افسانے
اذیتوں سے گزر رہے تھے کہ مر نہ جائیں یہ لوگ ہر روز مر رہے تھے کہ مر نہ جائیں می…

اذیتوں سے گزر رہے تھے کہ مر نہ جائیں
یہ لوگ ہر روز مر رہے تھے کہ مر نہ جائیں
یہ لوگ ہر روز مر رہے تھے کہ مر نہ جائیں
میں ایسی قبروں پہ جا کہ بیٹھا تو رو پڑا میں
جو لب کشائی سے ڈر رہے تھے کہ مر نہ جائیں
عجیب بزدل تھے شہر والے کہ ظلم پر بھی
جو آنکھیں ہی بند کر رہے تھے کہ مر نہ جائیں
Source


