منتخب غزلیں

ذوالفقار احمد تابش کے سوال کے بعد نثری نظم کے سلسل…

ذوالفقار احمد تابش کے سوال کے بعد نثری نظم کے سلسلے میں جو طوفان اٹھا وہ اب چھ برس کے بعد قریب قریب ختم ہو چکا ہے۔ نثری نظمیں اب بھی چھپتی ہیں اور لوگ باگ اپنے انٹرویوز میں نثری شاعری کی حمایت بھی کرتے ہیں( کہ یہ بھی ایک فیشن بن چکا ہے) اور محفلوں میں نثری نظموں کا علم بھی بلند کیا جاتا ہے مگر وہ پہلا سا جوش و خروش اور مرنے مارنے کی صورت باقی نہیں رہی۔ حد یہ کہ نثری نظم کے ایک بڑے علم بردار نے نثری نظم سے آگے اب کنکریٹ پوئٹری Concrete Poetry سے بھی اپنی Commitment کا اعلان کردیا ہے۔ مغرب میں نثری نظم کی طرح کنکریٹ پوئٹری کے بھی تجربات ہو چکے ہیں جن میں ایک پیچیدہ سی تصویر بنا کر اس کے اوپر چند الفاظ بطور عنوان لکھ کر اعلان کر دیا جاتا ہے کہ نظم تخلیق ہو گئی۔ مثلا میری ایلن سولٹ Mary Ellen Solt کی یہ نظم دیکھئے جس کا عنوان ہے Wild Crab چونکہ مغرب والے ایک بے قرار روح کے مالک، مہم جو اور Empiricism کے رجحان کے تحت تجربات سے لطف اندوز ہونے کے عادی ہیں لہذا وہ شاید کنکریٹ پوئٹری پر بھی اکتفا نہیں کریں گے بلکہ اس سے بھی آگے پھولوں کی آرائش ، مورتیوں کی تراش ، عمارتوں کی تعمیر اور نغمے کے اتار چڑھاؤ کو بھی شاعری کے زمرے میں کھینچ لیں گے۔ انہیں کون روک سکتا ہے۔ سوال صرف یہ ہے کہ ہم لوگ کہاں تک ان کا ساتھ دے سکتے ہیں ؟

(ڈاکٹر وزیر آغا کے تنقیدی مضمون ” قصہ نثری نظموں کا ” سے اقتباس)
انتخاب :-: ابوالحسن علی ندوی

متعلقہ تحاریر

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/