………………………..موت کی سر گوشی…………………………….
بغداد میں ایک تاجر رہتا تھا.. ایک دن اس نے اپنے ملازم کو بازار بھیجا کہ وہ کچھ چیزیں خرید لائے.. کچھ دیر بعد وہ ملازم واپس لوٹا تو حواس باختہ تھا خوف سے کانپ رہا تھا۔
مالک کے استفسار پر ملازم بولا:” میرے آقا! جب میں بازار میں داخل ہی ہوا تھا تو مجمع میں سے ایک خاتون مجھ سے بری طرح ٹکرائی، خاتون نے مڑ کر کر دیکھا تو ایک لمحے میں میں سمجھ گیا کہ ٹکرانے والی دراصل میری موت ہے۔”
نوکر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:”میرے آقا اس عورت نے ٹکرانے کے بعد میری طرف دیکھا اور پھر دھمکی آمیز اشارے کیے، اب آپ مجھے اپنا گھوڑا دے دیں، میں اس شہر سے فوراً فرار ہونا چاہتا ہوں، میں موت سے بھاگنا چاہتا ہوں۔
نوکر بولا کہ گھوڑا لے کر سامرہ چلا جائے گا، وہاں اسے موت نہیں ڈھونڈ سکے گی( سامرہ بغداد سے ایک سو پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک عراقی شہر ہے)
یہ باتیں سن کر مالک نے موت سے خوفزدہ ہو کر فرار ہونے والے نوکر کو اپنا گھوڑا دے دیا.. نوکر گھوڑے پر بیٹھا اور اسے جتنا تیزی سے دوڑا سکتا تھا، دوڑایا اور شہر سے باہر نکل گیا۔
نوکر کے چلے جانے کے بعد مالک خود بازار گیا.. اس نے ہجوم میں اسی موت کو کھڑے ہوئے دیکھا.. مالک سیدھا اس کے پاس گیا اور بولا: ” صبح تم نے میرے نوکر کو کیوں دھمکی آمیز اشارے کیے تھے؟” موت بولی:” میں نے تو کوئی دھمکی آمیز اشارے نہیں کیے، دراصل میں تو اسے دیکھ کر حیران رہ گئی تھی کہ وہ بغداد کے بازار میں کیا کر رہا ہے۔ میری تو اس کے ساتھ ملاقات آج رات سامرہ میں طے تھی!”
کتاب:: جُونا گڑھ کا قاضی اور دکن کا مولوی
مصنف:: رؤف کلاسرا
**یہ کہانی جیفری آرچر کے افسانوں کے مجموعے کی پہلی کہانی ہے اس کا عنوان Death Speaks رکھا ہے یہ کہانی عربی سے ترجمعہ کی گئی ہے آرچر کہتا ہے کہ اس سے بہتر کہانی اب تک کوئی نہیں لکھی گئی۔
بغداد میں ایک تاجر رہتا تھا.. ایک دن اس نے اپنے ملازم کو بازار بھیجا کہ وہ کچھ چیزیں خرید لائے.. کچھ دیر بعد وہ ملازم واپس لوٹا تو حواس باختہ تھا خوف سے کانپ رہا تھا۔
مالک کے استفسار پر ملازم بولا:” میرے آقا! جب میں بازار میں داخل ہی ہوا تھا تو مجمع میں سے ایک خاتون مجھ سے بری طرح ٹکرائی، خاتون نے مڑ کر کر دیکھا تو ایک لمحے میں میں سمجھ گیا کہ ٹکرانے والی دراصل میری موت ہے۔”
نوکر نے اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہا:”میرے آقا اس عورت نے ٹکرانے کے بعد میری طرف دیکھا اور پھر دھمکی آمیز اشارے کیے، اب آپ مجھے اپنا گھوڑا دے دیں، میں اس شہر سے فوراً فرار ہونا چاہتا ہوں، میں موت سے بھاگنا چاہتا ہوں۔
نوکر بولا کہ گھوڑا لے کر سامرہ چلا جائے گا، وہاں اسے موت نہیں ڈھونڈ سکے گی( سامرہ بغداد سے ایک سو پچیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک عراقی شہر ہے)
یہ باتیں سن کر مالک نے موت سے خوفزدہ ہو کر فرار ہونے والے نوکر کو اپنا گھوڑا دے دیا.. نوکر گھوڑے پر بیٹھا اور اسے جتنا تیزی سے دوڑا سکتا تھا، دوڑایا اور شہر سے باہر نکل گیا۔
نوکر کے چلے جانے کے بعد مالک خود بازار گیا.. اس نے ہجوم میں اسی موت کو کھڑے ہوئے دیکھا.. مالک سیدھا اس کے پاس گیا اور بولا: ” صبح تم نے میرے نوکر کو کیوں دھمکی آمیز اشارے کیے تھے؟” موت بولی:” میں نے تو کوئی دھمکی آمیز اشارے نہیں کیے، دراصل میں تو اسے دیکھ کر حیران رہ گئی تھی کہ وہ بغداد کے بازار میں کیا کر رہا ہے۔ میری تو اس کے ساتھ ملاقات آج رات سامرہ میں طے تھی!”
کتاب:: جُونا گڑھ کا قاضی اور دکن کا مولوی
مصنف:: رؤف کلاسرا
**یہ کہانی جیفری آرچر کے افسانوں کے مجموعے کی پہلی کہانی ہے اس کا عنوان Death Speaks رکھا ہے یہ کہانی عربی سے ترجمعہ کی گئی ہے آرچر کہتا ہے کہ اس سے بہتر کہانی اب تک کوئی نہیں لکھی گئی۔
بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3882820218615149

یہ واقعہ تو سلیمان علیہ السلام سے منسوب ہے کیا یہ سچ ہے۔
وٶف کلاسرا بھی ادب تخلیق کرنے لگ گیا ھے؟
گریگوری پیک، عمر شریف اور ٹیلی ساولاس کی مشہور فلم MacKenna’s Gold کے آغاز میں اس کہانی کا اپاچی روپ دستیاب ہے۔۔۔۔۔۔
ایسا ہی قصہ شاید حضرت سلیمان علیہ السلام کے کسی وزیر سے منسوب کیا جاتا ھے