عالمی ادب

___راجستھانی ادب سے انتخاب "انّا رام سوداما” 1923 میں پیدا ہوئے۔آپ ایک ریٹائرڈ …

___راجستھانی ادب سے انتخاب

"انّا رام سوداما” 1923 میں پیدا ہوئے۔آپ ایک ریٹائرڈ سکول ٹیچر اور راجستھان کے ممتاز شاعر ہیں۔ان کا خاندان سادہ مڈل کلاس فیملی تھی اور ان کا بچپن بہت تکلیف میں گزرا۔ناسازگار حالات کی وجہ سے صرف آٹھویں تک پڑھ سکے ، کئی سال بعد 1962 میں جا کر ایم ۔اے کیا۔
ان کا ادبی دامن ہندی اور راجستھانی دونوں زبانوں پر وسیع ہے۔شاعری ، فکشن سمیت دو سفرنامے بھی لکھ چکے ہیں۔راجستھان ساہتیہ اکیڈمی نے ان کو دو بار ایوارڈ سے نوازا ہے ، 1968 میں شاعری کے لیے اور 1974 میں فکشن کی اعلی تخلیق پر۔

تِوالی Tiwali
(انصاف پسند کتیا)

نانی اماں کو کل سویرے سے
بخار تپ رہا ہے
جلدی سے چلتے ہوئے میں
ڈاکٹر ورما کے کلینک پر گیا
اور بولا :
” نانی اماں کو جلدی آ کر دیکھیے ڈاکٹر
براہ کرم !! ”
اس نے ہنستے ہوئے کہا :

"لگتا ہے اس جاڑے میں تمہاری اماں
گزر جائے گی
اور ہمیں اس سردی میں
سوگ پر ایک لطف بھری دعوت کھانے کو ملے گی ”

” اماں گزر جائیں گی یا
زندہ رہیں گی ، کِسے پتا ؟ ”
میں نے کہا ،

” مگر جو وہ نہ بچ سکیں تو
آپ تکلف نہ کیجیے گا ،
ہم آپ کو کھانا بھجوا دیں گے”

ورما جی کچھ کھسیانے سے بولے :
” میں ابھی ذرا مصروف ہوں
مگر بیٹا !
یقین جانو
پہلی فرصت میں اڑتا ہوا
تمہارے گھر آتا ہوں ”

شام ڈھلے
مندر کی گھنٹیاں بجتے سمے
ایک موٹر کار ڈورتی ہوئی رکی
اور ہارن بجانے لگی
آواز سن کر میں دروازے تک دوڑا
راستے میں بیٹھی ہماری پالتو کتیا
وہ بے زبان ممتا
کہیں اس کا ننھا پلا نہ کچلا جائے !!

میری دہائی ختم ہونے سے کچھ پہلے ہی
ڈاکٹر پر اپنے دانت گاڑ کر
گھٹنے تک اس کی پتلون پھاڑ چکی تھی
اور اب پاس ایندھن کے گٹھے نیچے جا بیٹھی

” بھاڑ میں جائے تمہاری نانی ،
تمہاری فیس بھی
اسے اپنی بھینس کی دم پر باندھ لو ” ،
ورما جی پکارنے لگے تھے ،

” تمہاری نانی بیمار ہے تو مجھے کیا !
میں یہاں دوا دینے آیا ہوں
یا خود بیمار ہونے ”

ڈاکٹر ورما کو تشفی دینے کے لیے
میں نے پہلے تو اپنی کتیا کو
سینکڑوں گالیاں دیں
کون جانے لیکن ؟
کہ گزرے جنم میں
اس کتیا پر کوئی احسان تھا میرا
جس کا بدلہ اسے چکانا تھا
یا پھر ڈاکٹر ورما نے
نانی اماں کا کوئی قرض چکانا تھا !!

بعد میں انہیں سولہ روپے فیس ادا کرتے ہوئے
میں نے سو کا سبز نوٹ بھی ان کے ہاتھ پر رکھا اور
ہاتھ باندھ کر عرض کی :

” معاف کیجیے گا !! محترم
میں آپ کو پہلے سے
بتانا بھول گیا
کہ دروازے کی راہ پر ہماری کتی
اپنے بچے کو لیے بیٹھی ہو گی ”

•••

اب ، کلبوں میں جانے والی کتیاں
روز اپنے کتے بدلتی ہیں
اور رام ان کی کوکھ سے
کبھی جنم نہیں لے پاتا

وہ کبھی سورج جیسے روشن لکشمن
کو جنم دینے کا خواب نہیں دیکھ سکتیں

مت سوچو کہ کبھی شنکر اور گاندھی
ان کی گودیوں میں کھیلیں گے
یہ سب بھول جاؤ!!

بہت سے کتے اب
دفتروں کی سرکاری کرسیوں پر بیٹھ کر
آنکھوں سے خفیہ اشارے کرتے ہیں
اور اپنی
آنکھوں میں اپنی غلیظ اور بے کار
دمیں ہلاتے ہیں
اور جسیے ہی انہیں
روٹی کا توشہ ملے گا
ریٹائرڈ ہو جائیں گے

ہمارے یہ،
مسخ چہروں والے کتے
دن کی روشنی میں
ایک کتی کے ساتھ چلتے ہیں
اور اگر
اس قسم سے جی مطمئن نہ ہو تو
یورپ سے اعلی کتیا منگوانا چاہتے ہیں
دوجی ولایتی (Alsatian) قسم کی ،
پیرس، اٹلی یا امریکہ سے
کیا کبھی ان کے گھر
شری کالی داس کا جنم ہو گا ؟

(ہمالیہ کی عظیم روح ہمارے شمال میں رہتی ہے !!)

کیا کبھی یہ ہندوستان کی سرحدوں تک چل کر اس کے دکھوں کا مداوا کر سکیں گے
(ماں اور دھرتی جنت سے بڑھ کر انمول ہیں )
مگر یہ یہاں مغرب کی زہریلے لفظوں میں
طوطے کی بولی بولتے ہیں:
” کھاؤ ! پیو ! اور خوش رہو ”

•••

اوئے ہاں !!
توالي….
مجھے پھر وہی منظر یاد آیا
موٹر کار رکی اور ہارن بجایا
ڈاکٹر ورما اپنا بیگ تھامے آیا
توالي دوڑی
اور
اس کی پتلون پر دانت گاڑ کر ،
اسے پھاڑ ڈالا
ڈاکٹر غصے سے سرخ ہو گیا

مگر میری پیاری توالي
تم نے انصاف کیا
تمہاری کوکھ گھٹیا نہیں ہے
تمہیں اپنے رام کو جنم دینا مبارک
اپنے ارجن کو یودھ سکھانا مبارک

تمہارے اس مقدس عمل سے
میں بہت خوش ہوں

آنے والا بھی ایک کتا تھا
سکوں کی لعنت سے بیمار
تانبے کے چند ٹکڑوں کو جو
انسانی جان سے زیادہ
پیار کرتا ہے!!


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/3875515209345650

متعلقہ تحاریر

2 Comments

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/