افسانے

در بیان قصۃالعشق چھپن چھری بانو،میاں بھجالی عظیم آبادی اور چاقو عظیم آبادی(1)-خنجر عظیم آبادی -مکالمہ

ابّا حضور نشتر عظیم آبادی کا ایک چہیتا خدمت گار تھا ۔ ایک سعادت مند اور بہت پیارا نیپالی ۔حقہ تازہ رکھتا اور شعرا کی صورتیں نہارتا، ان کے اشعار سنتا اور شاعری کی سر مستیوں میں بے ہوش ہوجاتا، یوں کہیں کہ اس نے بھی قصدِ شعر کیا اور شاعر ہو گیا ۔ بہت دلگداز لہجے میں اشعار پڑھا کرتا۔ ابا حضور نے نیپالی ہونے کی رعایت سے اسے “بھجالی (کھکری بہ زبانِ نیپالی) عظیم آبادی” کے تخلص سے نوازا۔

اماں کی منہ چڑھی اور بہت تیز طرار خادمہء درون خانہ خاص الخاص بانو عرف چھپن چھری مردانے کی بیٹھک سے ابھرتے اشعار کے ارتعاش کو اپنے پلو میں باندھتی اور عروض کے لہریوں کو دماغ میں، حتیٰ  کہ یہ بھی فن شعر گوئی میں امتداد زمانہ کے ساتھ طاق ہوتی گئی۔ اب یہ حال ہوا کہ سینہء چھپن چھری غالب و میر کا ٹھکانہ ٹھہرا۔ جوان اسے دیکھ کر آہِ سرد بھرتے ۔ میاں بھجالی چھپن چھری کے عشق میں بُری طرح گرفتار ہو گئے  اور اس کے ہر ہر لوچ قدم پر جھوم جھوم کر اشعار پڑھتے ۔

حویلی سے فرلانگ بھر دور نورا قصائی  کی دوکان تھی ۔ چھپن چھری گوشت لانے کے لیے نورا قصائی  کی دوکان پر جاتی ۔ نورا قصائی  اپنی تمام تر سفاکیت کے ساتھ چھپن چھری پر ہزار جان سے عاشق ہو گیا ۔ مگر اسے پتہ چلا کہ موصوفہ شعر و ادب کی دلدادہ ہیں ۔ تو اس نے بھی عہد باندھا کہ فن ِ شاعری کو پانی کرکے رہے گا ۔ پہنچ گیا ملک الشعرا چچا جان تیغ عظیم آبادی کی خدمت میں ۔چچا جان کو فنِ  داستان نویسی اور شعر و شاعری میں حد درجہ کمال حاصل تھا ۔ چچا جان نے اوّل تو اسے عظمت شاگردی بخشنے سے انکار کیا۔ مگر اس نے انہیں روزانہ دو کلو کباب کا گوشت دینے کا لالچ دیا تو چچا جان کو چار و ناچار اثبات میں سر ہلانا پڑا۔

نورا روز ایک ٹوٹی پھوٹی غزل لاتا اور پھڑکتی ہوئی غزل لے جاتا ۔ چچا جان کو اسکے عشق کی داستان المناک کی خبر تھی اس لیے چھری کی مناسبت سےچاقو عظیم آبادی تخلص تجویز فرمایا ۔

ادھر میاں بھجالی عظیم آبادی ابا حضور کا حقہ تازہ کرنے کے بہانے سے ہر دو گھڑی پر باورچی خانے میں حاضر ہو جاتا اور چھپن چھری کے قریب بیٹھ کر عشقیہ اشعار درد بھری آواز میں سناتا ۔ ایک روزوالدہ گرامی کی ڈانٹ سن کر چھپن چھری کا مزاج برہم تھا ۔ حسب عادت بھجالی میاں باورچی خانے میں حقہ لہراتے پہنچے اور لگے اشعار سنانے ۔ چھپن چھری نے چولہے سے سرخ انگارہ نکالا اور اس کے پاؤں مبارک پر دھر دیا۔ اس کے بعد میاں بھجالی نے وہ ہائے توبہ مچائی  کہ اللہ کی پناہ ۔

چاقو عظیم آبادی قصائیوں میں شاعر مشہور ہو کر معتبر اور ہزار قصائیوں سے بہتر ٹھہرا ۔ جہاں جاتا اسے کرسی پیش کی جاتی۔

قصائی برادری کی مستورات چلمنِ چرم سے جھانک کر انہیں دیکھتیں ۔ واری بلہاری ہوکر داماد بنانے کے خواب دیکھتی ۔ دوشیزہ قصاب چپکے چپکے عشق میں آہیں بھرتیں۔ کئی خریدار حسینائیں چاقو کی فن شعر گوئی کے خمار میں عشق کی وادیوں میں اتر جاتیں اور دوسروں سے لکھوائے رقعے گوشت لینے کے بہانے چپکے سے ترازو کے نیچے رکھ آتیں ۔ کئی  قصائی  لڑکیوں کے نامے چھپن چھری نے اپنے دست حنائی  سے تحریر کیے تھے ۔

چاقو قصائی  اس معاملے میں کسی بھی حسینہ کو مایوس کرنا کفر عظیم سمجھتا ۔ہر نامے کا جواب پھڑکتی ہوئی  غزل پڑھ کر دیتا ۔ مگر چھپن چھری کے لیے اس کا عشق جنون کی حد میں داخل ہو چکا تھا ۔ کسی بھی قیمت پر چھپن چھری کو حاصل کرنا چاہتا تھا۔

چاقو کو علم ہوا کہ میاں بھجالی بھی چھپن چھری کے عشق میں گھائل ہیں ۔ پیروں پر چھپن چھری کے عطا کیے ہوئے زخم کو کھرچ کر تازہ دم رکھتے ہیں ۔اور چھپن چھری کے دل میں بھی میاں بھجالی کے لیے ایک نامعلوم نرم و گرم گوشہ کشادہ ہونے لگا ہے ۔یہ سنتے ہی چاقو غیض و غضب کے عالم میں چچا جان کے تکیہ” پاسی خانہ منگرا ” پہنچا اور سب کے سامنے بھجالی کا سر تن سے جدا کرنے کی قسم اٹھائی  ۔

اس معاملے کی خبر والد صاحب کو ہوئی  ۔انہوں نے چاقو اور بھجالی کو ایک ساتھ حاضر ہونے کا حکم صادر فرمایا۔ چھپن چھری نے رقت آمیز لہجہ میں میاں بھجالی اور چاقو کے کرتوت سنا کر خود کو بےقصور بتایا۔ ان کے چند عشقیہ اشعار بھی شرما شرما کر سنائے ۔ میاں بھجالی نے شرمندگی سے پیر کے انگوٹھے سے زمین کھودی ۔چاقو کی جان بھی باعثِ  خوف خشک ہوئی ۔ والد صاحب کو اندازہ ہوا کہ چھپن چھری کے دل میں میاں بھجالی کی خاطر نرم گوشہ ہے ۔ دونوں طرف ہے آگ برابر لگی ہوئی ۔ چھپن چھری کی حیا سبب عار ہے ۔ اس لیے زبان پر انکار ہے ۔ انہوں نےبھجالی کو حکم دیا کہ جاکر سرخ جوڑا لائے ۔ چاقو ایک بکرا حلال کرے ۔

بعد نماز جمعہ تمام جنگجو شعرا کی موجودگی میں چھپن چھری اور میاں بھجالی کا عقد بے مثال ہُوا، چاقو اپنے ارمانوں کے خون میں لت پت سبکیاں لیتا اور آہیں بھرتا رہا ۔ دامن گیر جنون ہوا ۔ قصہ المختصر ان دونوں نے بہت خوشگوار ازدواجی زندگی گزاری ۔ تمام عمر آپس میں شاعری کی زبان میں ہی گفتگو رہی ۔

یہ انتہائی افسوس کی بات ہے کہ بھجالی اور چھپن چھری کی وراثت کو سنبھالنے کے لیے کوئی اولاد معرض وجود میں نہیں آئی ۔ اگر کوئی اولاد ہوتی تو یقین ہے فن قتال کے طاق اس نونہال کا اسم گرامی قراولی ضرور ہوتا۔ مجھ غریب کی خدمت پہ مامور ہوتا ۔ آج یوں بے یاری مشہور نہ ہوتی ۔ نسوار کے لیے بیگم شمشیر برہنہ کا پابند نہ ہوتا ۔ بھجالی کا لونڈا دوڑ کر نسوار خرید لاتا۔
چھپن ہے چھری تو مری جان ادھر آ
چاقو ہے ترے خواب کا ہیجان ادھر آ

Advertisements

julia rana solicitors london

چاقو یہ شعر اس وقت تک دہراتا رہا جب تک کہ اسے عشق ثانی نہ ہوا
جاری ہے!




بشکریہ

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/