افسانے

قصۃ الولادتِ چراغِ ظہورہ عرف وجودِ دونیم بمناسبت اہور مازدہ النوری شبِ دیجور والنارِ نصف النہار خانوادہء چاقو عظیم آباد عرف نورا قصائی(2)-خنجر عظیم آبادی -مکالمہ

چاقوعظیم آبادی داغِ مفارقت کا ستم شبانہ روز سہنے لگا۔چھپن چھری کا غم ہجرت اور میاں بھجالی کی قسمت کی یاوری اسے کسی دم چین نہیں لینے دیتی ، وہ سرخ جوڑوں میں ملفوف چھپن چھری کو حجرہء عروسی میں بامِ تخیل پر لاتا لیکن وہاں وہ خود کہاں ہوتا ، وہاں تو بھجالی اپنی تمام تر سنگ دلی اورسفاکی سے مسکرا رہا ہوتا۔اس نے شادی کے شادیانے کے لیے کچھ پیسے پس انداز کررکھے تھے، وہ بار بار سال خوردہ صندوق سے روپیوں کی پوٹلی نکالتا ،چشم ولب سے لگاتا اور وقفے وقفے سے آنسو بہاتا، ’’جب دل ہی ٹوٹ گیا ، جب دل ہی ٹوٹ گیا، ہم جی کر کیا کریں گے‘‘ ملک الشعرا چچا جان تیغ عظیم آبادی کا لکھا یہ نغمہ پُرسوز آواز میں گاتا ۔ یہ نغمہ اس زمانے میں زبان زد عام ہوا ،بعد میں سہگل اسے گا کر امر ہو گیا ۔ چاقو بھی سہگل جیسی لحن فقیرانہ میں گاتا ۔کاروبارِ غرفۂ لحم چاقو کی دل گرفتگی اور عالم مجنونیت کی وجہ سے مندہ ہوا ۔ اہل محلہ لحن دل سوز چاقو سنتے تو آہ سرد بھرتے اور حقِ چاقو میں دعاکرتے ۔

اے صاحبو! یہ زمانہ عجیب تھا، غدر کی نفسانفسی کے بعد کیا چرند ، کیا پرند ، کیا جن و کیا ابن آدم سب کے سب بے حال تھے ، بحالی تنفس اور امانِ جاں کے طلب گار تھے، ایسے میں ایک رہنما، محبوبِ جگر وجاں سر سید احمد خاں کو سودائے انگریزی سمایا اور اس نے ارادہ باندھا کہ عہد وسطی کی عظمت بحال کرے گا، قوم کو دولتِ علم سے مالا مال کرے گا۔ یہ مردِ مجاہد علم وادب، شیریں سخن ، جانِ وطن قریہ در قریہ ، شہر در شہر محوِ گردش ہوا، طلب زر کی تھی کہ ایک ادارہ علم بناوے اور نونہالانِ قوم کی قسمت سنوارے۔ ہماری خوش قسمتی کہ جب سر سید نے عظیم آباد میں قدم رکھے ، ایک جم غفیر اُمڈ آیا، حضرت سید کو کئیوں نے آبِ زرد دکھلایا، مگر وہ بندہ علم شناس ، کا ہو کو کسی کے جھا نسے میں آوے ، کیوں کسی کو اپنا دستِ طلب دکھاوے سیدھے ہماری خانقاہ جنگ و جدل کارخ کیا اور تکیہ خاندان ترکشی میں دم لیا۔ دادا حضور کو دورانِ مراقبہ کشف ہوچکا تھاکہ سر سید احمد خاں نے قصدِ سفر عظیم آباد کیا ہے اور آستانہ جنگ و جدل خاندان ترکشی میں قیام کا عہد لیا ہے۔ المختصر دادا جان نیزہ عظیم آبادی نے سرسید کا استقبال والہانہ کیا ، پھر سب نے مل کر ادا نماز شکرانہ کیا ، پھر حضرت نیزہ نے اپنے دیوان خاص میں ان کا ٹھکانہ کیا ۔ انکی حوصلہ افزائی کے ساتھ مقصد میں کامیابی کی دعا فرمائی ۔ شہر کے امراء و روساء کو جب خبر ہوئی کہ سر سید نیزہ عظیم آبادی کے خانقاہ جنگ و جدل میں تشریف فرما ہیں تو جوق در جوق حاضرِ آستانہ ہوئے، استطاعت سے بڑھ کر خانقاہِ خاندانِ ترکشی کے مریدین نے امداد کی ۔

چاقو عظیم آبادی عرف نورا قصائی کو جب خبر ہوئی تو اس نے اپنے سال خوردہ صندوق سے تھیلی نکالی اور سر سید کے مبارک قدموں پر بائیس روپے نذر کئے ۔( دادا جان اور سر سید داستان باکمال، فقیدالمثال، کسی اور قسط میں پیش کی جائے گی) اور سر پر خاک ڈال ، جگر کو پیٹتا، بال نوچتا، عالم جنون میں سمتِ دشتِ بلاخیز کی جانب گامزن ہوا ۔ذرا ہی دور گیا تھا کہ ایک اژدہام دکھا ۔ عجب سماں تھا، کوئی پیر تھا تو کوئی جواں تھا، کھیل تماشہ کا سماں تھا۔ ایک بھٹیاری، اس کی چتون سب پر بھاری ، ایک عجب ادائے دلربانہ دکھا رہی تھی، راگ بسمل میں کچھ گارہی تھی۔ ایک ضعیف نا بینا ڈھول پر تھاپ دئے جاتا تھا ،بھٹیاری ساتھ دلسوزی کے دل جمعی بھی کرتی جاتی اور تھال پیتل کا سب کی اور بڑھاتی ۔ جس کو جو سمجھ میں آتا ، ہاتھ جیب میں ڈال کر دیتا جاتا۔

بھٹیارن کو جو دیکھا، چاقو چمک اٹھا، طلب عشق سے ایک بار پھر چہرہ دمک اٹھا، پھر وہی کسک اُبھری، چھپن چھری کے غم کو بھلانے کا بہانہ ہاتھ آیا، چاقو کو دف و چنگ و رُباب شادیانہ یاد آیا ۔ بھیک مانگنے کے بعد بھٹیارن اپنے باپ کا ہاتھ تھام کر اپنی راہ لگی ۔ چاقو لپک کر سامنے آیا، بھٹیارن سہمی ، نابینا گھبرایا ۔ چاقو نے کہا گھبرانے کا کوئی سبب نہیں ، یہ بندہ حاضر ہوا بے سبب نہیں ، اے باطنی نور سے منور ،میں شاعر ہوں اور ایک بے وفاکی یاد میں بے گھر ہوں ، جو تجھے نہ ہو اعتراض ، میں تجھ کو بتاؤں کہ کیا ہے اس احقر کے دل میں بات ۔؟غرض چاقو کچھ پھسپھسایا اور نابینا نے سر ہلایا۔ اچانک شہر بھر میں یہ شہرہ ہو گیا کہ چاقو عظیم آبادی بھٹیارن کے عشق میں پاگل ہے، آنکھوں میں عشق کی چھاگل ہے۔ دوستو یہ حقیقت ہے کہ چاقو بھٹیارن کے حکم پر کھڑا رہتا تھا اور روضہ ء بھٹیارن پر پڑا رہتا تھا۔ وقت گزرا تو گل کھلنے لگا،خوشبو پھیلی اور پھیلتی گئی ، آس پاس باتیں ہوئیں ، ترچھی نظروں سےگھاتیں ہوئیں ۔

غرض یہ عقدہ کھلا بھٹیارن امید سے ہے یہ مژدہ ملا۔ چنانچہ شہرکے لفنگوں نے اور منچلے ملنگوں نے جم کے  دھنائی کی ، حضرت چاقو کی خوب پٹائی کی ۔ بھٹیارن اور چاقو کو مسجد گھسیٹ کر لائے اور بعد شادی نابینا سے پیسے لے کر شکر پالے اور جلیبی کھائے ، چاقو نے خوب ہائے توبہ مچائی ، لیکن اس کی سینہ کوبی نکاح کو نہ روک پائی ۔ نکاح کے بعد چاقو چار و ناچار بھٹیارن اور اپنے نابینا سسر کو لے کر اپنے گھر پہنچا ۔ مگر وہاں پہلے سے ہی گھر کی خواتین ہاتھوں میں جھاڑو لے کر تیار تھیں ۔ چاقو کا بڑا بھائی اور والد ہاتھ میں چانپڑ لے کر چاقو کا قتل کرنے کے درپئے تھے ۔ اللہ کروٹ کروٹ جنت نصیب کرے چچا جان مرحوم تیغ عظیم آبادی کے آستانہء خاص ’’منگرا پاسی خانہ ‘‘ میں جب خبر پہنچی کہ چاقو اور بھٹیارن کی درگت اس کے گھر والے بنا رہے ہیں تو چچا جان لبھنی پھینک کر دوڑتے ہوئے جائے واردات پر پہنچے ۔ چاقو اور بھٹیارن کو قصائیوں کے چنگل سے آزاد کیا اور اپنی حویلی میں لے آئے ۔ رات آدھی اِدھر آدھی اُدھر چچاجان نے رقعہ خاص اپنے دوست کے نام لکھا اور چاقو کو مع بھٹیارن اور نابینا اس کے پاس روانہ کیا ۔ چاقو لٹا پٹا بھٹیارن اور اپنے نا بینا سسر کو ساتھ لے کر شہر ارریہ پہنچا ۔ چچا جان مرحوم کے دوست کی حویلی پہنچا ۔انہوں نے ازراہ ہمدردی انہیں اپنے یہاں نوکر رکھ لیا ۔ بھٹیارن کو گھوڑوں کی لید صاف کرنے کے کام پر مامور کیا ۔

درحقیقت بھٹیارن کا باپ ایک سیندھ مار تھا اور دن میں نابینا بن کر بیٹی کے ساتھ گھوم گھوم کر گداگری کرتا ،کوئی ایسا گھر تاڑ لیتا جہاں سیندھ مارنا آسان نظر آتا، رات میں سیندھ مارتا اور چین کی بنسی بجاتا۔ شادی کے بعد انہوں نے چاقو کو بہت سمجھایا اور فن سیندھ ماری کا ہنر سکھلایا۔چاقونے بھٹیارن کا آبائی پیشہ اختیار کیا اور دن میں ارریہ کی سڑکوں پہ نقلی پٹیاں باندھ کر کوڑھ زدہ بن کر بھیک مانگتا اور رات میں سسر کے ساتھ مل کر گھروں میں سیندھ مارتا ۔

ایک بار کا واقعہ ہے کہ چچا کے دوست کی بیوی کے گلے میں ایک قیمتی ہار تھا ۔ بھٹیارن کی نظر ان کے ہار پر بہت دنوں سے تھی ۔ ایک بار ان کے جسم کی مالش کرتے وقت بہت صفائی سے ہار اتار لیا ۔ ہاہا کار مچی، ہار کی ہر طرف ڈھنڈیا پڑی ۔ چچا کے دوست کی بیوی نے رو رو کر گھر سر پر اٹھا لیا ۔ چار و ناچار چچا کے دوست اپنی بیوی کو سنار کے پاس لے گئے تاکہ ویسا ہی نیا ہار دلوایا جا سکے ۔ سنار نے ان کے سامنے ان کا ہی ہار رکھ دیا وہ بہت حیران و پریشان ہوئے ۔ تحقیق کرنے پر پتہ چلا کہ میاں چاقو نے اس ہار کو فروخت کیا ہے ۔ جب چاقو اور اس کے خاندان سیندھ مار کا راز افشاں ہوا، ایک عالم انگشت بدنداں ہوا۔چچا کے دوست نے گردن میں ہاتھ دے کر نکال دیا۔

سیندھ ماروں کے اس ٹولے نے صبح سے شام کیا ، بالآخر شہر سے باہر غلیظ نالے کے کنارے قیام کیا ۔ٹاٹ ٹڈی ڈال کر ایک جھونپڑی بنائی اور اس میں رہنے لگے۔بھٹیارن کو نکاح کے ٹھیک چھ ماہ بعد ایک بیٹا پیدا ہوا جس کا نام اس نے ظہورا رکھا ، زبان ملفوظی میں یہ جہورا تھا ۔ ظہورا ایک نمبر کا لفنگا نکلا ، کسی استاد جیب تراش کی صحبت میں رہا اور فن جیب تراشی میں نام کمانے لگا، ساری دنیا کو اپنی انگلیوں سے نچانے لگا ۔ تاریخ گواہ ہے کہ اس نے ہزاروں نوجوانوں کو جیب  تراشی کا ہنر سکھا کر روزگار فراہم کیا ۔ ظہورا کو جس استاد نے یہ بے مثال ہنر سکھایا تھا اس کی بیٹی تھی، بہت گوری چٹی اور حسین ، اسی مناسبت سے اسکا نام انگریزی میم کی طرز پر کیلی تھا ۔ گوکہ بات تحقیق طلب ہے لیکن چرچا عام تھا کہ کیلی کی والدہ ماجدہ ایک انگریز آفیسر گراہم فل کارٹ کے بنگلے میں کام کرتی تھی، اور کیلی کی شکل و صورت گراہم فل کارٹ سے مشابہ تھی، بعض حاسدوں نے تو یہ تک کہہ دیا کہ کیلی گراہم فل کارٹ کی غیر مصدقہ اولاد ہے۔ اب حقیقت تو اللہ ہی جانتا ہے ۔ مگر رنگ روپ کو دیکھ کر لوگوں کو انگریز یاد آتا تھا ۔وہ بھی جیب کترنے کے فن میں طاق تھی اور ریلوے اسٹیشن پر جیب کترتی تھی ۔ ظہورا اس کے فن اور حسن پہ عاشق ہوا اور شادی کا عندیہ ظاہر کیا ۔ لڑکی کے باپ نے کہا کہ جو لڑکا شہرِ کوتوال جو ایک نمبر کا حرام خور تھا کی جیب کاٹ کر دکھائے گا اسی سے اپنی بیٹی بیاہے گا ۔ کئی نوجوان جیب کتروں نے کوشش کی اور جیل کی ہوا کھائی ۔ سوئمبر کی یہ شرط خوفناک تھی۔کوتوال شہر کی جیب کون کاٹ سکتا تھا۔

ظہورا کو معلوم ہواکہ شہرِ کوتوال شعر و شاعری کا دلدادہ ہے ۔ اسے ترکیب لاجواب سوجھی ، چاقو ہمراہ لیے وہ شہر کوتوال کے گھر پہنچا۔ چاقو نے اس بوسیدہ ڈائری کو بغل میں داب رکھا تھا جس میں چچا جان تیغ عظیم آبادی کی عنایت کردہ غزلیں تھیں ۔ چاقو نے بڑے دل گداز انداز میں کلام پیش کیا ، شہر کوتوال کا دل شاد اور چہرہ پرجمال ہوگیا۔ اس نے خوش ہوکر کہا کہ مانگ کیا مانگتا ہے ۔ چاقو نے کوتوال کے پیر پکڑ لیے اور عاجزی سے بولا حضور مجھے آپکا بٹوا چاہیے ۔کوتوال بڑا حیران ہوا بولا ابے میرے بٹوے کا کیا کرے گا ۔ چاقو نے ہاتھ جوڑے اور کہا بندہ پرور آپ کے بٹوے سے ہمارے فرزند ارجمند کی زندگی وابستہ ہے۔

شہر کوتوال نے دل میں سوچا کہ یہ کیا ماجرا ہے ۔ اسکا بٹوا کب سے منصف کے عہدے پر سرفراز ہوا جو موت اور حیات کا فیصلہ سناتا ہے۔ چاقو نے ظہورا کو اشارا کیا ۔ ظہورا تھانے کے باہری سائبان میں ایک کنارے اکڑوں بیٹھا باپ کے اشارے کا منتظر تھا ۔ اشارہ ملتے ہی دوڑ کر آیا اور تھانے دار کے قدموں میں گر کر آہ  و بکا کرنے لگا ۔ چاقو نے بھی ہچکیاں لینی شروع کر دیں۔ دونوں نے روتے ہوئے داستان الم سنائی ۔ بتایا کہ ظہورا کو ایک لڑکی سے عشق ہو گیا ہے ۔ وہ نہ ملی تو جان دینے کی قسمیں کھاتا ہے ۔ لڑکی کا باپ سبزی فروش ہے اور گھوم گھوم کر سبزیاں فروخت کرتا ہے ۔ ایک بار تھانے میں تھانے دار نے اس سے سبزی خریدی اور اپنے عجوبہء روزگار ، نعمت بے بدل بٹوے سے چونی نکال کر دی تھی ۔ تب سے اس سبزی فروش کے دل میں بٹوا پیوست ہے اور اس نے ظہورا کے آگے شرط رکھ دی ہے کہ اگر وہ بٹوہ ، نعمت بے بدل اس کو لاکر دے دے تو وہ بلا تکلف اپنی دختر ، سامانِ محشر کا بیاہ ظہورا سے کردے گا۔ اب انہیں انعام میں تھانے دار اگر بٹوا عطا کر دے تو ان پر احسان عظیم ہوگا ۔ تھانے دار نے اپنے جیب سے پرانا اور گھسا ہوا بٹوا نکالا اور بہت حیرت سے بٹوے کو الٹ پلٹ کر دیکھا کہ اس بٹوے میں ایسی کون سی خوبی ہے جو سبزی فروش کو پسند آ گئی ہے ۔ اس نے چاقو اور ظہورا سے کہا کہ وہ انہیں اپنا بٹوا دے سکتا ہے مگر اسکی شرط یہ ہے کہ اس سامانِ محشر کی محشر سامانیوں کا سامنا پہلے وہ خود کرے گابعد اس کے ظہورا عرف جمہورا عرف جہورا غرفہ ء عروس میں داخل ہوگا۔ چاروناچارمرتا کیانہ کرتا، ظہورا دورِ جدید کا لبرل بن گیا، چاقو سے کہا سوچنا کیا ہے ، عشق آفاقی ہے ، جسم فانی ، شرط ہمیں منظور ہے۔ تھانے دار نے اپنا بٹوا خالی کیا اور انکے ہاتھوں میں تھما دیا ۔

جیب کتروں میں یہ بات جنگل کیِ آگ کی طرح پھیل گئی کہ ظہورا تھانے دار کی جیب کاٹنے میں کامیاب ہو گیا ۔ خیر قصہ مختصر کہ ظہورا کی شادی شہر کے تمام جیب کتروں کی موجودگی میں دھوم دھام سے ہوئی اور ظہورا اپنی گوری چٹی حسین جیب کترن کو بیاہ کر گھر لے آیا ۔ گھر پہنچا تو دیکھا کہ تھانے دار کی فٹن پہلے سے ہی دروازے ایستادہ ہے ۔ظہورا خاموشی سے سر جھکائے اپنی دلہن کو لے کر فٹن میں بیٹھ گیا۔ ۔صبح جب وہ نہا دھو کر تھانے پہنچا تو دیکھا بیوی بہت خوش ہے ۔ اور تھانے دار کو بار بار ایک چتون خاص سے مسکرا کر دیکھ رہی ہے ۔ تھانے دار کرسی پر بیٹھ کر مونچھوں پر تاؤ دے رہا ہے ۔ جب وہ دونوں گھر پہنچے تو اس نے ظہورا کے سامنے نوٹوں سے بھرا ایک نیا بٹوا نکال کر رکھ دیا ۔ بولی تم نے تو تھانے دار کا پرانا اور خالی بٹوا مارا تھا یہ دیکھو میں نے نوٹوں سے بھرا بٹوا پار کیا ہے ۔ ظہورا نے وفور مسرت سے اس جیب کتری بلا کو گلے سے لگالیا۔

غرض یہ کہ دونوں مل کر اپنے کاروبار کو بہت کامیابی سے چلانے لگے ۔ ان کے جیب کترنے کا طریقہ بھی نایاب تھا ۔ کیلی کیل کانٹے سے لیس ہوکر کسی کھچاکھچ بھری ہوئی بس میں یا ٹرین میں سوار ہو جاتی ۔ ظہورا بھی ساتھ ساتھ ہوتا ۔ وہ دونوں کسی متمول مسافر کو تاڑ لیتے اور کیلی جاکر اس مسافر کے سینے سے سٹے سینہ ملاتی ، جیسے کہ بھیڑ نے دباؤ ڈالا ہے ۔مسافر بے چارہ کیلی کے حسن اور لمسِ خاردار سے بے حال ہو جاتا ،اسی درمیان ظہورا اسکی جیب کا صفایا کرتا اور وہ دونوں بس سے اتر جاتے ۔ کوتوال شہر کو جب بھی کیلی کی ضرورت محسوس ہوتی وہ ظہورا کو جیب کترنے کے جرم میں تھانے میں بند کر دیتا ۔ کیلی رات بھر رشوت دے کر ظہورا کو با عزت رہا کروا لیتی ۔ساتھ ہی تھانے دار کا بٹوا بھی مار لاتی ۔حقیقت یہ ہے کہ بٹوہ وہ نہیں مارتی بلکہ کوتوال خود مروا لیا کرتا۔

شادی کوکئی برس بیت گئے مگر ان کے سنسان گھر نے اولاد کی صورت نہ دیکھی ، نہ قلقاریاں سنیں ۔ ظہورا اور کیلی بہت غم زدہ رہنے لگے ۔ چاقو کو دادا جان نیزہ عظیم آبادی کی یاد آئی ۔ اسے یاد آیا کہ کئی بانجھ عورتوں کی گود دادا جان کی دعا کی بدولت ہری ہوئی ۔وہ ظہورا اور بہو کو لے کر دادا جان کے آستانہ پر حاضر ہوا ۔ جنت مکانی دادا جان بیحد ضعیف ہو چکے تھے اور صاحب فراش تھے ۔ انہوں نے چاقو کے بیٹے اور بہو کو دیکھا اور کہا کہ وہ ایک شرط پر دعا کریں گے کہ وہ لوگ اپنی اولاد کو چور اُچکا نہیں بنائیں گے ۔ تعلیم کے زیور سے آراستہ کرکے اچھا شہری بنائیں گے ۔ چاقو ظہورا اور کیلی نے وعدہ کیا ۔ دادا جان نے لیٹے لیٹے دو رکعت نماز حاجت ادا کی اور خدا سے گڑگڑا کر کیلی کی گود ہری ہونے کی دعا مانگی ۔ پھر اپنے حقے کی انگیٹھی کی راکھ کیلی کو دی کہ اسے چاٹ جا انشااللہ نو مہینے بعد تمہارے یہاں ایک چراغ روشن ہوگا۔جس طرح چراغ کی لو منور ہوتی ہے اور لو کے نیچے تاریکی ٹھیک ایسا ہی حال اس نونہال کا ہوگا۔ پھر افسردہ ہو گئے ۔ بولے اس بچے میں میں تمام تر خاندانی صفات ہونگی ۔ مگر میری دعا کی بدولت پڑھ لکھ کر عہدہ حاصل کرے گا ۔ اور زمانہ اسکی عزت کرے گا ۔ مگر مجھے شک ہے کہ عمر کے آخری دور میں اپنی بد فطرت کی بدولت ذلیل و خوار ہوگا ۔

خدا کے فضل اورجنت مکانی دادا جان نیزہ عظیم آبادی کی دعا کی بدولت نو مہینے بعد کیلی کی گود ہری ہوئی ۔ گورے چٹے بچے کو دیکھ کر کیلی کے منہ سے نکلا یہ تو نور کا مجسمہ ہے اس نے فیصلہ کیا کہ اس بچے کا نام وہ اپنے سسر نورا قصائی  عرف چاقو عظیم آبادی کے نام کی مناسبت سے نوری رکھے گی ۔ ظہورا  نے کہا کہ اسے عرصے سے باپ بننے کا اشتیاق تھا اس لئے اس مناسبت سے اس کا نام اشتیاق ہوگا ۔ بھٹیارن کیوں پیچھے رہتی ،وہ بولی نہیں ،اس کا نام احمد رہے گا ۔ مجھے احمد نام پسند ہے اور میں نے یہ تہیہ کر رکھا تھاکہ پوتا ہوگا تو اسکا نام احمد رکھوں گی ۔

دوستوں کیا حال سناؤں ان تینوں کے درمیان نومولود کے انتخاب اسم کو لے کر وہ جنگ ہوئی کہ توبہ ہی بھلی۔ ان کے جنگ و جدل سے چاقو پریشان ہوا اور اس نے اعلان کیا کہ اس بچے کے نام میں یہ تینوں لفظ شامل رہیں گے یعنی اشتیاق احمد نوری ۔ (جاری)

Advertisements

julia rana solicitors london

ذیل میں فن ِ سائل گری کی کرشمہ سازی کا مظاہرہ کرتےچاقو عظیم آبادی اور اسکے سسر کی ایک یادگار تصویر




بشکریہ

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/