منتخب نظمیں

بچھڑنے کے کئی سال بعد اُنہیں خیال آیا کہ اب بھی کو…

بچھڑنے کے کئی سال بعد اُنہیں خیال آیا کہ اب بھی کوئی چیز ایسی ہے جس نے اُن دونوں کو باندھا ہوا ہے۔۔

حالانکہ اُنہوں نے علیحدگی اختیار کرتے وقت ایک دوسرے کی ہر چیز لوٹا دی تھی۔۔
یہاں تک کہ مردانہ گھڑی اور زنانہ عینک اب اپنے صحیح مقام پر نہیں رہیں تھیں۔۔
اُنہیں اپنے فیصلے پہ کوئی پچھتاوا تھا؟
یہ بات وثوق سے نہیں کہی جاسکتی۔۔

شاید اُن دونوں نے کبھی

اُس بارے میں سوچا ہی نہیں تھا۔ آخری فیصلہ تو سوچ سمجھ کے ہی کیا تھا ناں۔۔ پھر اُس کے بعد تو سوچنے کی کوئی ضرورت بھی نہیں رہ جاتی۔۔

تمام فیصلے سوچ کر ہی کیے جاتے ہیں۔۔ پھر بھی تمام فیصلے ٹھیک ثابت نہیں ہوتے۔۔
اس کا مطلب ہے کوئی بھی فیصلہ کرنے کے لیے سوچنا ضروری نہیں ہوتا۔۔ فیصلہ تو خود ہی غلط یا صحیح ہو جاتا ہے۔۔

ایسی کون سی چیز تھی جو اب بھی اُن کی مشترکہ تھی ؟
جس کا بٹوارا ضروری تھا۔
دونوں نے سوچا۔۔

آخر لڑکی نے اُس چیز کا سراغ لگا لیا۔۔

” تم میرے تمام لفظ واپس کر دو اور میرے پاس تمہارے جو لفظ پڑے ہیں اُنہیں مجھ سے لے لو۔۔!!”

••
کتاب: اکیلے لوگوں کا ہجوم
مصنف: ساحر شفیق
افسانہ: وہ لفظ جو چیونٹیاں گھسیٹ رہی تھیں
انتخاب و ٹائپنگ: احمد بلال

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/