کیا اپنی طبیعت ہے ، ہر شَخص کا ہو جانا
اِک شہر بَسا لینا ، بِچھڑے ہوئے لوگوں کا
پِھر شَب کے جَزیرے میں ، دِل تھام کے سو جانا
موضُوعِ سُخن کُچھ ہو ، تا دیر اُسے تَکنا
ہر لفظ پہ رُک جانا ، ہر بات پہ کھو جانا
آنا تو بِکھر جانا، سانسوں میں مَہک بن کر
جانا تو کلیجے میں ، کانٹے سے چبھو جانا
جاتے ہوئے چُپ رہنا ، اُن بولتی آنکھوں کا
خاموش تَکلم سے ، پَلکوں کو بِھگو جانا
لفظوں میں اُتر آنا ، اُن پُھول سے ہونٹوں کا
اِک لَمس کی خوشبُو کا، پوروں میں سَمو جانا
ہر شام عَزائم کے ، کُچھ مَحل بنا لینا
ہر صُبح اِرادوں کی ٫ دہلیز پہ سو جانا
(اَعتبار ساجِد)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی
