد انہوں نے اسے پانچ کلمے مزید یاد کرنے کو کہا "مجھے یاد ہیں” کہ کر جم نے انہیں اور پانچ کلمے سنا دیا ….
ماشاءالله ….انہوں نے اسکی تعریف کی پھر اسے دین کی چند موٹی موٹی باتیں سمجھائیں اس سے نماز کا طریقہ معلوم کیا اسنے بلکل ٹھیک سنایا مولوی صاحب نے پھر اسکی تعریف کی اسے کچھ نصیحتيں کیں روزانہ قرآن کی تلاوت کرنے کو کہا اور پانچ وقت کی نماز پڑھنے کی تلقین کی اسنے انکی تمام باتیں انکی تمام نصیحتیں غور سے سنیں اور اثبات میں سر ہلايا تھوڑی دیر بعد عصر کی نماز کا وقت ہو گیا مولوی صاحب آذان دینے چلے گئے آذان ختم ہونے کے بعد وہ مسجد کے اندرونی حصّے میں آیا باجماعت عصر کی نماز پڑھی کامران نے بھی ساتھ ساتھ نماز پڑھی پھر وہ مولوی صاحب کو اللّه حافظ کہ کر مسجد سے باہر نکل آئے …..
آج ایک اور انسان سچائی کی طرف راغب ہو گیا اسلام کی طرف راغب ہو گیا آج اللّه کے نیک بندوں میں ایک اور بندے کا اضافہ ہو گیا تھا.
جم ویسے تمہاری ہمّت پے داد دینے کو جی چاہتا ہے تم نے اسلام قبول کرنے میں اتنی تیزی دکھائی اور اپنی فیملی کی بھی نہیں سنی بہت اچھے ….زین نے تعریف کن نگاہوں سے اسکی طرف دیکھا…..
نہیں اب میں جم نہیں ہوں بلال ہوں…بلال نے اپنا پین جیب میں رکھتے ہوئے کہا وہ لوگ اپنی کلاس میں بیٹھے تھے …..
ہاں ہاں بلال لیکن تم ہمارے لئے اب بھی جم ہی ہو شروع سے تمھیں جم ہی کہتے آئے ہیں بلال کچھ عجیب سا لگتا ہے……کامران نے کہا….
ہاں ہاں ہم تو جم ہی کہیں گے …زین نے بھی اسکی تائید کی ….
ہرگز نہیں میرا نیا نام تم لوگوں کو عجیب لگے یا کچھ اور تم مجھے اس ہی نام سے پکارو گے سمجھ گئے….بلال نے ان دونوں کو گھور کر کہا …
اچھا اچھا بھائی بلال ہی کہیں گے اب خوش….زین نے ہنس کر کہا ….
ہاں خوش ….
ویسے واقعی جو تم نے کیا ہے اسکے لئے کافی ہمّت چاہیے ہوتی ہے لیکن مجھے لگ رہا ہے تمہارا یہ مذہب تبدیل کرنا تمھیں کافی مہنگا پڑ سکتا ہے….زین نے اپنے ذہن میں اٹھتے خیال کا اظہار کیا ….
کیوں کیوں مہنگا پڑے گا …
اگر سائمن انکل نے تمھیں گھر سے نکال دیا تو یا اگر انہوں نے تمہاری پڑھائی وغیرہ چھڑوا دی… زین نے اپنے خیال کی وضاحت کی ….
اول تو وہ ایسا کریں گے ہی نہیں اور اگر پھر بھی انہوں نے ایسا کچھ کیا تو مجھے کوئی ڈر خوف نہیں ہے کیونکے میرے حصّے کی تمام جائیداد میرے نام پر ہے اگر انہوں نے مجھے گھر سے نکال دیا یا پڑھائی سے ہٹوا دیا تو میں اپنے حصّے کی تمام جائیداد بچ کر ایک چھوٹا سا فلیٹ وغیرہ خرید لوں گا اور بچ جانے والی رقم سے کوئی بزنس وغیرہ کر لوں گا اس طرح میں اپنی پڑھائی بھی جاری رکھ سکوں گا اور رہنے کیلئے ایک ٹھکانہ بھی میرے پاس ہو گا ….
واہ کیا بات ہے تم نے تو اچھے خاصی پلاننگ کی ہوئی ہے . زین زور سے ہنسا …..
بلکل میں ہر چیز وقت سے پہلے کرنے کا عادی ہوں بلال نے چہکتى ہوئی مسکراہٹ کے ساتھ جواب دیا ….
آئی نو….
کامران آج تم کچھ نہیں بول رہے کیا کوئی بات ہے….زین اسے خاموش پا کر اسکی طرف متوجہ ہوا ..
نہیں بس میں تم دونوں کی باتیں سن رہا تھا ….
ہماری سن لیں اب کچھ اپنی بھی سناؤ….
میں کیا سناؤں ….کامران نے ہنستے ہوئے کہا….
کچھ بھی…
فلحال میرے پاس سنانے کیلئے کچھ بھی نہیں ہے تم دونوں کی سن لی یہ ہی کافی ہے کلاس کا ٹائم ہو رہا ہے اور سر بھی تشریف لا رہے ہیں اب پڑھائی شروع کردو کامران نے انہیں کلاس میں داخل ہوتے ہوئے سر کے بارے میں آگاہ کیا وہ دونوں اسکے اس انداز پے ہنس پڑے وہ بچپن سے ایسا ہی تھا ہمیشہ سر سے ڈرتا رہتا تھا .
زوں زوں پاس رکھا موبائل وائبريٹ ہوا اسنے بک سے نگاہ ہٹائی اور موبائل کی سکرین پے ڈالی فریال کی کال تھی….
السلام و علیکم…کائنات نے کال اٹینڈ کی….
وعلیکم السلام کیا کر رہی ہو …….
ایک بک پڑھ رہی ہوں…کائنات نے بک بند کرکے سائیڈ میں رکھ دی ..
کونسی…فریال نے اشتیاق سے کہا….
اسلامک ہے….
اچھا کس ٹوپک پے ہے….
اسلام میں پردے کے احکامات پر ہے…..
اوہ اچھا کونسے مصنف کی ہے….جواب میں کائنات نے اسے مصنف کا نام بتایا …..
ہمممممم کیسی ہے انٹرسٹنگ ہے….
مجھے تو تمام اسلامی بکس انٹرسٹنگ ہی لگتی ہیں اب تمھیں پتا نہیں کیسی لگے ….
خیر مجھے تمام بکس تو انٹرسٹنگ نہیں لگتیں کچھ کچھ ہی پسند آتی ہیں شاید یہ بھی پسند آئے …..
ہاں مجھے یقین ہے تمھیں یہ بک ضرور پسند آئے گی….
ہمممممم اور کل کالج آؤ گی نہ…..
ہاں آؤں گی….
ٹھیک ہے پھر کل ملاقات ہوگی اللّه حافظ….یہ کہ کر فریال نے کال کٹ کر دی کائنات کو اللّه حافظ کہنے کا بھی موقع نہیں دیا کائنات نے دوبارہ وہی بک کھول لی جو وہ کچھ دیر پہلے پڑھ رہی تھی ….
زین آگے کا کیا سوچا ہے تم نے ….اشعر ڈرائنگ روم میں بیٹھے زین کے برابر والے سنگل صوفے پر آ کر بیٹھ گیا ….
بس بھائی آپکو تو پتا ہی ہے میں مزید پڑھائی کیلئے امریکا جاؤں گا ….
اچھا امریکا کی یونیورسٹی میں….
ابھی یہ تو نہیں سوچا ايگزيمز کے بعد ہی ڈیسائڈ کروں گا کے کس یونیورسٹی میں جانا ہے….
ہممممم کب سے سٹارٹ ہیں تمہارے ايگزيمز…
چار مہینے بعد ہیں اسنے اشعر کے ہاتھ سے فنگر فرائیز جھپٹتے ہوئے کہا…..
تم اپنے لئے خود بنوایا کرو جب بھی میں کھاتا ہوں آدھے سے زیادہ تو تم ہی کھا جاتے ہو …اشعر نے منہ بنا کر کہا ….
میں کیا کروں جب اپنے لئے بنواتا ہوں تو کھانے کا دل ہی نہیں چاہتا اور جب آپ کھا رہے ہوتے ہیں تو میرا بھی دل مچل اٹھتا ہے …
تو اپنے دل کا علاج کراؤ نہ جو دوسروں کو کھاتے دیکھ کر فورا مچل اٹھتا ہے اور ویسے اسے خبر تک نہیں ہوتی …
کرا لوں گا ویسے آپ اتنے تیار ہو کر کہاں جا رہے ہیں….
بس یار ایک میٹنگ میں جانا ہے ….
رات کے نو بجے میٹنگ …زین نے حیرت سے کہا ….
ہاں جسکے ساتھ میٹنگ ہے وہ اس ہی وقت فری ہوتا ہے …
اوہ اچھا ….
اور تم نے کچھ سوچا ہے پڑھائی کے بعد کیا کرنا ہے ڈیڈ کے ساتھ کام کرو گے یا پھر اپنا کوئی کام سٹارٹ کرو گے یا کچھ اور….وہ اسکے فیوچر پلانز جاننے کیلئے انٹرسٹڈ تھا …..
نہیں ابھی تو میں نے اس بارے میں کچھ بھی نہیں سوچا فلحال تو میں پڑھائی پر دھیان دے رہا ہوں پڑھائی کے بعد سوچیں گے کے آگے کیا کرنا ہے ….زین نے ایک فرائى منہ میں ڈالا….
ہاں اچھا ہے تم اپنی پڑھائی پے ہی فوكس کرو یہ کہ کر اسنے گھڑی دیکھی .اوہ میری میٹنگ ہونے والی ہے پھر ملتا ہوں راشد کار باہر نکالو جلدی….یہ کہتا وہ ڈرائنگ روم سے باہر نکل گیا زین پھر سے وہ فرائيز کھانے لگا …..
کائنات تم نے میرے نوٹس بنا دئے. فریال نے اسے مخاطب کیا ……
نہیں یار نہیں بنا سکی ٹائم ہی نہیں مل سکا میں نے اپنے بھی نہیں بنائے……
اوہو تم سے اچھا تو میں کسی اور کو ہی دے دیتی اب مجھے خود ہی بنانے پڑیں گے …
ارے پریشان کیوں ہوتی ہو آج میں لازمی بنا دوں گی ….
بنا دینا یاد سے اور اگر نہیں بنائے نہ تو دیکھ لینا….فریال نے اسے دھمکی دی….
دیکھ لوں گی کائنات نے ہنستے ہوئے کہا ….
اچھا چلو ریسس ہو گیا …..گھنٹی کی آواز سن فریال نے کہا اور دونوں ساتھ گی باہر آ گئیں…..
جاؤ یار تم اپنے لئے کینٹین سے کچھ لے کر آؤ اور میرے لئے بھی لے آنا….فریال نے اپنے پیسے اسکے ہاتھ میں پکڑائے ..
تم خود نہیں جا سکتیں ..کائنات نے جل کر کہا …..
نہیں میں تمہارا انتظار کر رہی ہوں جلدی لے کر آؤ…فریال نے ہنستے ہوئے کہا اور اسے دھکا دیا….
جا رہی ہوں نہ پھر دھکا دینے کی کیا ضرورت ہے کائنات نے منہ بنا کر کہا اور فریال ہنسنے لگی کائنات لمبے لمبے قدم اٹھاتی کینٹین کی جانب چل پڑی وہ واپس آئی تو اسکے ہاتھ میں اپنی اور فریال کی چیز تھی ساتھ ہی وہ کچھ بڑبڑاتى ہوئی آ رہی تھی اگرچہ اسنے نقاب لگایا ہوا تھا لیکن پھر بھی فریال کو نظر آ ہی گیا وہ کچھ بولتی ہوئی آ رہی تھی….
کیا ہوا بڑبڑا کیوں رہی ہو فریال نے اسکے ہاتھ سے چیز لیتے ہوئے کہا …..
یہ تھرڈ ایئر کا سٹوڈنٹ زین ہے نہ ہر وقت میرے پیچھے پڑا رہتا ہے ابھی بھی پردے والی میڈم کہ رہا تھا ہر وقت یہ ہی کہتا رہتا ہے پردے والی میڈم پردے والی میڈم پتا نہیں کیا پرابلم ہے اسے عجیب نمونہ ہے…وہ غصّے میں تھی اور جو بھی اسکے منہ میں آ رہا تھا کہے جا رہی تھی ….
ہاہاہاہا تم بھی نہ چھوڑو اسے اسکی باتوں پر دھیان نہیں دیا کرو ویسے تم نے کہا تو بلکل ٹھیک ہے وہ واقعی نمونہ ہے….فریال نے ایک بسکٹ منہ میں رکھا ….
هممممممممممممم….کائنات بھی بسکٹ کھانے لگی …..
چلو نماز کا ٹائم ہو رہا ہے نماز پڑھ لیں پھر گھر کیلئے نکلتے ہیں…..بلال نے کالج کے دروازے سے باہر نکلتے ہوئے کہا…..
کونسی نماز کا ٹائم …زین نے مصنوعی حیرت سے کہا کی جبکے اسے معلوم تھا کے ظہر کا وقت ہو رہا ہے…..
ظہر کا ….
اوہ اچھا ٹھیک ہے تم نماز پڑھ کر آؤ ہم یہیں تمہارا ویٹ کر رہے ہیں …زین نے کار کا دروازہ کھولا اور اس میں بیٹھنے ہی جا رہا تھا کے بلال نے اسے روک دیا ….
تم نماز پڑھنے نہیں جاؤ گے.
نہیں تم جاؤ اور اگر کامران جا رہا ہے تو اسے بھی لے جاؤ….زین نے بے زاری سے کہا بلال نے سوالیہ نگاہوں سے کامران کی طرف دیکھا جسنے انکار میں سر ہلايا ..
"یار میرے پاؤں میں درد ہے ورنہ میں ضرور چلتا” کامران نے بہانہ بنایا….
چچ چچ کیسے ہو تم لوگ نماز بھی پڑھنے نہیں جا سکتا .اتنے بہانے حد ہوتی ہے افسوس صد افسوس ….بلال کے لہجے میں واقعی افسوس تھا ….
یار اگر تمھیں جانا ہے تو جاؤ نہیں جانا تو مت جاؤ لیکن دماغ خراب مت کرو….زین نے جھلا کر کہا ….
ہاں یہ بلکل ٹھیک کہ رہا ہے اگر تمھیں جانا ہے تو چلے جاؤ پر ہمیں تنگ نہیں کرو….کامران نے بھی اسکی تائید کی …..
ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی میرا کام ہے تمھیں تلقین کرنا اب تم عمل کرو یا نہ کرو یہ تمہارے اوپر ہو …وہ شانے اچكاتا آگے بڑھ گیا…..
ویسے یہ نماز پڑھے گا کہاں…اسکے جانے کے بعد زین نے کامران سے پوچھا….
ظاہر ہے مسجد میں ہی پڑھے گا …کامران نے جلے کٹے لہجے میں کہا ..
وہ تو مجھے بھی پتا ہے مسجد میں ہی پڑھے گا لیکن یہاں آس پاس مسجد کہاں ہے …
کالج کے پیچھے والے روڈ پر ہے نہ ایک مسجد وہیں گیا ہوگا …
اچھا کالج کے پچھلے روڈ پے کوئی مسجد بھی ہے….زین نے حیرت سے کہا …
ہاں کبھی نماز پڑھنے جاؤ تو پتا ہو نہ…کامران نہ طنزیہ لہجے میں کہا…..
ہاں تم تو بڑی پانچوں وقت کی نماز پڑھتے ہو زین نے بھی ترکی بہ ترکی جواب دیا کامران اسکی بات پے ایک زوردار قھقهہہ لگایا…
رات کے تین بج رہے ہیں اور تم یہاں فلم دیکھ رہے ہو ..حمادبخاری. نے زین کو ڈرائنگ روم میں بیٹھے دیکھا تو اسے ڈانٹنے لگے …
جی ڈیڈ بس یہ فلم کا اینڈ ہی چل رہا ہے پھر سو جاؤں گا ویسے آپ کیوں اتنی رات کو جاگ رہے ہیں…
جاگ نہیں رہا سو ہی رہا تھا لیکن تمہارے ٹی وی کی آواز سن کر میری آنکھ کھل گئی….
اوہ اچھا خیر میں آواز کم کر دیتا ہوں آپ سو جائیں….زین نے کہا اور ٹی وی کی آواز کم کردی….
ٹھیک ہے تم بھی فلم دیکھو اور جلدی سے سو جاؤ ..یہ کہتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئے…….
اوہ میرے ڈیڈ ابھی تو یہ فلم سٹارٹ ہوئی ہے آپ بھی کتنے بھولے ہیں میں نے آپکو کہا کے فلم ختم ہونے والی ہے اور آپ نے مان لیا یو آر ویری انوسينٹ ڈیڈ ….حماد بخاری کے جانے کے بعد اسنے دھیمى آواز میں کہا اور ٹی وی کی آواز پھر سے بڑھا دی بلکے اب اسنے پہلے سے بھی زیادہ آواز بڑھا دی تھی وہ فلم دیکھ رہا تھا اور ساتھ ہی حماد بخاری کا انتظار کر تھا کے وہ کب آئیں گے اور اسے دوبارہ ڈانٹيں گے اور وہ آواز کم کرے گا اور انکے جانے کے بعد پھر سے بڑھا دے گا اسے مزہ آتا تھا دوسروں کو تنگ کرنے میں پتا نہیں کیا چیز تھا وہ واقعی بہت عجیب تھا یہ زین…..
(جاری ہے)


