پیر, فروری 16, 2026
الرئيسيةمنتخب غزلیںسارے بندھن توڑ کے مت جا کوئی تو پہلو باقی رکھ چُپ...

سارے بندھن توڑ کے مت جا کوئی تو پہلو باقی رکھ چُپ…

سارے بندھن توڑ کے مت جا کوئی تو پہلو باقی رکھ
چُپ ہونے میں دیر لگے گی تھوڑے آنسو باقی رکھ

اتنی جلدی پھینک نہ باہر سوکھے سوکھے پھولوں کو
دن دو دن تو کمرہ مہکے اتنی خوشبو باقی رکھ

غم کی رُت ہے کتنی لمبی بھیگی آنکھیں کیا جانیں
بارش دو بارش تو چمکیں اتنے جگنو باقی رکھ

تونے اپنا ظرف دِکھایا میں نے دل پر جبر کیا
میں نے آنگن بانٹ دیا دیواریں تو باقی رکھ

آنے والے لوگ بھی جانیں پانی کیسا ہوتا ہے
سارا دریا جا تو پی جا اِک دو چلّو باقی رکھ

میرؔ کا فن ہو یا غالبؔ کا یا قیصرؔ کی غزلیں ہوں
سارا ماضی لَوٹ آئے گا گھر میں اُردو باقی رکھ

(قیصر الجعفری)

انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

RELATED ARTICLES
- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/