سارے بندھن توڑ کے مت جا کوئی تو پہلو باقی رکھ
چُپ ہونے میں دیر لگے گی تھوڑے آنسو باقی رکھ
چُپ ہونے میں دیر لگے گی تھوڑے آنسو باقی رکھ
اتنی جلدی پھینک نہ باہر سوکھے سوکھے پھولوں کو
دن دو دن تو کمرہ مہکے اتنی خوشبو باقی رکھ
غم کی رُت ہے کتنی لمبی بھیگی آنکھیں کیا جانیں
بارش دو بارش تو چمکیں اتنے جگنو باقی رکھ
تونے اپنا ظرف دِکھایا میں نے دل پر جبر کیا
میں نے آنگن بانٹ دیا دیواریں تو باقی رکھ
آنے والے لوگ بھی جانیں پانی کیسا ہوتا ہے
سارا دریا جا تو پی جا اِک دو چلّو باقی رکھ
میرؔ کا فن ہو یا غالبؔ کا یا قیصرؔ کی غزلیں ہوں
سارا ماضی لَوٹ آئے گا گھر میں اُردو باقی رکھ
(قیصر الجعفری)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
