اردو زبان کی ایک اور خصوصیت بھی ہے جس پر بہت کم توجہ کی گئی۔ وہ عورتوں کی زبان ہے۔ یوں تو دنیا میں اور بھی زبانیں ہیں، جن میں مردوں اور عورتوں کی زبان میں کچھ کچھ فرق ہے لیکن اردو زبان میں یہ فرق بہت نمایاں اور گہرا ہے۔ اردو نے جس خطے میں جنم لیا یا جہاں جہاں اس نے زیادہ رواج پایا، وہاں پردے کی رسم رائج رہی۔ اسی وجہ سے مردوں اور عورتوں کی معاشرت میں بہت کچھ فرق پیدا ہو گیا۔ عورتوں کے الفاظ اور محاورے اور ان کا طرز بیان اور بول چال بھی بہت کچھ الگ ہو گئی۔
پردے میں رہنے کی وجہ سے ان کا سارا وقت امور خانہ داری، بال بچوں کی پرورش اور نگہداشت، شادی بیاہ، رسم و رواج کی پابندی اور ان کے متعلق جتنے معاملات ہیں، اس میں صرف ہوتا ہے اور اس اقلیم میں ان کی عمل داری کامل ہوتی ہے، پھر ان کی زبان اور لہجے میں لطافت، نزاکت اور لوچ ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے تعلقات کے لحاظ سے جو طرح طرح کے لفظ، محاورے اور مثلیں بنائی ہیں، وہ بڑی لطیف، نازک، خوبصورت اور سبک ہیں۔ ایسے الفاظ جن کا زبان سے نکالنا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے یا جن کے کہنے میں شرم و حجاب مانع ہوتا ہے، عورتیں ایسے الفاظ نہیں بولتیں بلکہ وہ اس مفہوم کو لطیف پیرائے یا تشبیہ اور استعارے کے رنگ میں بڑی خوبصورتی سے بیان کر جاتی ہیں۔ عربی فارسی کے ثقیل الفاظ جن کا تلفظ آسانی سے ادا نہیں ہوتا، وہ انہیں سڈول بنالیتی ہیں۔ بعض اوقات ان کے معنی تک بدل جاتے ہیں اور وہ خالص اردو کے الفاظ ہو جاتے ہیں۔
پردے میں رہنے کی وجہ سے ان کا سارا وقت امور خانہ داری، بال بچوں کی پرورش اور نگہداشت، شادی بیاہ، رسم و رواج کی پابندی اور ان کے متعلق جتنے معاملات ہیں، اس میں صرف ہوتا ہے اور اس اقلیم میں ان کی عمل داری کامل ہوتی ہے، پھر ان کی زبان اور لہجے میں لطافت، نزاکت اور لوچ ہوتا ہے۔ اس لیے انہوں نے اپنے تعلقات کے لحاظ سے جو طرح طرح کے لفظ، محاورے اور مثلیں بنائی ہیں، وہ بڑی لطیف، نازک، خوبصورت اور سبک ہیں۔ ایسے الفاظ جن کا زبان سے نکالنا بدتمیزی سمجھا جاتا ہے یا جن کے کہنے میں شرم و حجاب مانع ہوتا ہے، عورتیں ایسے الفاظ نہیں بولتیں بلکہ وہ اس مفہوم کو لطیف پیرائے یا تشبیہ اور استعارے کے رنگ میں بڑی خوبصورتی سے بیان کر جاتی ہیں۔ عربی فارسی کے ثقیل الفاظ جن کا تلفظ آسانی سے ادا نہیں ہوتا، وہ انہیں سڈول بنالیتی ہیں۔ بعض اوقات ان کے معنی تک بدل جاتے ہیں اور وہ خالص اردو کے الفاظ ہو جاتے ہیں۔
ہماری عورتوں کے الفاظ اور محاورے وغیرہ زیادہ تر ہندی ہیں یا عربی فارسی کے لفظ ہیں تو انہیں ایسا تراشا ہے کہ ان میں اردو کی چمک دمک پیدا ہو گئی ہے۔ اب جدید حالات کچھ ایسے ہو گئے ہیں کہ جہاں ہماری اور بہت سی عزیز چیزیں مٹی جا رہی ہیں، یہ لطیف زبان بھی مٹتی جاتی ہے۔ ریختی گو شعراء کا بڑا احسان ہے۔ (اگرچہ ان میں سے بعض نے بہت کچھ فحش بھی بکا ہے) کہ انہوں نے اس زبان کو محفوظ کر دیا ہے
(مولوی عبدالحق کے مضمون ” اردو کی مقبولیت کے اسباب ” سے اقتباس)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
