کالم

کردار کے بغیر سب بیکار

نعیم ثاقب
شام چھے بجے ماڈل ٹاؤن پی بلاک کی مسجد میں دیرینہ رفیق عظمان نبی کی مرحومہ والدہ کے لیے اجتماعی دعا کا اہتمام تھا- دعا کے بعد ہم گھر کے لان میں بیٹھ گئے۔چائے کے دوران عظمان نے باتوں باتوں میں بتایا کہ امی کا جنازہ میرے کزن نے پڑھایا ہے۔نمازی اور بڑا شریف الّنفس آدمی ہے۔ ساتھ بیٹھے جٹ صاحب جو پیشے کے اعتبار سے وکیل ہیں بولے! نمازی اور نیک ہونا بہت اچھی بات ہے،نماز پانچ وقت اورانسانوں سے معاملات، اخلاقیات 24گھنٹے فرض ہیں،ان میں کیسے ہیں؟- عظمان نے جواب دیا ان میں بھی بہت اچھے ہیں، حقوق العباد کا بہت خیال رکھتے ہیں اور اعلیٰ اخلاق کے مالک ہیں۔ میرے لیے شاید یہ پہلا موقع تھا کہ کسی نے معاملات اور اخلاقیات کے بارے میں سوال کیا ہو۔
اس کے بعد ہماری گفتگو کا موضوع کردار، معاملات اور حُسنِ اخلاق کی اہمیت تھا اور اس سلسلے میں سب سے بنیادی بات یہ ہے کہ قرآنِ پاک نے معاشی، سیاسی، سماجی، اجتماعی اور انفرادی عروج و زوال کااصل سبب بھی انہی چیزوں کو قرار دیا ہے۔ انسان کا اخلاق اور کردار اس کی کامیابی یا ناکامی میں فیصلہ کن عنصر کی اہمیت رکھتا ہے۔
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سچا اور امین تاجر قیامت کے روز انبیاء، صدیقین اور شہداء کے ساتھ ہوگا۔
(مرقاہ المفاتیح 6/53)
حضرت داؤد علیہ الّسلام، حضرت سلیمان علیہ الّسلام اور حضرت یوسف علیہ الّسلام نے جن اصولوں کو اپنایا، ان کے نتیجے میں تجارت، کاشت کاری،صنعتی ترقی، لوہے اور فولاد سے تیار کردہ ہتھیار وغیرہ اورغلے کی پیداوار میں فراوانی اور دولت میں کثرت پیدا ہوئی۔ دوسری طرف حضرت شعیب علیہ الّسلام کی قوم نے ناپ تول میں کمی کی، وعدوں کو پورا نہیں کیا،اور حضرت لوط علیہ الّسلام کی قوم نے اپنے خاندانی اخلاق کو ایک ایسے عمل سے تباہ کر دیا جس کا ارتکاب اس سے پہلے کسی انسان نے نہیں کیا تھا، تو اللہ کا غضب اور قہر ان پر نازل ہوا۔
مغرب نے اسلام کے ان زریں اصولوں کو ethics, Morality اور character کے نام پر اپنا کر ترقی کی ہے۔ اس کی بڑی مثال حالیہ دنوں میں نشرہونے والی ایک خبر ہے، جس کے مطابق برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک نے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ برطانوی وزیر صحت میٹ ہینکاک اور ان کی معاون گینا کولاڈ اینجلو کی ایک دوسرے سے بوسہ لینے کی ویڈیو اور تصاویر وائرل ہوگئیں تھیں۔ جس کے بعد وزیر صحت سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جارہا تھا۔کہ وزیر صحت ہونے کے باوجود انہوں نے کرونا ایس او پیزکا خیال نہیں رکھا۔اس کے علاوہ ایسی ہی ایک خبر بل کلنٹن کے بارے میں تھی۔امریکی صدر بل کلنٹن کا ایک سکینڈل مونیکا لیونسکی کے ساتھ منظر عام پر آیا۔بل کلنٹن نے اس سکینڈل کو ماننے سے انکار کر دیا لیکن بعد میں ناقابل تردید ثبوت کو دیکھ کر بل کلنٹن کو ماننا پڑا کہ مونیکا اور اس کا سکینڈل جھوٹ نہیں سچ ہے۔اسی جھوٹ کو امریکی عوام نے بل کلنٹن کا سب سے بڑا گناہ سمجھا اور ان کے خلاف معاملہ مواخذے تک جا پہنچا۔دنیا کے طاقت ور حکمران کو اس کی قوم نے مجبور کر دیا، ٹی وی پر آ کر بل کلنٹن نے قوم سے معافی مانگی اور اس معافی کے ساتھ ہی کلنٹن کی سیاست امریکہ کے اخلاقی معیار میں دفن ہوگئی۔
تیسرا واقعہ ”یاہو“ کے سی ای او اسکاٹ تھامسن کا ہے اسے 2021ء کے شروع میں یاہو کی ڈوبتی ہوئی کمپنی کو بچانے کے لئے لایا گیا تھا۔ تھامسن نے اپنی تعلیم اکاونٹنگ اور کیمپوٹر سائنس میں ڈگری بتائی بعد میں کمپنی کے شئیر ہولڈرز نے شکایت کی کہ تھامسن کے پاس صرف اکاؤنٹنگ کی ڈگری ہے اور کمپیوٹر سائنس کی ڈگری نہیں صرف تجربہ ہے تھامسن کو اپنا جھوٹ تسلیم کرتے ہوئے بطور سی ای او استعفیٰ دینا پڑا۔
بڑے ادارے ذہانت اور تجربے کے ساتھ کردار کو بہت اہمیت دیتے ہیں۔ مارٹن لوتھر کنگ، جونیئر کا کہنا ہے، “ذہانت جمع کریکٹر – یہی حقیقی تعلیم ہے۔” آپ کی ڈگری صرف ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، علم شیطان کے پاس بھی بہت تھا لیکن کردار نہیں تھا جسکی وجہ سے وہ ملعون ٹھہرا۔
وارن بفیٹ کاکہنا ہے، “لوگوں کی خدمات حاصل کرتے وقت تین خصوصیات کو مد نظر رکھیں: کردار، ذہانت اور توانائی۔ اور اگر ان میں پہلی خوبی نہیں تو باقی دو فائدے کی بجائے نقصان پہنچائیں گی۔کیونکہ اگر کردار نہیں ہے تو ذہانت مثبت کاموں کی بجائے منفی سرگرمیوں کے لیے استعمال ہو گی۔
زندگی میں کامیابی کے لئے اچھا کردار بہت اہمیت کاْحامل ہے۔ انسان کا کردار اس کے اہداف کا تعین کرتا ہے۔ بڑے عزائم کی تکمیل کے لیے کوشاں شخص اپنی لگن، ایمانداری اور مثبت رویے سے لوگوں کے دلوں میں گھر کر کے کامیابی حاصل کر لیتا ہے، مگر ناکام شخص چھوٹی غلطیوں اور منفی سوچ میں الجھا رہتا ہے۔
جیسا کہ حضرت علیؓ نے فرمایا ہے ”ہمیشہ اپنی چھوٹی چھوٹی غلطیوں سے بچنے اور ان سے سیکھنے کی کوشش کرو کیونکہ انسان پہاڑوں سے نہیں چھوٹے چھوٹے پتھروں سے ٹھوکریں کھاتا ہے“
باکردار آدمی ایک مطمئن انسان ہوتا ہے جس سے دوسرے لوگ بہت جلد متاثر ہو جاتے ہیں۔
“۱چھا کردار وہ چراغ ہے جو انسان کے اپنے لیے بھی روشنی ہے اور اپنے ارد گرد لوگوں کے لیے بھی ایک نور ہے“
(کالم نگارقومی وسیاسی امورپرلکھتے ہیں)
٭……٭……٭



بشکریہ

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/