منتخب غزلیں

تمہیں ڈر کس کا ہے ؟ راجہ مہدی علی خان ٹیکس پر ٹی…

تمہیں ڈر کس کا ہے ؟
راجہ مہدی علی خان
ٹیکس پر ٹیکس لگاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
ہوش ہم سب کے اڑاؤ تمہیں ڈرکس کا ہے
اپنی ‘ دنیاۓ مصیبت’ کے خداؤ اٹھو
حشر پر حشر اٹھاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
مۓ پندار جو پی لی ہے تو بد مست رہو
اب نہ تم ہوش میں آؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
کہہ رہے ہیں یہ غریبوں کے اجڑتے ہوۓ گھر
بستیاں اپنی بساؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
ہمیں انسان سے حیوان بنانے والو !
ہمیں ہستی سے مٹاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
نا خدا تم ہو تو ڈوبے گی یہ کشتی اک دن
بے دھڑک اس کو چلاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
گیہوں خود کھاؤ ہمیں گھن بھی نہیں کھانے دو
قیمتیں اور بھی بڑھاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
دیکھ کر فاقہ کشوں کے یہ سکڑتے ہوۓ پیٹ
توند پر توند بڑھاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
ہمیں وعدوں پہ رکھو زندہ تم اے زندہ دلو
پلان پر پلان بناؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
دلِ سیہ ، جرم سیہ نامۂ اعمال سیہ
بلیک کا مال چھپاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
” ہم بھی کیا یاد نکریں گے کہ خدا رکھتے تھے ”
ہمیں جی بھر کے ستاؤ تمہیں ڈر کس کا ہے
…………………….


متعلقہ تحاریر

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/