زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہم ہی سو گئے داستان کہتے کہتے
مکمل غزل
ہم ہی سو گئے داستان کہتے کہتے
مکمل غزل
کہاں تک جفا حسن والوں کی سہتے
جوانی نہ رہتی تو پھر ہم نہ رہتے
نشیمن نہ جلتا نشانی تو رہتی
ہمارا تھا کیا ٹھیک رہتے نہ رہتے
زمانہ بڑے شوق سے سن رہا تھا
ہم ہی سو گئے داستان کہتے کہتے
کوئی نقش کوئی دیوار سمجھا
زمانہ ہوا مجھ کو چپ رہتے رہتے
مری ناؤاس غم کے دریا میں ثاقب
کنارے پہ آ ہی لگی بہتے بہتے
(ثاقب لکھنوی)
