افسانے

بنی ٹھنی غزلوں کے جلو میں/ڈاکٹر ستیہ پال آنند -مکالمہ

کم مایہ، مسکین، چیتھڑوں میں لپٹی
وہ نظم فقط دس بارہ سطروں کی حامل تھی
جب آئی غزلوں کی محفل میں تو جیسے جھجک گئی۔ پھر
ڈرتی ڈرتی بیٹھ گئی اور دائیں بائیں
دُزدیدہ نظروں سے دیکھا

سجی دھجی تھیں، بنی ٹھنی تھیں غزلیں ساری
آرائش میں ہر مصرع کندن سا چمکتا
زیبائش میں لفظوں کی گل بافت، جلا کاری، زر بفتی
کرو فر، افسوں۔۔۔رعنائی، زیبائی
آرائش، تن سازی ۔۔۔غزلوں کے زیور تھے

FaceLore Pakistan Social Media Site
پاکستان کی بہترین سوشل میڈیا سائٹ: فیس لور www.facelore.com

نظم بھی گو بد زیب نہیں تھی
اپنے انیلا پن میں، لیکن
سادہ دل، بھولی بھالی، بے ریب و ریا تھی
لیکن ساتھ ہی
دیدہ ور تھی با تمیز تھی، با شعور تھی

Advertisements

julia rana solicitors london

عیاری،حکمت عملی،لفـاضی تھا غزلوں کا خاصہ
بھولا پن، معصومیت ہی تھے نظم کے زیور
لیکن ایک اکیلی تھی وہ
کچھ گھڑیاں تو ایک اکیلی بیٹھی رہی، وہ
پھرچپ چاپ اٹھی
دھیرے سے
الٹے پاؤں چلتی دروازے سے باہر لوٹ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1991 میں تحریر کردہ ایک نظم جو پرانے کاغذات میں سے برآمد ہوئی




بشکریہ

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/