– قسط: 67
– ایریوجینا اور متضاد تصورات
(Eriugena and Contradictory Predicates)
ایریوجینا نے خدا کے تصور کو متضاد تصورات کے ذریعے سمجھنے اور سمجھانے کی کوشش کی۔ ان کے مطابق، خدا ایک طرف ایک مطلق وجود یا بینگ "Being” ہے، جس نے اس کائنات کو بنایا ہے۔ دوسری طرف، جب یہ فانی کائنات ختم ہو جائے گی، تو یہ عدم یا نان بینگ "Non-Being” ہو جائے گی، اور وہ بھی خدا ہی ہے۔
ایریوجینا کے اس نقطہ نظر کو سمجھنے کے لئے، ہم مشہور گلوکار نصرت فتح علی خان کے ایک گانے "تم ایک گورکھ دھندا ہو” سے استعارہ استعمال کرسکتے ہیں۔ اس گانے میں، گلوکار ایک ایسی ذات سے مخاطب ہیں جو ایک "گورکھ دھندا” ہے، یعنی ایک ایسی ہستی جو ہماری سمجھ سے بالاتر ہے۔ اسی طرح، ایریوجینا کے مطابق، خدا ایک "گورکھ دھندا” ہے، یعنی ایک ایسا وجود جو دونوں متضاد تصورات، "Being” اور "Non-Being” کا حامل ہے۔ خدا ایک طرف تو ایک وجود ہے جس نے کائنات کو بنایا ہے لیکن دوسری طرف، وہ ایک غیر وجود یا عدم بھی ہے جو کائنات کے خاتمے کے بعد باقی رہے گا۔
• ایریوجینا کے نزدیک خدا کا تصور
ایریوجینا نے خدا کے تصور کو ایک منفرد انداز میں پیش کیا۔ ان کے نزدیک، خدا اس کائنات کی بنیادی محرک (Prime Mover) اور حتمی علت (Ultimate cause) ہے۔ وہ ہر چیز میں موجود ہے، وہ ہر چیز جاننے والا ہے، وہ مطلق خیر ہے اور وہ زماں و مکاں سے بالاتر بھی ہے۔
خدا کائنات کی ہر چیز میں موجود ہیں اور دوسری حوالے سے خدا ازخود مادی شے بھی نہیں ہے۔ وہ ہر چیز میں ہے بھی اور ہر چیز میں نہیں بھی ہے۔ اس کے علاوہ ایریوجینا کے مطابق خدا ہر چیز جاننے والا بھی ہے اور اس کے برعکس خدا برائی نہیں جانتا۔ یعنی خدا ہے ہی اسلئے خدا کیونکہ وہ ہر شر اور برائی سے پاک و پاکیزہ ہے۔ وہ مطلق خیر (Absolute Goodness) ہے۔
دراصل ان تمام متضاد اصول و قواعد کے خدا پر لاگو کرنے سے ایریوجینا ہمیں یہ سمجھانے کی کوشش کررہے ہیں کہ خدا کو دراصل ہم مکمل طور پر جان ہی نہیں سکتے۔ وہ دراصل ایک "گورکھ دھندا” ہے۔
• انسانی فطرت
ایریجینا کے نزدیک انسان میں بھی خدا کی طرح متضاد قوتیں اور اصول و قوانین پوشیدہ ہیں۔
ایریوجینا ان متضاد اصول و قوانین کو انسان پر بھی لاگو کرتے ہیں۔ یعنی انسان بھی خدا کی نور کا ایک عظیم مظہر ہے لہذا انسان کے اندر بھی کئی متضاد قوتیں اور اصول و قوانین پوشیدہ ہیں۔ ایک حوالے سے انسان جانور ہے مگر دوسری اعتبار سے انسان کے اندر ایک روحانی عنصر بھی پایا جاتا ہے۔
یعنی انسان ایک طرف حیوان ہے اور دوسری طرف فرشتہ۔ اس کا جسمانی حصہ حیوانوں سے ملتا جلتا ہے، جبکہ اس کا روحانی حصہ فرشتوں سے ملتا جلتا ہے۔
آسان الفاظ میں یہ کہ انسان میں بھی جسمانی اور روحانی دنیا کا تضاد پایا جاتا ہے۔ ایروجینا کے مطابق؛
"Human nature meditates between spiritual and material things.”
یعنی انسان اپنی فطرت کے لحاظ سے مادی اور روحانی دنیا کے درمیان ایک پل کی حیثیت رکھتے ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان میں دونوں دنیاؤں کے رجحانات موجود ہیں۔ ایک طرف، انسان ایک جسمانی وجود ہے جسے کھانے، پینے، سونے اور افزائش نسل کی ضرورت ہے۔ دوسری طرف، انسان ایک روحانی وجود بھی ہے جسے محبت، امید، ایمان اور معنویت کی ضرورت ہے۔
انسان اپنی زندگی میں ان دونوں دنیاؤں کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ اپنی جسمانی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے کام کرتا ہے، لیکن وہ اپنی روحانی ضروریات کو بھی پورا کرنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ محبت، امید اور ایمان تلاش کرتا ہے، اور وہ اپنی زندگی میں معنویت تلاش کرتا ہے۔
• عیسیٰ مسیح ع کے حوالے سے ایریجینا کا نقطہ نظر
ایریجینا کے مطابق، عیسیٰ مسیح ایک طرف تو انسان ہیں لیکن دوسری طرف وہ خدا بھی ہے۔ یعنی عیسیٰ مسیح دراصل خدا کی انسانی شکل ہے۔
وہ انسان اس لحاظ سے ہے کہ وہ ایک عورت سے پیدا ہوئے تھے اور انہوں نے ایک انسان کی طرح زندگی گزاری۔ وہ خدا اس لحاظ سے ہے کہ وہ خدا کی طرف سے بھیجے گئے تھے اور ان میں خدا کی صفات تھیں۔
ایریوجینا کے نزدیک، عیسیٰ مسیح میں خدا اور انسان کا تضاد ایک حقیقی تضاد ہے۔ یہ تضاد اس بات کی نشاندہی ہے کہ عیسیٰ مسیح ایک منفرد وجود ہیں جو خدا اور انسان دونوں ہیں۔ مزید یہ کہ انسان کا مقصد خدا کی طرح بننا ہے اور انسان میں خدا کی صفات پیدا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ انسان ان صفات کو پیدا کرکے خدا کی طرح بن سکتا ہے اور یہی مقصد انسان کو اپنی فطرت کو پورا کرنے اور ایک کامل انسان بننے میں مدد کرتا ہے۔
انسان ہمیشہ یہ کوشش کر رہا ہوتا ہے کہ وہ صفتیں اس کے اندر آجائے جو خدا کی فطرت کا حصہ ہے یا جو خدا صفات خدا میں پائے جاتے ہیں۔
• ایریوجینا کا اثر و رسوخ
ایریوجینا نے خدا، عیسیٰ مسیح اور انسانی فطرت کے بارے میں بہت منفرد اور دلچسپ خیالات پیش کیے۔ ان کے خیالات نے ان کے بعد آنے والے بہت سے فلاسفہ کو متاثر کیا، بشمول مشہور جرمن فلاسفہ جیسے کانٹ اور ہیگل۔
ایریوجینا کے خیالات کو اگرچہ ان کے اپنے عصر میں قبول نہیں کیا گیا بلکہ چرچ نے ان کے افکار و نظریات کو مسترد کر دیا اور ان پر مسیحی دنیا میں سخت تنقید بھی ہوئی۔ تاہم، بعد میں ان کے کام کو بہت پذیرائی ملی اور آج وہ مغربی فلسفے میں ایک اہم شخصیت کے طور پر سمجھے جاتے ہیں۔ حتیٰ کانٹ اور ہیگل جیسے فلاسفہ ایریوجینا کو جرمن آئیڈیلزم (German Idealism) کے بانی (Father) مانتے ہیں۔
– لیکچرر: ڈاکٹر تیمور رحمان
– تحریر و ترتیب: میثم عباس علیزی
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3883113941919110

واہ واہ بہت شاندار تحریر
اس کے تمام حصے ایک جگہ کیسے مل سکتے ہیں ؟
بہت اعلٰی۔ ہمیشہ آپ کے لئے نیک خواہشات ہیں سر۔
R sahib Good job
Maza AA gia hai Masha,Allha.
گورکھ دھندا
آپ کی مصروفیات زیادہ ہے۔ ان اقساط کا ہمیں بے چینی سے انتظار رھتا ھے۔
آپ کا کام قابلِ قدر ہے. کیا یہ تمام اقساط ایک ساتھ بھی موجود ہیں؟
کمال۔ باقی اقساط بھی ریفر کریں گئیں