افسانے

جھیل۔۔ڈاکٹر ستیہ پال آنند – مکالمہمکالمہ


جھیل ہے
پانی ہے
پتے تیرتے ہیں
عکس مٹ مَیلے ہیں پتوں کے
کہ جو پانی میں جھُک کر
اپنے چہرے دیکھتے ہیں
دور مشر ق میں شفق پھولی ہوئی ہے
اور اس کا جھلملاتا
عکس مَٹ مَیلا نہیں ہے۔

صبحدم جب
آنکھ کھلتی ہے تو اس کو
دیکھتا ہوں
جھیل کی لہروں کی ہلکی
چاپ سُنتا ہوں کہ جیسے
کوئی ساکن جھیل کی تہہ میں اتر کر
چل رہا ہو
بات کرتا ہوں
درختوں سے، جو جھک کر
آئینے میں
اپنے چہرے دیکھتے ہیں
سرسراتے ہیں خوشی سے
اور شفق کی
پھولتی سرخی سے اکثر
پوچھ لیتا ہوں
“تمہارا رنگ اتنا سرخ کیوں ہے؟”

tripako tours pakistan

یہ مرا معمول سا ہے
اٹھ نہیں سکتا کہ بستر وارڈ میں ہے
اور مرے پاؤں پلستر
میں بندھے ہیں

جھیل تو دیوار پر ہے
-1999۔۔۔۔

Advertisements

merkit.pk

(کار حادثے میں ٹانگ ٹوٹنے کے بعد  ہسپتال میں لکھی گئی نظم)




بشکریہ

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/