تو کیا یہ طے ہے، کہ اب عمر بھرنہیں ملنا
تو پھر یہ عمربھی کیوں، تم سے گرنہیں ملنا
….
ممتاز شاعر سرور بارہ بنکوی کا یومِ پیدائش
30 January 1919
(پیدائش: 30 جنوری، 1919ء – وفات: 3 اپریل، 1980ء)
منتخب کلام
….
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
———-
ہم لوگ نہ الجھے ہیں نہ الجھیں گے کسی سے
ہم کو تو ہمارا ہی گریبان بہت ہے
———-
تو کیا یہ طے ہے، کہ اب عمر بھرنہیں ملنا
تو پھر یہ عمربھی کیوں، تم سے گرنہیں ملنا
یہ کون چُپکے سے تنہائیوں میں کہتا ہے
تِرے بغیر سُکوں عُمْر بھر نہیں ملنا
چلو زمانے کی خاطر یہ جبْر بھی سہہ لیں
کہ اب مِلے تو کبھی ٹوٹ کر نہیں ملنا
رہِ وفا کے مُسافر کو کون سمجھائے
کہ اِس سفر میں کوئی ہمسفرنہیں ملنا
جُدا تو جب بھی ہوئے دِل کو یوں لگا جیسے
کہ اب گئے تو کبھی لوٹ کر نہیں ملنا
———-
اور کوئی دَم کی ہے مہماں گزر جائے گی رات
ڈھلتے ڈھلتے آپ اپنی موت مرجائے گی رات
زندگی میں اور بھی کچھ زہر بھرجائے گی رات
اب اگر ٹھہری، رگ و پے میں اترجائے گی رات
ہے اُفق سے ایک سنگِ آفتاب آنے کی دیر
ٹوٹ کر مانندِ آئینہ بکھر جائے گی رات
ہم تو جانے کب سے ہیں آوارۂِ ظُلمت مگر
تم ٹھہرجاؤ تو پل بھر میں گزر جائے گی رات
رات کا انجام بھی معلُوم ہے مُجھ کو سُرُور
لاکھ اپنی حد سے گزرے تاسحر، جائے گی رات
———-
نہ کسی کو فکر منزل نہ کہیں سراغ جادہ
یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ
یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
کبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ
میرے روز و شب یہی ہیں کہ مجھی تک آ رہی ہیں
تیرے حسن کی ضیائیں کبھی کم کبھی زیادہ
سر انجمن تغافل کا صلہ بھی دے گئی ہے
وہ نگہ جو درحقیقت تھی نگاہ سے زیادہ
ہو براۓ شام ہجراں لب ناز سے فروزاں
کوئی ایک شمع پیماں کوئی اک چراغ وعدہ
———-
اے جنوں کچھ تو کھلے آخر میں کس منزل میں ہوں
ہوں جوار یار میں یا کوچہء قاتل میں ہوں
پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب
میں سفیر حق ہوں لیکن نرغہء باطل میں ہوں
چشن فردا کے تصور سے لہو گردش میں ہے
حال میں ہوں اور زندہ اپنے مستقبل میں ہوں
دم بخود ہوں اب سر مقتل یہ منظر دیکھ کر
میں کہ خود مقتول ہوں لیکن صف قاتل میں ہوں
اک زمانہ ہو گیا بچھڑے ہوۓ جس سر سرورؔ
آج اسی کے سامنے ہوں اور بھری محفل میں ہوں
———-
یہی نہیں کہ مرا دل ہی میرے بس میں نہ تھا
جو تو ملا تو میں خود اپنی دسترس میں نہ تھا
بہ نام عہد رفاقت بھی ہم قدم نہ ہوا
یہ حوصلہ مرے معصوم ہم نفس میں نہ تھا
عجیب سحر کا عالم تھا اس کی قربت میں
وہ میرے پاس تھا اور میری دسترس میں نہ تھا
نہ جانے قافلۂ اہل دل پہ کیا گزری
یہ اضطراب کبھی نالۂ جرس میں نہ تھا
خبر تو ہوگی تجھے تیرے جاں نثاروں میں
کوئی تو تھا سر مقتل جو پیش و پس میں نہ تھا
سرورؔ اپنے چمن کی فضا ہے کیا کہئے
سکوت کا تو وہ عالم ہے جو قفس میں نہ تھا
———-
نظم : ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
———-
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
جان جاں سچ پہ کیوں اتنا اصرار ہے
سچ کی عظمت سے کب ہم کو انکار ہے
ہم بھی شاعر ہیں آخر اسی قوم کے
جس کا ہر فرد بکنے پہ تیار ہے
ہم ہیں لفظوں کے تاجر یہ بازار ہے
سچ تو یہ ہے گزرتے ہوئے وقت سے
فائدہ جو اٹھا لے وہ فن کار ہے
ہم نہ سقراط ہیں ہم نہ منصور ہیں
ہم سے سچ کی توقع ہی بیکار ہے
تیز تلوار سی وقت کی دھار ہے
اس لیے جان جاں اپنی تحریر سے
خوف تعزیر سے
سچے موتی کبھی ہم نہیں رولتے
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
فصل آتی ہے جب حفظ پندار کی
سچ کے اظہار کی
ہم حقائق سے نظریں چرائے ہوئے
مصلحت کے جنازے اٹھائے ہوئے
سر جھکائے ہوئے
لوٹ جاتے ہیں ماضی کے صحراؤں میں
بیٹھ کر پھر غم ذات کی چھاؤں میں
سوچتے بھی نہیں بولتے بھی نہیں
سہمے سہمے ہوئے لوگ ملتے ہوں جب
ہر طرف زخم کے پھول کھلتے ہوں جب
جان جاں کم سے کم ایسے موسم میں ہم
حرف حق تو کجا لب نہیں کھولتے
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
………………………
تو پھر یہ عمربھی کیوں، تم سے گرنہیں ملنا
….
ممتاز شاعر سرور بارہ بنکوی کا یومِ پیدائش
30 January 1919
(پیدائش: 30 جنوری، 1919ء – وفات: 3 اپریل، 1980ء)
منتخب کلام
….
جن سے مل کر زندگی سے عشق ہو جائے وہ لوگ
آپ نے شاید نہ دیکھے ہوں مگر ایسے بھی ہیں
———-
ہم لوگ نہ الجھے ہیں نہ الجھیں گے کسی سے
ہم کو تو ہمارا ہی گریبان بہت ہے
———-
تو کیا یہ طے ہے، کہ اب عمر بھرنہیں ملنا
تو پھر یہ عمربھی کیوں، تم سے گرنہیں ملنا
یہ کون چُپکے سے تنہائیوں میں کہتا ہے
تِرے بغیر سُکوں عُمْر بھر نہیں ملنا
چلو زمانے کی خاطر یہ جبْر بھی سہہ لیں
کہ اب مِلے تو کبھی ٹوٹ کر نہیں ملنا
رہِ وفا کے مُسافر کو کون سمجھائے
کہ اِس سفر میں کوئی ہمسفرنہیں ملنا
جُدا تو جب بھی ہوئے دِل کو یوں لگا جیسے
کہ اب گئے تو کبھی لوٹ کر نہیں ملنا
———-
اور کوئی دَم کی ہے مہماں گزر جائے گی رات
ڈھلتے ڈھلتے آپ اپنی موت مرجائے گی رات
زندگی میں اور بھی کچھ زہر بھرجائے گی رات
اب اگر ٹھہری، رگ و پے میں اترجائے گی رات
ہے اُفق سے ایک سنگِ آفتاب آنے کی دیر
ٹوٹ کر مانندِ آئینہ بکھر جائے گی رات
ہم تو جانے کب سے ہیں آوارۂِ ظُلمت مگر
تم ٹھہرجاؤ تو پل بھر میں گزر جائے گی رات
رات کا انجام بھی معلُوم ہے مُجھ کو سُرُور
لاکھ اپنی حد سے گزرے تاسحر، جائے گی رات
———-
نہ کسی کو فکر منزل نہ کہیں سراغ جادہ
یہ عجیب کارواں ہے جو رواں ہے بے ارادہ
یہی لوگ ہیں ازل سے جو فریب دے رہے ہیں
کبھی ڈال کر نقابیں کبھی اوڑھ کر لبادہ
میرے روز و شب یہی ہیں کہ مجھی تک آ رہی ہیں
تیرے حسن کی ضیائیں کبھی کم کبھی زیادہ
سر انجمن تغافل کا صلہ بھی دے گئی ہے
وہ نگہ جو درحقیقت تھی نگاہ سے زیادہ
ہو براۓ شام ہجراں لب ناز سے فروزاں
کوئی ایک شمع پیماں کوئی اک چراغ وعدہ
———-
اے جنوں کچھ تو کھلے آخر میں کس منزل میں ہوں
ہوں جوار یار میں یا کوچہء قاتل میں ہوں
پا بہ جولاں اپنے شانوں پر لیے اپنی صلیب
میں سفیر حق ہوں لیکن نرغہء باطل میں ہوں
چشن فردا کے تصور سے لہو گردش میں ہے
حال میں ہوں اور زندہ اپنے مستقبل میں ہوں
دم بخود ہوں اب سر مقتل یہ منظر دیکھ کر
میں کہ خود مقتول ہوں لیکن صف قاتل میں ہوں
اک زمانہ ہو گیا بچھڑے ہوۓ جس سر سرورؔ
آج اسی کے سامنے ہوں اور بھری محفل میں ہوں
———-
یہی نہیں کہ مرا دل ہی میرے بس میں نہ تھا
جو تو ملا تو میں خود اپنی دسترس میں نہ تھا
بہ نام عہد رفاقت بھی ہم قدم نہ ہوا
یہ حوصلہ مرے معصوم ہم نفس میں نہ تھا
عجیب سحر کا عالم تھا اس کی قربت میں
وہ میرے پاس تھا اور میری دسترس میں نہ تھا
نہ جانے قافلۂ اہل دل پہ کیا گزری
یہ اضطراب کبھی نالۂ جرس میں نہ تھا
خبر تو ہوگی تجھے تیرے جاں نثاروں میں
کوئی تو تھا سر مقتل جو پیش و پس میں نہ تھا
سرورؔ اپنے چمن کی فضا ہے کیا کہئے
سکوت کا تو وہ عالم ہے جو قفس میں نہ تھا
———-
نظم : ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
———-
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
جان جاں سچ پہ کیوں اتنا اصرار ہے
سچ کی عظمت سے کب ہم کو انکار ہے
ہم بھی شاعر ہیں آخر اسی قوم کے
جس کا ہر فرد بکنے پہ تیار ہے
ہم ہیں لفظوں کے تاجر یہ بازار ہے
سچ تو یہ ہے گزرتے ہوئے وقت سے
فائدہ جو اٹھا لے وہ فن کار ہے
ہم نہ سقراط ہیں ہم نہ منصور ہیں
ہم سے سچ کی توقع ہی بیکار ہے
تیز تلوار سی وقت کی دھار ہے
اس لیے جان جاں اپنی تحریر سے
خوف تعزیر سے
سچے موتی کبھی ہم نہیں رولتے
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
فصل آتی ہے جب حفظ پندار کی
سچ کے اظہار کی
ہم حقائق سے نظریں چرائے ہوئے
مصلحت کے جنازے اٹھائے ہوئے
سر جھکائے ہوئے
لوٹ جاتے ہیں ماضی کے صحراؤں میں
بیٹھ کر پھر غم ذات کی چھاؤں میں
سوچتے بھی نہیں بولتے بھی نہیں
سہمے سہمے ہوئے لوگ ملتے ہوں جب
ہر طرف زخم کے پھول کھلتے ہوں جب
جان جاں کم سے کم ایسے موسم میں ہم
حرف حق تو کجا لب نہیں کھولتے
ہم تو شاعر ہیں ہم سچ نہیں بولتے
………………………

