اتوار, اپریل 12, 2026
الرئيسيةعالمی ادب**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)** **افسانہ نمبر 589 : قصبے میں...

**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)** **افسانہ نمبر 589 : قصبے میں محبت**…

**عالمی ادب کے اردو تراجم (انتخاب افسانہ)**

**افسانہ نمبر 589 : قصبے میں محبت**

**مصنف: ایوو آندریچ (یوگوسلاویہ)**

**مترجم: افشاں نور (اوکاڑہ)**

یہ شہر طاس کے کھوکھلے حصے میں واقع ہے۔یہ زاو کی پہاڑیوں، اولویاتسی کی چٹانوں اورلئیسکا کی لئیستنکی ڈھلوانوں میں گھِرا ہوا ہے۔بلند اور تقریباً بالکل گول دائرہ جو یہ بناتے ہیں،آدھے گھنٹے کی پیدل مسافت سے زیادہ نہیں ہے۔ریتلے اور سیلاب زدہ جزیرہ نما پردو بل کھاتے اور خطرناک پہاڑی دریا آ ملتے ہیں؛یہ سیلاب کی صورت سال میں دو مرتبہ تباہی لاتے ہیں۔وہاں یہ شہر جو اونچائیوں کے اس دائرے سے اتنا دبا ہوا ہے کہ اس کے آخری چھوٹے مکانات اس کی پہلی ڈھلوانوں کی طرف جھکے ہوئے ہیں، گرمیوں میں خشک سالی،سردیوں میں برف کے تودوں اور بہار میں غیر متوقع کہرے سے متاثر ہوتا ہے۔

اگر پتھر کا عظیم پُل، جو مشرقی راستے کا اہم حصہ ہے، موجود نہ ہوتا توان حالات میں اس مقام پرکبھی کوئی شہر نہ بنا ہوتا۔اس طرح اس شہر میں کسی کے لیے زندگی آسان نہ تھی؛ یہ ضرورت اور خواہش کے ذریعے تخلیق کیا گیاتھا نہ کہ سازگار حالات میں قدرتی طریقے سے…کیونکہ جب تک یہ شہرموجود رہا، یہاں کوئی غیرمتنازعہ جائیداد، کوئی محفوظ جگہ یا کوئی پرامن سال نہیں تھا۔بلاشبہ یہاں خوش قسمتی تھی لیکن کوئی اپنی دولت کی نمائش نہیں کر سکتا تھا نہ ہی سکون سے اس سے لطف اندوز ہو سکتا تھا۔ اس کے بجائے، ایک بار دولت حاصل ہوجانے کے بعد اسے چھپانا اور ہر دن مزید کا حصول ضروری تھا؛دراصل یہ سب محض ان ہنگامہ خیزاور قحط کے سالوں میں حفاظت کے لیے تھاجو کبھی بھی حملہ آور ہو سکتے تھے۔محدود افق، بنجر مٹی، نامعقول آب و ہوااور مسلسل حملوں اور جنگوں نے بچوں تک کو بوسنیائی شہر کے لوگوں کی لڑاکااور جنونی وضع دے دی تھی۔

جب ایک نوجوان بڑا ہوجاتا، شادی کر لیتا، صاحبِ اولاد ہوتا اور اپنا پچیسواں سال مکمل کرتا، وہ قصبے میں رہنے کے لیے تیار ہو جاتااور اس کا کردار طے پاجاتا؛ بدمزاج، ڈرا سہما، دبلا، مگر مضبوط، غیر جذباتی اور عملی، کینہ پرور اور سب سے بڑھ کر کم گو اور پریشان حال۔اتنی جلدی بوڑھا ہو کروہ پچاس یا اس سے زیادہ سال جیتا اور تبدیلی کے لیے تقریباً ناقابلِ تسخیر ثابت ہوتا۔وہ صرف پہلے سے زیادہ سرمئی ہوجاتا اور مزید جھک جاتا۔

لوگوں کو خوشی کا احساس نہیں تھا۔ان کا گھٹا ہوا ولولہ اور خوشی انفرادی اور اجتماعی طور پرمتشدد جذبات اوراشتعال انگیزی کے طور پر سامنے آتے۔ اپنی بے رحم جدوجہد میں تسکین پاتی اس مشکل زندگی کا سامنا کرتے ہوئے انہوں نے جس قدر بھی انسانیت کو برقرار رکھا،وہ مذہبی رسومات میں سکون حاصل کرتے یا خاندانی عقیدت کے آسان طریقے اوردکانداروں کے عزت کے تصورات قائم کرتے۔ لیکن غیرمعمولی معالات میں،وہ غیرمتوقع یکجہتی،ہمت، شکر گزاری اور عظمت کا مظاہرہ کرتے تھے۔

اس طرح وہ پیدا ہوتے،شوہر اور بیویاں منتخب کرتے، اپنی روزی کماتے اور اپنے مشکل اور بے حس وجود کے ساتھ آگے بڑھتے چلے جاتے۔لیکن ایک بار محبت کا ظہور ہوا جب رِفکا، لیڈنِک کی محبت میں مبتلا ہوگئی۔

لیڈنِک کا تعلق کروشیا کے ایک اشرافیہ خاندان سے تھا۔ وہ ویانا میں پلا بڑھا تھااور برطانوی فوج میں لیفٹینینٹ تھا لیکن اپنی عشقیہ مہم جوئی، قصبے میں محبت اور کچھ مالی پریشانیوں کی وجہ سے وہ یہ سروس چھوڑنے پر مجبور ہوگیا۔ اپنے اچھے روابط اور زبانوں کا علم استعمال کرتے ہوئے اس نے بوسنیا میں پناہ لی جہاں اسے اس قصبے میں جنگلات کا سپرانٹنڈنٹ مقرر کیاگیا۔

رِفکا ایک بوڑھے یہودی پاپو کی بیٹی تھی جو پچاس برس پہلے سراییوو سے آیا تھا۔اس وقت وہ ایک غریب شیشہ ساز تھا لیکن اب وہ شہر کا سب سے بڑا سوداگر تھا۔ رِفکا سولہ سال کی بھی نہیں ہوئی تھی لیکن کافی عرصے سے وہ سکون سے شہر کے مرکز سے گزرنے کے قابل نہیں تھی۔وہ اپنی چال کو کتنا ہی تبدیل کرتی اس سے کوئی فرق نہ پڑتا، اس کی ہر چیز لرزتی، اچھلتی اور ہلتی رہتی؛اس کا لباس، اس کے سینے کے ابھار اور اس کے بال۔ دکاندار جو ہمیشہ اس جیسی بلاخیز خوبصورتی کی تلاش میں رہتے تھے(جب بھی ان میں سے کسی کی شادی ہوتی،دوسرا بڑا ہوچکا ہوتا)، اپنے کام سے سر اٹھاتے،سیٹی بجاتے، اپنا گلا صاف کرتے اور ایک دوسرے کو پکارتے۔

ڈینیلو قصاب آہِ آتشبار بھرتااوراپنی دکان میں چیڑکی لکڑی کے دروازے کا فریم کاٹ ڈالتا۔ دریں اثناء اس کے گاہک، چپڑچپڑاپنی بھنی کلیجی کھاتے ہوئے ہنستے اور تالیاں بجاتے۔ اور مفلوج مراد بیکتاش، جو ہڈیوں کا ڈھانچہ تھا،کوئلوں کی انگیٹھی کے پاس بے حرکت بیٹھتا اورمحض اپنی آنکھوں سے اس کا پیچھا کرتا۔کوئی کہتا:

”آہ! وہ شیشے کی طرح چمکتی ہے، ہے نا! تم دیکھ سکتے ہو اس کا تعلق شیشہ ساز سے ہے۔“

انہوں نے اسے سراییوو میں اسکول بھیجا۔ اس نے اور لیڈنِک نے کب پہلی بار ایک دوسرے کو دیکھا؟سب سے پہلے انہوں نے کن الفاظ کا تبادلہ کیا؟محبت کرنے والے خود یہ بھول گئے۔

خطوط میں وہ اسے اپنا ”آسمان کا ستارہ“ کہتا؛ وہ اسے ایک رات کی ملاقات کا بندوبست کرنے کو کہتا”جب یہ دنیا اور اس کا خبطی تجسس سو رہا ہو“۔

رِفکا جواب دیتی:”تم مجھے اپنے آسمان کا ستارہ کیوں کہتے ہو جب کےتم میرے سورج ہو؟“اس نے اسے بتایا کہ اس کی محبت دن اور رات میں فرق نہیں جانتی۔ لیڈنِک اسے رنگ برنگی ٹافیاں بھیجتاور وہ اسے ایک مرجھایا ہوا پھول بھیجتی۔ وہ اس کے گھرکے سامنے ایک سرے سے دوسرے سرے تک ٹہلتا رہتا اور وہ کھڑکی سے پیچھے نہ ہٹتی۔ بستی والوں نے یہ سب دیکھا اور باتیں کرنے لگے۔

پاپو، چھوٹے قد کا ایک خاموش طبع شخص،جس کی داڑھی بہت بڑی تھی،اپنی بیوی سے اس بارے میں بات کرنے لگا کہ اس بے عزتی کو روکنے کے لیے انہیں کیا کرنا چاہیے۔وہ رِفکا کی شادی بیئیلینا کے ربی(یہودی فقیہہ)سے کرنا چاہتے تھے۔ایک رشتے دار کے ذریعے وہ جہیزکے معاملات پر گفت و شنید کر رہے تھے۔بہرحال رسوائی بڑھ گئی؛یہودی برادری میں کھلبلی مچ گئی اوررِفکا کے بھائیوں نے دھمکیاں دیں۔شہر میں افواہیں پھیل رہی تھیں۔ انہوں نے لڑکی کو گھر میں بند کر دیا۔ کسی نے ان دونوں کو مزید ایک ساتھ نہیں دیکھا لیکن وہ ہرروزخطوط کا تبادلہ کرتے اور ایک دوسرے کو دیکھتے، اگرچہ وہ صرف دور سے ہی دیکھتے تھے۔

یہ موسم بہارکی بات ہے۔ ایک دن بارش کے بعد،ہوا میں کہرا معلق تھا۔سانس لینا مشکل تھا۔قصبہ سرمئی ہوگیا اورپہاڑوں اورآلوبخارے کے باغات کے درمیان مزید چھپ گیا۔صرف درختوں کے تنے ہی سبزاور زندگی سے بھرپور تھے اور ان کی شاخیں پھوٹ پڑیں اور ہر پتا دھوپ میں چمک رہا تھاجو شام سے ذرا دیر پہلے ہی نمودار ہوئی تھی۔ لیڈنِک نے اپنی دوربین اٹھائی اور پُل سے اگلی پہاڑی پر تیزی سے چڑھا۔ رِفکا اپنے صحن کی دیوارپرچڑھ گئی۔دریا ان دونوں کے درمیان حائل تھا۔لیڈنِک کی طرف پہلے ہی سائیوں میں گھِری ہوئی تھی لیکن چند لمحوں کے لیے سورج کی روشنی رِفکا کی طرف چمکی۔اس کے سرخ بال ہوا میں لہرا رہے تھے اور وقتاً فوقتاً چمکتے تھے اوراس کا سفیدپیش بند دھوپ میں چمک رہا تھا۔یہ اندھیراہی تھاجس نے ان دونوں کو جدا کیا۔یہ تب ہوا جب رِفکا اپنے تاریک کمرے میں چلی گئی جہاں اپنے ناخن چباتے ہوئے وہ دیوان پربیٹھ گئی اور باہر سائے لمبے ہوتے دیکھنے لگی۔

اسے اتنی لمبی رات گزارنااور یہ جاننا کہ وہ بہت قریب ہے لیکن کچھ بھی نہ ہوپائے گا،ناقابلِ برداشت لگ رہا تھا۔وہ اسے لکھنا چاہتی تھی لیکن بہت آغازمیں ”میرے پیارے!“ پر ہی اس کا دم گھٹ گیا۔اس کا سینہ پھول گیا، اس کی سانس غائب ہوگئی اور وہ کانپ رہی تھی۔اس کی ماں نے اندر دیکھا اور بلا ضرورت موم بتی جلانے پر اس کی سرزنش کی۔ پھر اس نے رِفکا کو بسترپرلِٹا دیا۔

اسی وقت لیڈنِک نے، اس بات سے بے خبرکہ شام کے طویل گھنٹوں میں انتظار کرتے ہوئے کیا کرے،اپنے پرانے فوجی یونٹ کے دوست بیرن گیزا کو خط لکھا:

پیارے گیزا!

میں تمہیں پہلے ہی اپنی نئی پوسٹنگ،نئے حکام، جن کے ساتھ کام کرنے پر میں مجبور ہوں،اور جنگلات کے متعلق، جن میں گھومنے کی مجھے سزا دی گئی ہے،لکھ چکا ہوں۔اس لیے میں ایک بار پھر دہراتا ہوں:مجھے بہت سخت سزا دی گئی ہے۔ لیکن ڈرو مت!میں ابھی تک نا امید نہیں ہوا،اگرچہ ممکن ہے وہ دن دور نہ ہو۔

وہ تمام باتیں جو میں نے تمہیں یہاں کے لوگوں، مقامی باشندوں کے متعلق بتائی تھیں، ابتدائی تاثرات نہیں تھے؛ ایک کے بعد ایک ہر دن ان کی تصدیق ہوتی ہے۔میں وحشی، گندے اور ان پڑھ لوگوں کے درمیان رہتا ہوں۔یہ لوگ نہ صرف غیرمہذب ہیں، بلکہ مجھے پختہ یقین ہے کہ یہ کبھی مہذب نہیں ہو سکتے کیونکہ یہ، تھوڑی بہت عقل جو ان کے پاس ہے،ایسی ہر کوشش کو ناکام بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔اور جو مجھے تھوڑے بہت سمجھدار لگتے ہیں،وہ اتنے تنہائی پسند ہیں کہ آپ کو ان میں ذہانت کی چنگاری دیکھنے کے لیے ان کے سرپرایک اسٹیل کا ڈنڈا مارنا پڑے۔ فطری طور پر وہ ہمارے سامنے نہیں کھلتے۔

میں گندگی، بنیادی آسائشوں کی کمی،بوریت اوراپنے اردگرد پھیلی بے رحمی کے متعلق تمہیں پہلے ہی کافی کچھ لکھ چکا ہوں۔اس سلسلے میں کچھ نہیں بدلاسوائے اس کے کہ شاید یہ بدتر ہوگیا ہے۔لیکن یہاں میرے ساتھ کچھ غیر معمولی چیزیں ہو رہی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ میں تمہیں موجودہ صورتحال کے متعلق لکھنا چاہتا ہوں۔اس جنگل اور ویران ماحول میں، دو چیزیں ہیں جو مجھے تسلی دیتی ہیں اور خوش کرتی ہیں۔

پہلاعظیم رومن پُل ہے جس کی گیارہ بڑی، شاندار خمیدہ محرابیں ہیں۔ یہ دنیا کے اس وحشی کونے میں، لاغر مویشیوں اورکم عقل لوگوں کے درمیان،کسی دوردراز اور منور دنیا کے بھٹکے ہوئے پیام بر کی طرح الگ تھلگ کھڑا ہے۔ بہت سی شاموں میں، جب دھول اور جانوروں کے گوبر کے باعث کوئی گلی میں چل نہیں سکتا،جب مجھ پر واضح ہوجاتا ہے کہ میں کیا کھو چکا ہوں اور اب میں کس چیزکے مقابل ہوں، تو میں اشتیاق بھری نظروں سے ان عظیم محرابوں اورشاندار طریقے سے ترشے ہوئے مواد کو دیکھتا ہوں۔

دوسری غیرمعمولی چیز،جس کااندازہ تم پہلے ہی لگا چکے ہوگے، ایک عورت ہے بلکہ لڑکی۔وہ اس پُل کی طرح یہاں بالکل الگ نظر آتی ہے۔ایک معمولی مقامی تاجر، ہسپانوی یہودی کی ایک بیٹی ہے جو ابھی سترہ برس کی نہیں ہوئی۔اس کے بال گہرے سرخ اور اس سامی انداز میں شاندارہیں، اس کی جلد حیرت انگیز طور پر صاف اورنرم ہے۔اور اس کی آنکھیں گہری بھوری، تقریباً کالی ہیں۔کیا تمہیں کیپٹن وان گریسنگ کی بیوی یاد ہے؟یہ مجھے کچھ کچھ اس کی یاددلاتی ہے لیکن صرف بیس سال چھوٹی اورسوگناخوبصورت اورہزارگنا زیادہ معصوم۔مختصر یہ کہ وہ دیوتاؤں کا امرت ہے۔یہاں کی تمام خواتین میں سے،جن کا ملنا ناممکن ہے اور ویسے بھی وہ پوشیدہ ہیں،یہ نوجوان ہسپانوی لڑکی میری واحد امیداور میرا واحد سکون ہے۔وہ تعلیم یافتہ بھی ہے اور ایسا لگتا ہے وہ مجھ سے محبت کرتی ہے لیکن یہاں کسی عورت کے قابلِ رسائی ہونے کے لیے یہ کافی جواز نہیں ہے۔

وہ اسے کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ہم ایک دوسرے کوسڑک پر دیکھتے ہیں،یہاں تک کہ اگر ہم چند الفاظ کا تبادلہ کرتے ہیں (وہ شرم کے مارے بمشکل ہی بول پاتی ہے)تو وہ ہمیں ایسے دیکھتے ہیں جیسے ہم دیوانے ہوں۔ جب میں اس کے گھرکے پاس سے گزروں تو میں اس کی ماں کو غصے سے کھڑکیاں بند کرتے سنتا ہوں۔ہم ایک دوسرے کوخط لکھتے ہیں اور اس وقت کے لیے یہی ہے۔کاش تم یہ خطوط پڑھ سکتے!معصومیت کا جوہر! لیکن میرا کلرک جو ایک مقامی ہے اورمیرے خطوط لاتا لے جاتا ہے، کہتا ہے کہ قصبے میں پہلے ہی ہمارے متعلق بہت باتیں ہو رہی ہیں، اور یہ کہ یہودی جو کافی جنونی ہیں،میری وجہ سے غضبناک ہیں۔اس نے مجھے بتایا کہ لڑکی کے گھر والے جلد از جلد اس کی شادی کر دینا چاہتے ہیں۔وہ بھاڑمیں جائیں!انہیں ا س کی شادی کرنے دو! یہ ان خطوط کا اختتام ہوگا جو میری ہنسی کا باعث بنتے ہیں۔ پھر نہ تو سرخ بال ہوں گے، نہ انگلیوں کا چھونانہ شرمیلی نظریں۔پھر میرے پاس فقط اپنی ہم آہنگ لکیروں والا یہ پُل ہوگا۔ یہ سب یقینی ہے۔دیکھو اس بے کار جگہ رہ کر میں کیسا جذباتی بن گیا ہوں۔اب آگے کیا ہے؟

آہ! گیزا!دغا باز!مجھے اکثر لکھتے رہنا اور طوالت سے لکھناتاکہ وہاں کی زندگی کی شان و شوکت کا کچھ حصہ مجھ تک بھی پہنچ جائے۔“

موسم گرما شروع ہوتے ہی بیئیلینامیں آنے اور جانے والے پیغامات کی کثرت ہوگئی۔پاپو کے گھر میں تیاریاں جاری تھیں۔رِفکا نے لیڈنِک کی بات مان کررات کے وقت ملاقات کے لیے باغ میں آنے کا فیصلہ کیا۔پہلے تو وہ انگلیوں میں انگلیاں پھنسائے جھاڑیوں کے ذریعے بات کرتے رہے۔وہ دیر تک اسی حد بندی کے ذریعے بوسے لیتے رہے اور جھاڑیوں کی باریک لکڑی کا نشان ان کے چہروں پر ثبت ہوگیا۔آخرکارتیسری رات لیڈنِک نے پھلانگ کر اس اونچی باڑ کو عبور کر لیا۔جب وہ اوپر چڑھ رہا تھا، وہ احتجاج کر رہی تھی اور خوف سے پکار رہی تھی لیکن پہلے سے کہیں کمزور آواز میں:

”نہیں! نہیں! نہیں!…“

جب وہ اتنی بلند جگہ سے اس کے سامنے پھولوں کی سیج پر اترا، وہ ہوش کھو کر اس کی بانہوں میں ڈھلک گئی۔اور اگلی رات لیڈنِک نے دوبارہ جھاڑی سے چھلانگ لگا دی اور کھلی بانہیں بھینچ لی گئیں۔لیکن تیسری رات اس کابھائی ان پر ٹوٹ پڑا۔وہ غصیلامگر چھوٹے قد کا نوجوان تھا جو اپنے زیرِ جامہ اور رات کی قمیص میں ظاہر ہوا تھا اور مکمل طور پرمنتشر نظر آرہا تھا۔لیڈنِک بھاگ کھڑا ہوا، رِفکاپھولوں میں گِر گئی اور اس کے بھائی نے اندھیرے میں دو بار گولی چلائی۔

اگلے دن حجمورومانو،ممتازیہودیوں کے ایک گروہ کی قیادت کرتے ہوئے نمودار ہوا۔انہوں نے ضلعی ناظم سے درخواست کی کہ لیڈنِک کو سزا دی جائے اور اسے اس کے عہدے سے ہٹایا جائے۔ناظم نے ان سے ایسا کرنے کاوعدہ کیا۔پھر اس نے لیڈنِک سے بات کی اور اس کا کندھا تھپتھپاتے ہوئے وہ بولا:

میرے پیارے مسٹر لیڈنِک! مجھے اس یہودی لڑکی کے ساتھ تمہارا معاملہ خراب کرنے پر بہت افسوس ہے! لیکن اس کا باپ ایک معزز شہری ہے اوریہودی ایک سرکاری شکایت درج کرنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔یوں لگتا ہے لڑکی محبت کی دیوانی ہے۔ بدمعاش!مختصر یہ کہ، تمہیں یہی مشورہ دیا جائے گا کہ کچھ دیر کے لیے اس سب سے دور رہو، میں ایک ذمہ داری سپرد کر کے تمہیں یہاں سے بھیج دوں گا۔

لیڈنِک نے اسے یقین دلایا کہ یہ سارا معاملہ بے معنی تھا، ایک معمولی سا معاشقہ۔ لیکن اگر حالات واقعی ایسے ہیں جیسے سپرنٹنڈنٹ نے کہا تو وہ جانے کے لیے تیار ہے۔ ان لوگوں کے لیے ان کی باہمی حیرت کی انتہا نہ تھی جو بالکل معمولی بات سے کوئی بڑا رومانوی سانحہ گھڑ سکتے ہیں۔ان کی گونجتی ہوئی ہنسی دیر تک جاری رہی اور انہوں نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ یہ معاملہ کسی ہنگامے یا اسکینڈل کے قابل نہیں تھا۔اس کے ساتھ انہوں نے ایک دوسرے کو پیار سے الوداع کہا اور جدا ہوگئے۔ لیڈنِک پہاڑ سیٹیہوووکے جنگل میں چلا گیا۔وہاں اپنے لکڑی کے کیبن سے اس نے ویانا میں اپنے دوست کو لکھا:

”میرے پیارے گیزا!

میں آٹھ دن سے جنگل میں ہوں۔ اگر میں تمہیں بتاؤں کہ معاملات کیسے چل رہے ہیں تو اس کا مطلب صرف اپنی ذاتی تکلیف کو دہرانا اور دوگنا کرنا ہوگا۔میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔بہتر ہے میں اس سب سے باہر نکل آؤں۔میں نے یہودی لڑکی اور خوبصورت پُل، دونوں کو کھو دیا۔

ایک بدنامی پھوٹ پڑی ہے۔اس دنیا کے تمام یہودی جہنم میں جائیں! اور یہ پاگل ملک بھی! پہلے گالیاں، پھر ضلعی ناظم سے شکایتیں،باڑ کے ذریعے گفتگو اور پیار(کیا تم مجھے اس انداز میں تصور کر سکتے ہو؟)،اور پھر ایک رات ریوالور کے ساتھ اس کا بھائی۔ سپرنٹنڈنٹ نے درخواست کی کہ میں حکام کے وقار اور اپنی حفاظت کی خاطریہ معاشقہ بندکر دوں۔اس نے مجھے کہا کہ جب تک اس بدبودارصوبائی قصبے میں حالات پرسکون نہیں ہو جاتے، میں اسی جنگل میں ذمہ داری نبھاؤں۔اوہ! یہ کس طرح کے لوگ ہیں۔

یہاں میرے پاس کسان لڑکیوں کے ساتھ رہنے کے علاوہ کوئی چارہ نہیں لیکن تب بھی یہ سب حیوانیت بھرا ہے۔ لیکن وہ اس یہودی لڑکی کی شادی کر دیں گے اور وہ موٹی ہوجائے گی اور اس کے چھ بچے ہوں گے۔خدا اس لڑکی کی مدد کرے!

میں خزاں تک یہاں رہنے کا پابند ہوں۔شاید تب تک میری سراییوو منتقلی کا انتظام کر دیا جائے۔میں ان ملعوجنگلات کے سروے کی نگرانی کر رہا ہوں اور اگر میں اس کام کے متعلق کچھ بھی سمجھوں تو میری لعن طعن کی جائے گی۔مجھے خط لکھو تاکہ میں مکمل طور پرجنگلی نہ ہوجاؤں۔“

تاہم رِفکا بستر پر بیمار پڑی تھی۔بند کھڑکیوں اور موٹے پردوں میں سے باہر چلتی لُو کو محسوس کیا جا سکتا تھا۔ اس کے کمرے کے اندر ایک کثیف ٹھنڈک غالب تھی جیسی موٹی دیواروں اور لوہے کی کھڑکیوں والے نچلی منزل کے کمروں میں ہوتی ہے۔وہاں قالینوں اورسداکے دھندلائے اور دھول میں اٹے کپڑوں سے لپٹی خلاؤں کی گہری خاموشی بھی تھی؛ یہ کمرہ رہائشی کوارٹر سے زیادہ قربان گاہ لگتا تھا۔ یہاں قدموں کی آواز کھو جاتی تھی، اور اتنے کپڑے کی موجودگی میں، آوازیں بلند نہیں ہوتی تھیں: ہر چیز دبی ہوئی اور خاموش تھی۔نیم تاریکی صرف تب داخل ہوتی جب کمرے کے آخر میں رِفکا اپنے گدے پر جھٹکتی۔جب وہ بخار سے کپکپاتے ہوئے اپنا کمبل اتارنے کی کوشش کرتی تواس کی جلد، کولہے اور کندھے چمک اٹھتے۔ پھر ہاتا نامی خانہ بدوش عورت سایوں میں سے اس کے اوپر نمودار ہوئی، اسے تیزی سے ڈھانپااور دوبارہ تاریکی میں غائب ہو گئی۔در حقیقت اس رات سے رِفکا کو ہوش نہیں آیا تھا۔وہ دیکھتی کہ اس کے اردگرد کیا ہو رہا ہے۔وہ ڈاکٹر، اپنے استاد اور اپنی ماں کو سنتی تھی؛ وہ سمجھ سکتی تھی وہ اسے کیا کہہ رہے ہیں اور وہ خود بھی کبھی کبھار کوئی لفظ بولتی لیکن سب کچھ ایک خواب جیسا تھا۔

وہ اب مزید چھپ کر لیڈنِک کو لکھنے یا اپنے رشتے داروں کے سامنے خود کودرست ثابت کرنے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ وہ سب ماضی کا حصہ تھا۔اب اس کی واحد حقیقت یہ جھٹکے تھے جو ہر دس منٹ بعد اس پر طاری ہوتے تھے۔یہ اس کی پنڈلیوں میں ناقابلِ برداشت گدگدی سے شروع ہوتے اور ان کے باعث اس کے گھٹنے مڑ جاتے اور اکڑ جاتے؛ اس کا سینہ لرز اٹھتا اور اس کا دم گھٹنے لگتا۔ اور جب یہ اینٹھن گزر جاتی تو وہ اگلے جھٹکے کی توقع میں کانپتے ہوئے وہیں پڑی رہتی؛ یہ اتنا ناگزیر تھا کہ جیسے ہی وہ اس کے بارے میں سوچتی،وہ جھٹکے کھانے لگتی اور اینٹھنے لگتی۔

اس کی یادوں میں محبت کی کوئی پرچھائی نہ تھی۔ وہاں صرف اپنی سفید پتلون میں بار بار باڑ کے اوپر سے بھاگتا ہوا لیڈنِک تھا۔اس سے آگے وہاں لرزے اور اندھیروں کے سوا کچھ نہ تھا جہاں اس پر ایک ناقابلِ فراموش شرمندگی برسی تھی۔کاش! ا س تاریک اور تنگ جگہ پر یہ شرمندگی برسنا بند کہو جائے، کاش یہ رک جائے! اس نے اٹھنے کی کوشش کی لیکن ہاتا نے، جو اس کی نگرانی کر رہی تھی، اسے واپس اس کے بستر پر لٹا دیا اور ایک بار پھر زوال اپنی اتھاہ گہرائیوں کے ساتھ آیا اور پھر وہی اینٹھن۔

ایک رات تڑکے سے کچھ پہلے،اسے اپنے ایک بھائی کے گھر سے نکلنے کی آواز سنائی دی؛ اس نے اپنے پیچھے دروازہ بند نہیں کیا تھا۔اس نے تھوڑا انتظار کیا اور پھر اٹھ گئی۔ہاتا پر نیند غالب تھی۔رِفکا نے لپک کر کمرہ عبور کیا؛ گھر سے باہر نکلتے ہوئے وہ دو بار فرش پر گری۔اس نے اپنے پیچھے دروازہ کھلا چھوڑ دیا، صحن کی دیوار سے لپٹ گئی اور پھر ایک جھٹکے سے عمودی گلی سے نیچے بھاگ کھڑی ہوئی۔بازار میں وہ دوبارہ گر پڑی۔جب رات دن میں ڈھلی، مشرق سے ایک تیز ہوا چل رہی تھی؛اس نے دھول اور کوڑے کرکٹ کو گلی کے ایک طرف اکٹھا کر دیا۔

وہ دوبارہ کھڑی ہوئی، اس کے بازو اور ہتھیلیاں خون آلود تھے۔وہ عظیم ہان سے گزر کردریائے ڈرینا کی طرف جاتی سیڑھیاں اتری۔وہ گھٹنوں کے بل گِر گئی،ایک لمحے کے لیے وہیں جھکی رہی اور پھر لڑکھڑا گئی۔نچلی سیڑھی سے اس نے اپنے آپ کو پانی میں گرادیا۔اس کا رات کا لباس اس کے گرد پھیل گیااور وہ کچھ دیر وہیں بے حرکت ٹھہری رہی پھر بہاؤ نے اسے زد میں لے لیا اور اسے بہا لے گیا۔

اگرچہ دن ابھی نکل رہا تھا، خاکروب لِسکِچ اور احمق ہُو بو نے بازار کے کنارے سے اسے دیکھا۔ جیسے ہی دکانیں کھلیں، وہ یکے بعد دیگرے یہ کہتے ہوئے ان دکانوں میں گئے کہ انہوں نے نیم برہنہ رِفکا کو تیزی سے وہاں سے گزرتے دیکھا ہے۔

”شاید پچھلی رات کپتان اس کے ساتھ اس راستے سے گزرا تھا۔“

”یقیناً! اور کیسے؟“ ہُوبو اپنی ہتھیلیاں آپس میں ٹکراتے ہوئے اور ایک ٹانگ پر اچھلتے ہوئے چلّایا۔دکاندار شور مچاتے رہے اور ہنستے رہے لیکن جلد ہی پتہ چلا کہ لڑکی غائب ہوگئی ہے۔اگلے دن اس کی لاش ایک ندی میں لکڑیوں کے درمیان پائی گئی۔مچھلیاں پہلے ہی لاش کوکاٹ چکی تھیں۔ یہودی مصروف انداز میں تیز روی سے وہاں چکر لگاتے رہے۔سرکاری اہلکاروں کی ایک ٹیم فوری طور پرپہنچی اور تحقیقات کیں پھر رِفکا کو اسی دن شام کے قریب اس گلی کے بالکل ساتھ یہودی قبرستان کے بالکل آخر میں دفنا دیاگیا۔ یہ سب خاموشی اور عجلت میں کیا گیا۔

موسم گرمابمشکل اپنے وسط تک پہنچاتھااورپہلے ہی خشک سالی شروع ہوچکی تھی۔ڈرینا کے ساتھ ساتھ ترک جلوسوں کو چلتے دیکھا جا سکتا تھا؛وہ بارش کے لیے دعا کرنے کے لیے اپنے خواجہ کے ساتھ جاتے تھے۔راسخ الاعتقاد پادری پہاڑی پر چڑھ جاتا،اس کے پیچھے بوڑھی عورتیں اور کسان ہوتے۔ وہ سب پسینے میں بھیگے ہوئے ہوتے؛ وہ قبرستان کی طرف بڑھتے اور وہاں کچھ خاص کام سرانجام دیتے۔ان کی موم بتیاں استعمال ہو جانے سے پہلے ہی بجھ جاتیں اور پگھل جاتیں۔وہاں کوئی ہوا نہیں تھی اور سائے میں بھی ٹھنڈک نہیں تھی۔ پہاڑوں پر جنگل آگ پکڑنے لگے تھے؛ افق پر دھواں دیکھا جا سکتا تھا۔یہ نیچے سے سیاہ تھا اور اونچائی پر،جہاں یہ آسمان سے ضم ہوتا تھا،یہ سفید تھا۔اور ہرچیزکے اوپر سفید آسمان پھیلا تھا جو کسی بیکنگ ڈش کے ڈھکن کی طرح گرم تھا۔ مکھیاں اور مچھر کاٹ رہے تھے۔قصاب کی دکانیں، گڑھے اور گٹر ابل پڑے۔مویشی اپنے اصطبل میں ڈکرا رہے تھے لیکن انہیں باہر نہیں جانے دیا جا سکتا تھاکیونکہ جنگلی مکھیاں انہیں سکون سے نہیں رہنے دیتیں۔اس کے علاوہ ان جھلسی ہوئی ڈھلوانوں پران کے چرنے کے لیے کچھ نہیں تھا۔لوگ اپنے گھروں اور دکانوں کے دوہرے دروازوں پر کھڑے ہو کر ہانپ رہے تھے۔وہ کوئی کام نہ کرتے لیکن مکھیاں سونے نہ دیتیں۔سست، پراگندہ اور نیم برہنہ، وہ جھلاہٹ سے کانپتے تھے۔ لعنت ملامت اور تھپڑوں کے ساتھ وہ اپنی بیویوں اور مددگاروں پر غصے کا اظہار کرتے۔ دونوں دریا خشک ہو رہے تھے۔وہ تنگ اور ہرے بھرے ہو رہے تھے اوران کی گنگناہٹ اس اونگھتے شہر میں ہر طرف سنائی دے رہی تھی۔

اوکولِسٹ پہارپرباغبانوں نے اپنے باغیچوں اور خربوزے کے کھیتوں کو پانی دینا بند کر دیا۔خربوزوں کے تنے خشک سالی سے مڑگئے اور پھل زمین پرگرکرگل سڑگئے۔

پھر،ایک شام، میلان گلاسنچینن نے اپنے پڑوسیوں کو اکٹھا کیا اور انہیں اعتماد میں لیتے ہوئے بتایا کہ پیٹر نامی ایک شخص نے، جو ہنگری سے وہاں منتقل ہوا تھا، کہا تھا کہ جب تک ڈوب جانے والی لڑکی کو واپس ڈرینا میں نہ ڈال دیا جائے یا کم از کم وہ پانی کی سات بالٹیاں اس کی قبر میں نہ انڈیل دیں، تب تک بارش نہیں ہوگی۔

انہوں نے کافی دیر تک مشاورت کی۔ان کے نیچے، عمودی ڈھلوان پریہودی قبرستان کے مقبرے سفید چمک رہے تھے۔ان لوگوں نے سگریٹ نوشی اور باتیں کرتے ہوئے مکمل اندھیرا چھا جانے کا انتظار کیا۔جب نیچے، قصبے کی روشنیاں بجھ گئیں تو وہ اکٹھے ہوگئے؛ ان میں سے ہر کوئی ایک مددگار لایا۔اپنی لاٹھیوں پر ٹب اٹھائے ہوئے، وہ بیکتاس چشمے کی طرف روانہ ہوئے۔

سرسراتے پانی سے آہستہ آہستہ بالٹیاں بھریں۔ وہ لوگ قریب ہی بیٹھ گئے۔ وہ غنودگی سے لڑ رہے تھے اور ان کے سگریٹ کے سرے تاریکی میں سلگ رہے تھے۔انہوں نے اپنے تمام برتن بھرے اورلاٹھیاں اپنے کندھوں پر دھر لیں۔ ٹب ہلتے اور پانی جھوم کر ان کے ننگے پیروں پر گر جاتا۔

جب وہ قبرستان پہنچے،ان میں سے ایک، قبرکے بڑے پتھر کے ساتھ ساتھ ایک چھڑی سے مٹی کھودنے لگااور وہ اس میں پانی ڈالنے لگے۔خشک، ڈھیلی زمین نے پہلے تو اسے چوس لیالیکن جب تک انہوں نے پانچویں بالٹی خالی کی،تو پانی قبر سے واپس بہنے لگا۔چاروں طرف ایک گڑھا سا بن گیا۔اس موقعے پر، خوف کی ایک کیفیت ان پر طاری ہونے لگی۔بڑی عجلت میں انہوں نے آخری دو بالٹیاں بھی خالی کیں اوربھاگ کھڑے ہوئے۔ان سب کے پاؤں کیچڑ سے بھر گئے۔کسی نے کچھ نہ کہا۔

اگلے دن، صبح سویرے گورکن آیا اور اس نے دیکھاکہ قبر کے گرد مٹی اپنی جگہ چھوڑ چکی ہے اور ابھی تک گیلی ہے۔اس نے لعنت بھیجی اور سڑک کے محافظ اسٹانیسا کو طلب کیاجو ایک چھڑی اور بیلچہ اٹھائے قریب ہی سے گزر رہا تھا۔انہوں نے مٹی واپس پھینکی اور اپنے پاؤں سے اس کو دبایا۔پھر وہ بیٹھ گئے اور رِفکا کی قبر کے پتھر سے پشت ٹکا لی جورات سے اب تک ٹھنڈا تھا۔انہوں نے اپنی تمباکو کی تھیلیاں نکالیں،آہستہ آہستہ اپنے لیے سگریٹ تیار کیے اور انہیں سلگا لیا۔

”قبروں میں پانی ڈالنا…یہ سراسر حماقت ہے! یہ مرنے والوں کی نہیں، خدا کی مرضی پر منحصر ہے۔یہ خشک سالی ہے اور بس۔“

یقیناًیہ احمقانہ ہے لیکن لوگ سمجھتے ہیں یہ ضروری ہے۔ اگر مجھے معلوم ہوتاکہ اس سے مدد ملے گی تو میں قصبے کی ہر قبرکھود دیتا اور ہر ایک میں پانی ڈال دیتا۔مثال کے طور پر میری مکئی لے لو،اس نے بمشکل ہی سر اٹھایا تھا کہ یہ جل گئی۔ اور یہ وہی بیج تھا جو میں نے پاول سے ادھار خریدا تھا۔“

وہ سگریٹ پیتے رہے، تھوکتے رہے اوراوپر آسمان کو دیکھتے رہے اور اس طرح مزید ایک دو گھنٹے وہ خشک سالی پر بات کرتے رہے۔

لیکن بارش نہ ہوئی۔لوگ اپنے گھروں کے سامنے گھاس پر سوتے لیکن زمین رات کو بھی ٹھنڈی نہ ہوتی۔گھاس کے میدان میں چلتے چلتے خواتین بے ہوش ہوجاتیں اور بچوں کی مسلسل نکسیر پھوٹ رہی تھی۔قصبہ ہر ایک کوچمکتا ہوا، سرخی مائل اور زیادہ گرم دکھائی دیتا۔

میلان گلاسنچینن، جس نے رِفکا کی قبرمیں پانی ڈالنے میں سب کی رہنمائی کی تھی، سو نہیں پا رہا تھا۔اس نے اپنے دروازوں کو تالا لگا دیا تھا اور ا س میں کھڑکیاں کھولنے کی ہمت نہیں تھی۔وہ اس بھرے کمرے میں پسینے میں شرابور ہوجاتا مگرہر بار جب وہ سوچتا کہ کیسے اس قبر نے گڑگڑا کر پانی باہر اگل دیا تھا،وہ اچانک ٹھنڈا پڑجاتا۔وہ اچھل کر کھڑا ہوا اور دروازے پر ایک لاٹھی ڈال دی۔ لالٹین دیوار پر ٹمٹما رہی تھی۔ایک زرد کیڑا دھوئیں سے سیاہ پڑ چکے شیشے کے گرد پھڑپھڑارہا تھا۔

”اب یہ یہاں کیسے داخل ہوا؟ ڈائن!کیا یہ وہی ننگے پیروں والی بھیگی ہوئی یہودی لڑکی نہیں ہے؟“ وہ پتنگے کے پیچھے لپکالیکن وہ کانپ رہا تھااورمشقت سے اس کی انگلیاں اتنی سوجی ہوئی اور سخت ہوچکی تھیں کہ پتنگا ان میں سے نکل سکتا تھا۔وہ اپنے بازو ہلاتا رہا اور پتنگے پر جھپٹتا رہااور وہ لالٹین سے جا ٹکرایاجس سے اس کا شیشہ ٹوٹ گیا اور بتی باہر نکل گئی۔اپنے آپ کو اندھیرے میں پا کر وہ گھبرا گیا۔وہ پیچھے ہٹتے ہوئے ایک کونے میں چلا گیااور اپنے کلہاڑے کو سہلانے لگا۔وہاں وہ آلتی پالتی مارے بیٹھ گیا اور تاریکی میں کسی بھی آواز کو سننے کی کوشش کرتے ہوئے کمرے کو گھورنے لگا۔جب اس نے اپنے چہرے سے لوہے کے ٹھنڈے بلیڈ کو دبایا تو وہ کانپ رہا تھا۔

پاپو کا گھر بند اور خاموش تھا۔اندر ہر کوئی پسینے میں نہایا ہوااور آنسوؤں کو دباتے ہوئے ایک دوسرے کے سامنے سونے کا دکھاوا کر رہا تھا۔

پہاڑ سیٹیہووو پر لیڈنِک نے اپنے دوست کو لکھا:

”میں خودکشی کر رہا ہوں گیزا۔ میں یقینی طور پر اپنے آپ کو مارنے جا رہا ہوں۔اگر میں خزاں تک اس سرخ،گرم، غلیظ سائبیریاکو برداشت کر سکوں تو سب ٹھیک ہوجائے گالیکن مجھے ڈر ہے کہ میں اتنی دیر تک نہیں سہہ سکوں گا۔“

وہ دن بھر چھاؤں میں لیٹا،اخروٹ کی چھوٹی شاخوں کے ساتھ مچھروں کو بھگاتارہتا۔وہ لمبے، برف کی قلموں کی طرح سیدھے چیڑکے درختوں میں گھِرا ہوا تھا؛ان سب میں سے بڑے بھاری موتیوں کی طرح گوند کی بڑی مقدار نکل رہی تھی۔جھینگر، جو سارا دن خاموش نہیں ہوتے تھے، اسے چڑاتے تھے جیسے کسانوں کے مدھم نغمے جو ہر وقت ان کی سایہ دار آرام گاہوں سے گونجتے رہتے تھے:

”پانی کا پیاسا

پانی کا پیاسا

میں لڑکیوں کی خواہش کرتا ہوں۔“

شام کے وقت خشک دلدل سے جانوروں کی آواز سنائی دیتی تھی: ہو،ہو،ہو،ہو۔ ایسا لگتا تھا جیسے اندھیرے کو پکار رہے ہوں۔رات کو لومڑیاں چیختیں اورکتے گھبرا جاتے۔ یہاں کبھی سکون نہیں تھا۔اس کے سوتے ہوئے دماغ میں صرف پسینہ، رطوبت اور ایک بے لگام دباؤ تھا۔

ایسی قحط سالی کسی کو یاد نہ تھی۔بہت سے لوگ بیمار پڑ گئے۔ میلان گلاسنچینن کے علاوہ دو ترک پاگل ہوگئے اور انہیں سراییوو بھیج دیا گیا۔وہاں گھاس یا دوسرا چارہ نہیں تھااور گندم مکمل طور پر ختم ہوگئی۔گائے بکریوں نے دودھ دینا چھوڑ دیا؛لوگ پہلے ہی سردیوں کے لیے کھانے کی فکر میں تھے۔موسم گرما کے اختتام تک گرمی کا زور ٹوٹ گیا۔ایک برفیلی ہوا چلی اور طوفانی بارشیں ہوئیں؛ پھر آسمان صاف ہوگیااور بڑے، روشن ستارے رات کے آسمان پرنظر آنے لگے۔

اسی طرح خزاں کی پرسکون روشنی میں ایک کے بعد ایک دن گزرتا گیا۔قصبے کے لوگوں نے اپنے کپڑے اور جوتے پہن لیے۔ تاجروں نے اپنا سفر دوبارہ شروع کیااور منافع خور دیہات میں سے گزرنے لگے۔ ہر کوئی گندم اور گھاس کی تلاش میں تھا۔بیچنے والے خوشی کا اظہار کرتے جبکہ خریدار تیوری چڑھاتے۔شیشے کے سوداگر پاپو نے بیک وقت اپنے دو بیٹوں کی شادیاں کیں۔اس کی ایک بہو سراییوو سے تھی، دوسری روگاٹیکا سے؛ وہ دونوں امیر تھیں۔اس کے صحن میں لیڈنِک آخرکارسراییوو میں خود کو منتقل کروانے میں کامیاب ہوگیا۔مریل اور دھوپ سے سنولا کر وہ سیٹیہووو پہاڑ سے نیچے آیا اورجب تک اس نے ضلعی ناظم سے بات نہیں کی، اسے رِفکا کی موت کے بارے میں خبر نہیں ہوئی۔

”وہ بیچاری!“

ان دونوں نے ایک ایک سگریٹ پیا۔سپرنٹنڈنٹ نے اسے اس کی ترقی پر مبارکباد دی جو اسے سراییوو لے آئی تھی اور اسے ایک اچھے معاشرے اور غسل خانے والے ایک سرکاری کمرے تک رسائی ہوگئی تھی۔لیڈنِک نے اگلی صبح سویرے ہی شہرچھوڑ دیا۔وہ اب بھی اس نوجوان یہودی لڑکی کی یاد میں اداس تھا۔

اس خزاں، جوتا سازپرکو کی بیٹی بلوغت کو پہنچ گئی۔موسم گرما تک اس کی جلد سانولی اور پراگندہ تھی، اس کے منہ کے گرد ابتدائی سیبوں کے سے نشانات تھے۔اب اچانک اس کی جلد صاف ہوگئی اور وہ اتنی دبلی ہوگئی کہ اس کی کمر تقریباً دو حصوں میں بٹ گئی؛جب وہ بازار سے گزرتی تو دکاندار بے تاب ہو کر ایک دوسرے کو پکارنے لگتے۔دکانوں کی قطار کے ایک سرے پرفیصل البانی، جو رمضان المبارک کے لیے پیسٹریاں بنا رہا تھا،اس نے حرکت کی اوراس کا ہاتھ گرم تانبے کی بیکنگ شیٹ سے ٹکرا گیا اور وہ چلّا اٹھا:

”یہاں کچھ گرم ہے،گرم،گرم!“ اور اس کے جواب میں ایک دکان سے دوسری دکان تک آواز آئی:

”اوہ ہاں! اوہ ہاں!“

ڈینیلو قصاب چلّایا اور اپنے دانتوں کے نشان والی لکڑی کی چوکھٹ سے ایک لکڑی کا ٹکڑا کاٹ لیا۔اس کے گاہک اتنی زور سے ہنسے کہ ان کا دم گھٹ گیا۔

لڑکی نے اپنی چھاتیوں کو ہلنے سے روکنے کے لیے ہاتھ سے انہیں دبایاپھر اس نے جلدی سے اپنی چال کو ترتیب دیا اور شرم سے لال ہوگئی جیسا کہ اس کے قدم سنگِ مرمر پر گونج رہے تھے۔

(انگریزی سے اردو ترجمہ)

Title in English:

**Love in the Small Town**by** Ivo Andrić**


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3883509381879566

RELATED ARTICLES

1 تعليق

التعليقات مغلقة.

- Advertisment -

Most Popular

تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/