منتخب غزلیں

یہ ہم سے نہ ہوگا کہ کسی ایک کو چاہیں اے عشق ہماری …

یہ ہم سے نہ ہوگا کہ کسی ایک کو چاہیں
اے عشق ہماری نہ تیرے ساتھ بنے گی
….
معروف گیت کار اور شاعر جان نثار اختر کا یوم پیدائش
Feb 18, 1912
(ولادت: 18 فروری 1914ء – وفات: 19 اگست 1976ء)
نام سید جاں نثار حسین رضوی اور اختر تخلص تھا۔ جاں نثار نے شاعری کا ذوق وراثت میں پایا تھا۔ وہ گیت کار جاوید اختر کے والد تھے اور مضطر خیر آبادی کے بیٹے تھے۔
——
منتخب کلام
سوچو تو بڑی چیز ہے تہذیب بدن کی
ورنہ تو بدن آگ بجھانے کے لیے ہے
——
آنکھیں جو اٹھائیں تو محبت کا گماں ہو
نظروں کو جھکائے تو شکایت سی لگے ہے
——
اشعار مرے یوں تو زمانے کے لیے ہیں
کچھ شعر فقط ان کو سنانے کے لیے ہیں
——
یہ علم کا سودا یہ رسالے یہ کتابیں
اک شخص کی یادوں کو بھلانے کے لیے ہیں
——
اور کیا اس سے زیادہ کوئی نرمی برتوں
دل کے زخموں کو چھوا ہے ترے گالوں کی طرح
——
اب یہ بھی نہیں ٹھیک کہ ہر درد مٹا دیں
کچھ درد کلیجے سے لگانے کے لیے ہیں
——
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ہے کہ تم ہو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ہے کہ تم ہو
——
دیکھوں ترے ہاتھوں کو تو لگتا ہے ترے ہاتھ
مندر میں فقط دیپ جلانے کے لیے ہیں
——
جب لگیں زخم تو قاتل کو دعا دی جائے
ہے یہی رسم تو یہ رسم اٹھا دی جائے
——
قوت تعمیر تھی کیسی خس و خاشاک میں
آندھیاں چلتی رہیں اور آشیاں بنتا گیا
——
تمام عمر عذابوں کا سلسلہ تو رہا
یہ کم نہیں ہمیں جینے کا حوصلہ تو رہا
گزر ہی آۓ کسی طرح تیرے دیوانے
قدم قدم پہ کوئی سخت مرحلہ تو رہا
چلو نہ عشق ہی جیتا نہ عقل ہار سکی
تمام وقت مزے کا مقابلہ تو رہا
میں تیری ذات میں گم ہو سکا نہ تو مجھ میں
بہت قریب تھے ہم پھر بھی فاصلہ تو رہا
یہ اور بات کہ ہر چھیڑ لاابالی تھی
تری نظر کا دلوں سے معاملہ تو رہا
——
زمیں ہوگی کسی قاتل کا داماں ہم نہ کہتے تھے
اکارت جائے گا خونِ شہیداں ہم نہ کہتے تھے
عِلاجِ چاکِ پیراہن ہُوا، تو اِس طرح ہوگا
سِیا جائے گا کانٹوں سے گریباں ہم نہ کہتے تھے
ترانے کچھ دبے لفظوں میں خود کو قید کرلیں گے
عجب انداز سے پھیلے گا زِنداں ہم نہ کہتے تھے
کوئی اِتنا نہ ہوگا لاش بھی لے جا کے دفنا دے
اِنھیں سڑکوں پہ مرجائے گا اِنسان ہم نہ کہتے تھے
نظرلپٹی ہے شُعلوں میں، لہو تپتا ہےآنکھوں میں
اُٹھا ہی چاہتا ہے، کوئی طوُفاں ہم نہ کہتے تھے
چَھلکتے جام میں بھیگی ہُوئی آنکھیں اُتر آئیں
ستائے گی کسی دِن یادِ یاراں ہم نہ کہتے تھے
نئی تہذیب کیسے لکھنؤ کو راس آئے گی
اُجڑ جائے گا یہ شہرِغزالاں ہم نہ کہتے تھے
………….
رنج و غم مانگے ہے، اندوہ و بلا مانگے ہے
دل وہ مجرم ہے کہ خود اپنی سزا مانگے ہے
چپ ہے ہر زخمِ گلو، چپ ہے شہیدوں کا لہو
دستِ قاتل ہے جو محنت کا صِلہ مانگے ہے
تو بھی اک دولتِ نایاب ہے، پر کیا کہیے
زندگی اور بھی کچھ تیرے سوا مانگے ہے
کھوئی کھوئی یہ نگاہیں، یہ خمیدہ پلکیں
ہاتھ اٹھائے کوئی جس طرح دعا مانگے ہے
راس اب آئے گی اشکوں کی نہ آہوں کی
آج کا پیار نئی آب و ہوا مانگے ہے
بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی
ہر سکوتِ شبِ غم کوئی صدا مانگے ہے
لاکھ منکر سہی پر ذوقِ پرستش میرا
آج بھی کوئی صنم، کوئی خدا مانگے ہے
سانس ویسے ہی زمانے کی رکی جاتی ہے
وہ بدن اور بھی کچھ تنگ قبا مانگے ہے
دل ہر اک حال سے بیگانہ ہوا جاتا ہے
اب توجہ، نہ تغافل، نہ ادا مانگے ہے
——
آہٹ سی کوئی آئے تو لگتا ھے کہ تم ھو
سایہ کوئی لہرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
جب شاخ کوئی ھاتھ لگاتے ھی چمن میں
شرمائے لچک جائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
صندل سے مہکتی ھوئی پر کیف ھوا کا
جھونکا کوئی ٹکرائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
اوڑھے ھوئے تاروں کی چمکتی ھوئی چادر
ندی کوئی بل کھائے تو لگتا ھے کہ تم ھو
——
زندگی یہ تو نہیں تجھ کو سنوارا ہی نہ ہو
کچھ نہ کچھ تیرا احسان اُتارا ہی نہ ہو
کُوئے قاتل کی بڑی دھوم ہے، چل کر دیکھیں
کیا خبر کُوچہء دلدار سے پیارا ہی نہ ہو
دل کو چُھو جاتی ہے رات کی آواز کبھی
چونک اُٹھتا ہوں کہیں تم نے پُکارا ہی نہ ہو
کبھی پلکوں پہ چمکتی ہے جو اشکوں کی لکیر
سوچتا ہوں تیرے آنچل کا کنارا ہی نہ ہو
زندگی اک خلش دے کے نہ رہ جا مجھ کو
درد وہ دے جو کسی صورت گوارہ ہی نہ ہو
شرم آتی ہے کہ اُس شہر میں ہم ہیں کہ جہاں
نہ ملے بھیک تو لاکھوں کا گزارہ ہی نہ ہو
………..

ہر ایک روح میں اک غم چھپا لگے ہے مجھے
یہ زندگی تو کوئی بد دعا لگے ہے مجھے
پسند خاطر اہل وفا ہے مدت سے
یہ دل کا داغ جو خود بھی بھلا لگے ہے مجھے
جو آنسوؤں میں کبھی رات بھیگ جاتی ہے
بہت قریب وہ آواز پا لگے ہے مجھے
میں سو بھی جاؤں تو کیا میری بند آنکھوں میں
تمام رات کوئی جھانکتا لگے ہے مجھے
میں جب بھی اس کے خیالوں میں کھو سا جاتا ہوں
وہ خود بھی بات کرے تو برا لگے ہے مجھے
میں سوچتا تھا کہ لوٹوں گا اجنبی کی طرح
یہ میرا گاؤں تو پہچانتا لگے ہے مجھے
نہ جانے وقت کی رفتار کیا دکھاتی ہے
کبھی کبھی تو بڑا خوف سا لگے ہے مجھے
بکھر گیا ہے کچھ اس طرح آدمی کا وجود
ہر ایک فرد کوئی سانحہ لگے ہے مجھے
اب ایک آدھ قدم کا حساب کیا رکھئے
ابھی تلک تو وہی فاصلہ لگے ہے مجھے
حکایت غم دل کچھ کشش تو رکھتی ہے
زمانہ غور سے سنتا ہوا لگے ہے مجھے
…………………………


متعلقہ تحاریر

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/