منتخب غزلیں
اس نے پچھلے درد کو کچھ اس طرح تازہ کیا – آزاد حسین آزاد

اس نے پچھلے درد کو کچھ اس طرح تازہ کیا
شہر بھر میں ہاؤ ہو کی اور آوازہ کیا
جا رہے ہیں جنگلوں کی اور بھوکے بھیڑیے
بکریوں کے شور سے میں نے یہ اندازہ کیا
ایک بیٹی نے نبھائے باپ سے سب عہد یوں
تیل چھڑکا جسم پر اور آگ کو غازہ کیا
گل کیے سارے دئیے تکیے نے اپنے ہاتھ سے
دودھیا چادر نے اٹھ کر بند دروازہ کیا
صبح کی کرنوں نے کھڑکی سے ہٹائیں چادریں
کیمرے کی آنکھ نے محفوظ خمیازہ کیا
تھے پرانی فلم پر سکریچ کافی پڑ گئے
اک نئی سی ڈی خریدی جس کو شیرازہ کیا



