منتخب نظمیں

جشن تذلیل چھوٹے ہوتے، جب سکول میں مرغے بنتے تھے،…

جشن تذلیل

چھوٹے ہوتے،
جب سکول میں مرغے بنتے تھے،
تذلیل کے کرب سے نا واقف چوزوں کی طرح،
کچھ دیر کے بعد،
پھر چوں چوں کرنے لگتے تھے۔
اب اپنے اپنے ڈربوں میں، سب بسمل مرغ کے رقص کا منظر،
ان پتھرائی
آنکھوں میں سجا کے


بانگ بھی دینا بھول گئے۔
ہم کون نسل کے مرغے ہیں،
اے کاش اصیل ہی بن پاتے

جمال شاہ

"Celebration of a Dehumanized existence”
by "Jamal Shah”
at PNCA



متعلقہ تحاریر

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/