کالم

ہم کون ہیں؟ حصہ 3-4 – حسین نصر/ سہیل عمر

اعمال و اذکار

بدیہی چیز ہے کہ ہمارا راستہ طریقِ ذکر ہے، ذکر ِخداوندی، ذکر اللہ، اور یہ طریقِ ذکر عالمگیر ہے، نہ صرف سارے مستند صوفی سلاسل میں بلکہ دنیا کے سارے سابقہ مذاہب کے داخلی طریقوں میں۔ نیز انسانی تاریخ کے جس دور میں ہم زندگی بسر کر رہے ہیں اس کے لیے یہ طریقِ ذکر موزوں ترین ہے۔ اللہ کی رحمت ہے کہ اس نے ہمیں اپنا مبارک نا م لینے، اس کا ذکر کرنے کی سعادت عطاکی ہے کہ اسم اور موسوم میں حضوری کا ایک سچا ربط و تعلق ہوتا ہے۔ ہمارے اعمال و اذکار کا مرکز، اس کا دل، ذکر اللہ ہے۔

ہمارے دادا شیخ احمد العلوی نے ذکر ِاسم ِذات پر ایک کتاب لکھی تھی۔ آپ نے بھی پڑھ رکھی ہوگی۔ ایسی کتب کو گاہ گاہ مطالعے کا جزو بنانا ہمیشہ مفید ہوتا ہے کہ اس سے ہمیں ذکر کی اہمیت اور معنویت کا پوری طرح ادراک میسر آتا ہے، ایک اسم (اللہ) کو آہنگِ نَفَس کے ذریعے آواز کا روپ دنیا بظاہر تو صرف اتنا ہی ہے کہ ہم نے اللہ کا لفظ اپنی زبان سے ادا کردیا لیکن دراصل یہ ایک ربانی حقیقت ہے جس میں حضورِ خداوندی سمایا ہوا ہے۔ خارجی طور پر تو اسمِ ذات آواز کی چند لہروں پر مشتمل ہے جو ہمارے حلق سے صادر ہو رہی ہیں لیکن در حقیقت صرف اتنا ہی نہیں ہے۔ یہ ایک حضورِ قدسی ہے جو خدا کی طرف سے وارد ہوتا ہے اور چونکہ اللہ وہ اسم ہے جو اسلام میں ذاتِ خدا وندی نے اپنے لیے اختیار فرمایا ہے اس لیے جب ہم اللہ کو پکارتے ہیں تو وہ سنتا ہے۔

انسانی سطح پر دیکھیے تو یوں ہوگا کہ میرے والدین نے مجھے حسین نصر کا نام دیا۔ جب کوئی بھی شخص ’’حسین‘‘ کہ کر پکارتا ہے تو میں اس کی طرف متوجہ ہوتا ہوں، اگر میں اس کے قریب ہوں اور اس کی آواز سن رہا ہوں۔ اگر وہ شخص دور ہو تو اس کی ندا مجھ تک نہیں پہنچتی کہ میں ایک عام انسان ہوں اور میری سماعت کی کچھ حدود ہیں۔ خدا تمام حدود و قیود سے آزاد ہے۔ صفاتِ خداوندی میں انسانی صفات کی ساری اساسی حقیقت موجود ہے لیکن نقصِ انسانی اور انسانی محدودات سے منزہ ہیں۔ اگر آپ انسانی سماعت کے عمل کو سامنے رکھیے اور اس کی ساری نارسائیاں اور کمزوریاں منہا کر دیجیے یعنی سننے کے لیے کان کا ہونا اور اس کی صحیح کارگردگی، آواز کی لہروں کا وجود، مناسب فاصلہ وغیرہ تو یہ سمعِ الٰہی ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کے سمع و بصر پر ایسی کوئی قید اور شرط نہیں جو انسانی سماعت و بصارت کے لیے لازم ہے۔ جب کہ امر ِسماعت ثابت ہے۔ اصل میں کہیے تو مابعدالطبیعاتی اعتبار سے ہم میں سماعت ہے ہی اس لیے کہ اللہ تعالیٰ السمیع ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ نے اللہ کا لفظ اپنی ذات کے لیے مقرر فرمایا ہے اس لیے جب کبھی کوئی اس نام سے پکارتا ہے تو خدا اسے سنتا ہے۔ ہمارے جملہ اعمال و اذکار کا آغاز اسی یقین پر استوار ہے۔

اگر آپ کو یوں لگے گا کہ اللہ تعالیٰ تو ہماری پکار کا جواب نہیں دینا چاہتے تو یہ ا س کی حکمت ہے جس کا علم بندے کو نہیں ہو سکتا۔ مزید براں افلاک سے جواب کسی وقت دیر سے بھی آتا ہے اور ہمیں اس کا ادراک ہی نہیں ہوتا۔ عمیق ترین سطح پر ذکر کا جواب خود ذکرکے اندر ہے!مثنوی مولانا رو م میں یک تہ دار اور پُر معنی حکایت ہے:ایک شخص ہر وقت اللہ اللہ کیا کرتا تھا۔ کچھ عرصے بعدشیطان نے اسے یہ کہ کر ورغلایا کہ ’’تم ہر دم یہ کیا اللہ اللہ کیا کرتے ہو جبکہ اللہ نے آج تک کبھی اس کا جواب نہیں دیا‘‘۔ اس شخص نے بہکاوے میں آکر ذکر کرنا بند کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے فوراًجبرئیل علیہ السلام سےفرمایا: ’’ ہمارے ایک خاص بندے نے ہمارا نام لینا بند کر دیا ہے۔ جا کر دیکھ کو کہ اسے کیا ہوا ہے‘‘۔ جبرئیل تشریف لائے تو اس شخص نے اپنا ماجرا بیا ن کیا۔ حضرت جبرئیل نے لوٹ کر بارگاہ خداوندی میں عرض کیا کہ ’’وہ اس لیے ذکر نہیں کر رہا کہ شیطان اسے یہ کہ کر بہکا دیا ہے‘‘۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اسے جا کر بتادو کہ اس کے ہر’’اللہ‘‘ کے بعد میری ’’لبیک‘‘ ہے۔

اسم ذات اللہ کے عملِ ذکر ہی میں اس کا ربانی جواب مضمر ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ یہ جواب آسمانی شگافی یا زمین ہلا دینے کی صورت میں ہو اگرچہ بسا اوقات یہ غیر معمولی صورتحال بھی رونما ہو جاتی ہے۔ عملِ ذکر خود ایک فعلِ ربانی ہے۔ آخرالامر یہ فعلِ خداوندی ہے جو ہمارے اندر واقع ہو رہا ہے اور جس میں ہم شریک ہو رہے ہیں۔ ہماری کیا بساط کہ اللہ کے نام کا ذکر کریں۔ یہ تو یزدانی اذن ہے جس کے تحت ہم کو ایک آلۂ جارحہ کے طور پر ذکر کی اجازت ملتی ہے۔ عرفانی زاویے سے دیکھیے تو جب ہم ذکر کرتے ہیں تو خدا اپنے نام کاذکر خود ہمارے اندر کرتا ہے۔ اسی لیے ذکرِ اسم ِذات ہمارے لیے سارے روحانی اعمال کا آغاز و انجام، ابتداء و منتہا سبھی کچھ ہے۔ اور ان شاء اللہ ہم ایک ایسے نقطے پر پہنچ جائیں گے جہاں ہمارے بدن کا ہر خلیہ ہمارے مرکزِ شعور تک سے آزاد ہو کر اللہ اللہ کہے گا۔

ہمارے وجود کا ہر گوشہ اسمِ ذات کے یکسو مرتکز ذکر کے ارتعاش (قرآن کے الفاظ میں اقشعرار)سے بہرہ اندوز ہوتا ہے لیکن ہم انسان ہیں اسی لیے ذکرِ اسم ِذات اللہ کچھ احوال و شرائط کے تحت وقوع پذیر ہوتا ہے۔ ان میں اولیّت قواعدِ شریعت کو حاصل ہے۔ ہمیں اسلام کی قانونی جہت کی پابندی کرنا لازم ہے۔ نماز پنجگانہ کی ادائی، رمضان کے روزے (اگر شرعی عذر نہ ہو تو)، محتاجوں ضرورتمندوں کے لیے زکوٰۃ و انفاق، غرض ارکانِ اسلام کے تمام پہلو مل کر ان جملہ شرائط اور چہارچوب ِ شریعت کی تشکیل کرتے ہیں جن کی تکمیل لازمہ ہے نفسِ انسانی کو اس حیثیت میں لانے کے لیے جہاں وہ اللہ تعالیٰ کے اسم ِاعظم کو دل وجان سے بطور ذکر اختیار کر سکے۔ شریعت پر چلنے والے ہرشخص پر اللہ کی طرف سے اس کے ذکر کی نعمت ارزانی نہیں ہوتی لیکن شرعی قانون نیز کچھ اخلاقی اورذہنی عقلی شرائط ایسی ہیں جو اس امرِ عظیم، ذکرِ خداوندی، کو انجام دینے کے لیے مقدمۂ لازم کی حیثیت رکھتی ہیں۔

اس سے آگے بڑھ کر وہ معمولات ہیں جو ہمارے طریقے سے خاص ہیں۔ ان میں پہلی چیز صبح و شام کا ورد ہے جو استغفار، درود اور شہادۃ پر مشتمل ہے۔ سیدہ مریم علیہ السلام کی ایک منقبت بھی گاہ گاہ پڑھی جاتی ہے۔ کیونکہ ان کی اس طریقے پر خاص عنایت رہی ہے اور اس کے نتیجے میں بہت سی برکات حاصل ہوئی ہیں جو ان سب افراد کو محسوس ہوتی ہیں جو ان کا احساس کرنے کے قابل ہیں۔ درود کے برعکس منقبت پڑھنا البتہ ضروری نہیں ہے۔ ان کے علاوہ مختلف اسمائے الٰہیہ کے مختصر اوراد ہیں مثلایا رحمان یا رحیم، یا لطیف اور دیگر چیز اذکار جو ہم مختلف مواقع پر پڑھ لیتے ہیں۔

بہت سے سلاسلِ تصوف ایسے ہیں جو اسمائے الٰہیہ سے ترتیب دئیے گئے مختلف اوراد اور مناجات وغیرہ کی ایک طویل فہرست کی پابندی کا تقاضا کرتے ہیں لیکن شاذلیہ سلسلہ قدرے جدا ہے۔ صرف ہماری شاخ ہی میں نہیں بلکہ شاذلیہ سلسلے کی اکثرشاخوں میں جن کا سلسلۂ نسب، بانی سلسلہ، شیخ ابوالحسن شاذلی تک جاتا ہے، اسم ِذات اللہ اور لا الە الا اللە کے ذکر کو مرکز یت دی جاتی ہے، اسی پر زور دیا جاتا ہے۔ یہی ہمارے سب سے بڑے صیغہ ہائے ذکر ہیں اور ہم اللہ کے لفظ سے پہلے یائے ندا استعمال نہیں کرتے یعنی’’ یااللہ‘‘کا ذکر نہیں کرتے۔ ہمارے ہاں ذکر حرفِ ندا کے بغیر ہوتا ہے اگرچہ ’’یا رحمن و یا رحیم‘‘ کے ورد میں یا استعمال ہوتا ہے اور یہ پکار مشکل اور آزمائش میں استعمال ہوتی ہے۔ اسمِ اعظم سے پہلے کے ’’ یا‘‘کو شیخ احمد العلوی رح نے صیغہ ہائے ذکر سے حذف کر دیا تھا اور اس کا سبب یہ بیان کیا تھا کہ ’’یا اللہ‘‘ میں ایک ثنویت پہلے سے مضمر ہوتی ہے اور دریں صورت ذکر اپنے علو اور کمال کو نہیں پہنچتا۔ ’’یا اللہ‘‘ کا ذکر جب بھی ہوگا اس میں ایک چیز پوشیدہ ہوگی کہ ایک پکارنے والا ہے جو کسی دوسرے کو پکار رہا ہے لیکن جب ذکر کے لیے صرف صیغۂ اسم ِذات، اللە استعمال کیا جاتا ہے تو ذاکر اس ثنویت سے بالآخر اوپراٹھ جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اپنے یومیہ اوقاتِ ذکر میں شیخ العلوی کی ہدایت کے مطابق ’’ یا‘‘ کا ندائیہ استعمال نہیں کرتے۔ اس کی استثنائی صورت وہ ہے جس میں ہمیں اللہ تعالیٰ کے اسمائے جمالیہ یا اسمائے رحمت کسی خاص موقع پر، کسی مشکل کے وقت میں، کسی مسئلے کے حل کے لیے، خوف و خطر کے مواقع پر رحمت خداوندی کو متوجہ کرنے کے لیے، بطور صیغۂ ذکر بر تنے ضروری ہوتے ہیں اور ہم اسے یا رحمن، یا کریم، یا غفار وغیرہ پکارتے ہیں۔

فقراء کو اگر کسی سنگین مسئلے کا سامنا ہو، جیسے شدتِ مرض، موت کا اندیشہ، کوئی بڑا خطرہ تو ایسی صورت میں انھیں یا لطیف کا ورد کرنے کی اجازت دی جاتی ہے۔ جو ۱۲۹، ۵۰۰یا ۱۰۰۰مرتبہ ہو سکتا ہے۔ ۱۰۰۰مرتبہ صرف شدید بحرانی اور خطرناک صورتحال میں پڑھنا چاہیے۔ اگر کوئی بہت زیادہ بیمار ہو تو میں فقراء کو ۱۲۹مرتبہ پڑھنے کی تلقین کرتا ہوں۔ فقراء خود سے بھی یہ ورد کر سکتے ہیں تاہم عددِ ذکر کا تعین کسی عہدے دار کو کرنا چاہیے۔ اور بھی دعائیں ہیں جو ان مواقع یا ان اوقات میں پڑھی جاتی ہیں جن میں فقراء یہ محسوس کریں کہ شیطانی یا نحس اثرات ان کا نرغا کررہے ہیں۔ ایسی کوئی صورت پیدا ہو تو حسبی اللە و نعم الوکیل کے ورد کی بھی اجازت ہے لیکن میں اس ذکر کو سوائے بہت ہی سنگین حالات کے تلقین نہیں کرتا کہ اس سے شیطان اس شخص کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جس نے یہ ذکر استعمال کیا ہو۔ حسبنا اللە ونعم الوکیل شیطانی حملوں کے خلاف ایک بہت طاقتور دفاعی ذکر ہے اور اسے ہلکا جان کر یونہی استعمال نہ کرنا چاہیے۔

صوفیاکی اصطلاح میں اسم ذات اللە، اس کے دیگر ذکر دیگر تمام اسمائے الٰہیہ کا جامع ہے اور ہمارے لیے اللە کا ذکر دیگر تمام اذکار کا عطر، جو ہر اور خلاصہ ہے۔ جیسا کہ میں نے پہلے عرض کیا، ہم اللە کے پہلے حرف کو لیے ہوئے پیدا ہوتے ہیں اور اس کے آخری حرف میں اس دنیا سے رخصت ہوتے ہیں۔

یہ متفرق اذکار مرکزی اہمیت کے حامل نہیں ہیں۔ فقراء کو اس حقیقت کا شعور ہونا چاہیے کہ ذاتِ خداوندی کا اسمِ اعظم خود ہمارا تحفظ، پناہ اور جائے امان ہے اور یہ بھی کہ اسم ِذات دیگر تمام اسماء کا جامع ہے۔ بنا بریں یہ ہر گز ضروری نہیں کہ فقراء اورذاکرین ہر آن دوسرے اذکار و اوراد کی جانب تکتے رہیں۔ اکثر ہم سے یہ سوال ہوتا ہے کہ دوسرے سلاسل کی طرح آپ مختلف اذکار، متعدد اسمائے الٰہیہ اور کثرتِ اوراد کی تلقین کیوں نہیں کرتے! اس کا جواب یہ ہے کہ ہمارے لیے یہ ضروری نہیں ہے کیونکہ ذکرِ اسم ِذات کا مرتکز اور جوہری، اساسی معموِل ذکر ہر شے کو محیط ہے کہ اس میں دیگر اسمائے لٰہیہ کا ذکر ا زخود مضمر ہے۔

ہمارا مطلوب و مقصود فقط اس قدر نہیں ہے کہ اسمِ ذات کا ذکر اپنے بطونِ ذات سے خارج ایک حقیقت کے طورپر اختیار کریں بلکہ یہ کہ ذکر کی آنچ سے سلگتے سلگتے خا ک ہو جائیں کہ ہماری ہستی جداگانہ میں کا کچھ باقی نہ رہے، اللہ بس، باقی ہوس۔ اور آخر میں ہم اس مرحلے کو پہنچ سکیں جو اسم میں بسر ہونے لگے، سیر فی اللہ کا مرحلہ۔ اسم میں گذاران کرنے کا مقام، دنیا میں نہیں۔ ہمارے سلسلے کا طریقِ ذکر سارے کا سارا بس اتنا ہی ہے کہ نفس کا بیخ و بن دنیا سے اکھاڑ کر حقیقت ِ خداوندی کی ارضِ بہشت میں گاڑ دیا جائے۔ ہمارے ہاں اس کا ممکنہ راستہ صرف ذکرِ اسمِ ذات ہے، اسم ِخداوندی پر مباحثہ اور گفتگو نہیں بلکہ جسم و جان کی جملہ صلاحیت اور وجود کی تمام سطحوں پر اس کے نام کا ذکر۔

اوّل اوّل اسمِ ذات ہمارے لیے ایک خلا کی طرح ہوتا ہے۔ ہم پکارتے ہیں اللە، مگر اللہ کیا ہے؟شروع شروع میں یہ ہمیں کوئی شے نہیں لگتا، بشرطِ لا شئ، لیکن رفتہ رفتہ اس کی حقیقت جو حقیقت الحقائق ہے، نفسِ انسانی میں ظاہر ہونے لگتی ہے۔ پھر وہی جو ابتداء میں لا۔ شئ no-thing، ایک خلا کی طرح لگتی تھی اپنی خیرہ کن حقیقت میں نمو کرتی ہے۔ لیکن اس لمحۂ ظہور سے پہلے ہمارے لیے اس بات کی صداقت کو گرفت میں لانا بہت مشکل ہوتا ہے کیونکہ ہمارے گرد و پیش دنیا ایک ٹھوس، محسوس اور واقعی حقیقت کی طرح چھائی رہتی ہے۔ تاہم درجہ بہ درجہ اسمِ ذات اپنی اس حقیقت کو واشگاف کرتا ہے کہ وہ سبھی کچھ ہے، کہ وہی الحق ہے، اور اس کے مقابل اور کوئی شے حقیقی نہیں۔ یہ ادراک، یہ شعورِ حقیقت، پھر ایک تدریج کے ساتھ ہمیں وہاں لے آتا ہے کہ ہم ہر شے میں حضورِ خداوندی دیکھنے کے قابل ہوجاتے ہیں اور عالمِ خلق میں ذکر و تسبیح کے ارتعاش کا تجربہ کرتے ہیں یعنی جدھر دیکھتا ہوں ادھر تو ہی تو ہے!

خدا کی ہمہ جائی، اس کا علی کل شیئ محیط ہونا، ذہنی تجزیے سے نہیں سمجھ آتا۔ نظری طور پر یہ جان لینے سے سمجھ نہیں آتا کہ علتِ اولیٰ خدا ہے، یعنی وہی ہے جو تمام اشیاء کو عدم سے وجود میں لایا ہے۔ یہ درست ہے کہ اس نکتے کو سمجھنے کا فلسفیانہ انداز یہی ہے لیکن خدا کو ہرجا دیکھنے کا مطلب ہے ایک حقیقتِ محسوس کے طور پر ہر جگہ دیکھنا جس میں یہ بھی شامل ہے کہ تمام مخلوقات کا ذکر سننا، اس بات کی آگہی اورشناخت کہ ہر شے میں ذکر ِخداوندی کی گونج ہے اور ہر شے حضورِ حق کے آہنگ میں شرابور۔ اس مرحلے تک پہنچنے کے لیے لازم ہے کہ پہلے ہم اپنے اندر اس حضورِ قدسی کو حقیقت بنائیں اور جب اور ہر شے سے بڑھ کرہم اس داخلی حقیقت کو یکسوئی سے اپنا مرکز بنالیں گے تو پھر ہر دوسری شے ہم پر اپنا ذکر کھولنا شروع کرے گی اور اپنا اندازِ حضوری ہم پرظاہر کرے گی۔

اپنے یومیہ معمولات میں ہم طویل نافلہ نمازیں نہیں پڑھتے نیز لمبی لمبی روایتی دعائیں اور مناجات بھی نہیں کرتے۔ ان تمام اسالیبِ پر ستش پر ذکرِ اسم ِذات کو ترجیح دیتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے کہ :ولذکر اللە اکبر؛ذکرِ الٰہی ہر چیز سے بالاتر ہے۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ فقراء مختلف مواقع پر مختلف ادعیہ مسنونہ اور نافلہ نمازیں نہیں پڑھیں گے۔ انسانی مرتبۂ وجود میں زیست کرنے کے لیے شریعت کی پابندی لازم ہے اور صلاتِ مکتوبہ، واجباتِ شرعی ادا کرنا ضروری ہے خواہ ہم ذاکرین ہوں، خواہ ہمیں اس کا مکمل ادراک ہو کہ ذکر ِالٰہی ہر شے سے افضل ہے۔ فقراء سے میرا ہمیشہ یہ تقاضا رہتا ہے کہ وہ پانچ وقت پابندی سے نماز پڑھیں خواہ وہ کتنا ہی ذکر کیا کرتے ہوں۔

یہاں میں ایک بات دوبارہ عرض کر دوں کہ انفرادی طور پر اللہ تعالیٰ کے سامنے دست بہ دعا رہنے کی عادت میں بھی ایک روحانی بھید ہے۔ دن میں ایک مرتبہ اللہ کے حضورمیں ذاتی دعا ضرور کرنا چاہیے اوراس دعا میں پنے نجی، انفرادی مسائل کے حل کا خواستگار بننا چاہیے۔ بعض لوگ جو یوں سوچتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی عظمت ایسی ہے کہ ہمارے ان چھوٹے چھوٹے مسائل کے لیے اس سے نہیں کہنا چاہیے تو یہ روحانی طور پر ایک لغو دلیل ہے۔ ایسا سوچنے والا نہ تو حقیقتِ خداوندی کو پوری طرح سمجھتا ہے نہ خدا اوربندے کے تعلق کو۔ ذاتی، نجی دعا سے مراد وہ عالمی مسائل نہیں ہیں جو ہم سے براہِ راست متعلق نہیں ہیں۔ ان کے لیے بھی دعا درست ہے اوربعض فقراء کرتے بھی ہیں۔ میں بھی اکثر ایسی دعائیں کرتا ہوں۔ ایسے معاملات کے لیے دعا گو رہنا چاہیے لیکن جب میں یومیہ انفرادی دعا کی بات کرتاہوں تو اس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے حضور اپنے نفس کو کھول کے رکھ دیا جائے، اپنے ذاتی مسئلے، روزمرہ زندگی کے ٹھوس مسائل، اپنے ذہن میں پڑے الجھاوے، نفسیاتی گرہیں، اپنی چھوٹی بڑی مشکلات کا حل، وہ مشکلات جن کا تعلق ہماری نجی زندگی، ہمارے اہل و عیال، میاں بیوی، کاربیوہار، سے ہے۔ غرض ہر چھوٹی بڑی شے جس سے زندگی میں سابقہ پڑتا ہے سب کے لیے اللہ سے دعا کیجیے۔ اس نکتے پر اصرار کرنے کی وجہ یہ ہے کہ اس نوع کی دعا و مناجات کی اپنی ایک اہمیت ہے اور اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات اور اپنے مسائل کو اللہ کے سامنے پیش کرنے سے شرمانا اس لیے مناسب نہیں کہ جب ہم اپنا دل کھول کر خداوند کریم کے سامنے رکھ دیتے ہیں تو اس کا اثر نفسِ انسانی پر ایک اکسیر ِکیمیا کی طرح کا ہوتا ہے۔ دل کو خدائے لم یزل کے حضور کھولنے کے عمل سے اس کی قلبِ ماہیت ہو جاتی ہے اور یہی وہ اثر ہے جو نفسِ انسانی کے لیے اہم ہے۔ افلاک سے نالوں کا جواب کب اور کیسے آتا ہے یہ ایک ثانوی چیز ہے۔ اس ذات ِپاک کے سامنے اپنا آپ کھول کر رکھ دینا، اسے اولیت حاصل ہے۔ اللہ تعالیٰ کی منشاء یہی ہے کہ ہم اپنے مسائل اس سے بیان کریں اور ہر معاملے میں اسی سے مدد چاہیں۔ وہ سب حقیقتوں سے عظیم تر حقیقت ہے، واحد و یکتا الحق، لیکن ہمارے لیے لازم ہے کہ اپنے ’’ چھوٹے اور معمولی‘‘مسائل کے حل کے لیے بھی اسی سےدعا کریں۔ انسان کی اس طرح کی انفرادی، ذاتی دعا روحانی طورپر بہت قدر و قیمت رکھتی ہے۔ یہ رویہ ہر گز نہ اپنائیے کہ ہم تو بڑے صاحبِ عرفان لوگ ہیں، صرف خالص مابعدالطبیعیات پڑھتے پڑھاتے ہیں اور اس نوعیت کی دعا اور اللہ کے حضور گریہ و مناجات تو فقط سادہ لوح، عام شرعی قوانین کی پابندی کرنے والی عامیانہ اکثریت کے لیے ہے۔ یہ رویہ سرے سے باطل ہے اور اس کا نتیجہ لازمایہ ہوگا کہ ہم روحانی زندگی کا ایک بہت ہی اہم، امکانی موقع ہاتھ سے کھو دیں گے۔ ایک گہری سطح پر س کا مطلب یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ جو مدد و نصرت، جو عنایت ہم پر کرنا چاہتے ہیں ہم اسے قبول کرنے سے انکار کر رہے ہیں۔

ان بنیادی اورمرکزی اذکار و عبادات کے ساتھ قرآن مجید کی تلاوت ہمارا معمول ہے کیونکہ اس کتابِ مجید سے ہمارا گونا گوں تعلق ہے: یہ وحیِ اسلام ہے، اسی نے اسم ذات اللە ہم پرنازل کیا ہے۔ ہم اس سے اسی لیے آشنا ہوئے کہ اللہ تعالیٰ نے قرآن میں خود کو اس سے موسوم کیا۔ قرآن سے ہمارا تعلق عمر بھر کا تعلق ہے اورہونا چاہیے۔ اس کا کوئی نہ کوئی جزو کم از کم ہفتے میں ایک بار ضرور بطور تلاوت معمول میں رکھنا چاہیے۔ اسلامی ممالک میں زندگی بسر کرنے والوں کے لیے تو قرآن ہر طرف ایک حاضر حقیقت کے طور پر موجود ہوتا ہے، اس کی تلاوت کان میں پڑتی رہتی ہے، اس کی آیات جگہ جگہ آویزاں نظر آتی ہیں۔ لیکن ہم میں سے بہت سے لوگ اسلامی دنیا میں نہیں رہتے اس لیے قرآن مجید کی ہفتہ وار تلاوت کو ہمیں اپنے اوپر لازم کرلینا چاہیے۔ جو عربی کے حرف شناس ہیں وہ عربی میں پڑھیں جو عربی نہیں پڑھ سکتے وہ جس بھی زبان میں پڑھ سکیں پڑھا کریں۔ ایسے فقراء کو چاہیے کہ اگر پڑھ نہیں سکتے تو قرآن کی تلاوت اور قرات عربی میں سنا کریں۔

قرآن مجید رسولِ خدا ﷺ کی سماعت پر نازل ہوا تھا، آپ کو دکھایا نہیں گیا تھا، اسی لیے قرآن کا صوتی تجربہ ایک اعلیٰ حیثیت کا حامل ہے اگرچہ قرآن کی خطاطی، اس کے حروف و الفاظ پر نظر کرنا بھی برکات سے معمور ہے۔ قرآن مجید وہ زبانی تنزیل ہے جو رسولِ کریم ﷺ نے جبرئیلِ امین کے وسیلے سے سنی۔ پہلے حرفِ تنزیل ’’اقراء‘‘ (پڑھو)ہی سے جبرئیل علیہ السلام نبی اکرم ﷺسے مخاطب ہوئے تھے لہٰذا آپﷺ کے گوشِ مبارک اور قلبِ اطہر کے وسیلے سے قرآنِ مجید عالم ِدنیا میں نازل ہوا۔ آپﷺنے قرآ ن شریف کو اس طرح پتھر کی الواح پر لکھا نہیں دیکھا جیسا حضرت موسیٰ علیہ السلام کو دیا گیا تھا۔ تنزیلِ یہود یا وحی ِموسوی کا وسیلہ بصری تھا اور اس کے بعد سیدنا موسیٰ علیہ السلام اپنی قوم کے پاس وہ الواح لے کر لوٹے جن پر ملائکہ کے وسیلے سے احکاماتِ خداوندی نقش کیے گئے تھے۔ اس کے برعکس جب جبرئیلِ امین نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے فرمایا کہ’’ پڑھو‘‘تو انھوں نے یہ لفظ کسی تختی پر لکھا نہیں تھا جسے آپ دیکھ سکتے۔ بنا بریں کوشش کیجیے کہ قرآنِ مجید کا صوتی تجربہ اس کی تاثیرِ صوتی زیادہ سے زیادہ حاصل ہو سکے کیونکہ قرأتِ قرآن کی سماعت سے متعدد روحانی فوائد آپ تک منتقل ہوتے ہیں۔ اور بھی کئی مذہبی اعمال ایسے ہیں جو ہمارے ہاں لازم نہیں سمجھے جاتے۔ یہ چیز فقراء کی صوابدید اور سوجھ بوجھ پر چھوڑ دی جاتی ہے کہ وہ ان کے کرنے، نہ کرنے کا فیصلہ خود کریں، اس شرط کے ساتھ کہ اس سرانجامی کے نتیجے میں ذکر کے وقت میں کمی نہ آنے پائے۔ نکتہ صرف یہ ہے کہ خود کو حدِ افراط تک اعمالِ خارجی اور ظواہر میں نہ ڈالیے۔ زیادہ کوشش اس امر کی کیجیے کہ اعمالِ قبلیہ پر زور رہے، ان امور پر جو اللہ تعالیٰ کے زیادہ پسندیدہ ہیں اوراس کی نگاہ میں افضل ہیں۔

گزرے ہوئے زمانۂ بعید میں بھی ایسے صوفی ہوا کرتے تھے جو مسلسل خانہ گزیں رہتے تھے، مسجد تک میں شاذہی نظر آتے تھے۔ اب جب کہ اکثر چیزوں پر سیاست کا غلبہ ہو گیا ہے، ظواہر پرستی کا زور ہے، میں اپنے متعلقین سے یہ چاہتاہوں کہ وہ مساجد کی سیاست سے ہر طرح سے دور رہیں، مسجد جانا اور وہاں عبادت کرنا دوسری بات ہے اورجب درکار ہو اسے انجام دینا چاہیے۔ اصل میں تو اسلامی دنیا کی عظیم الشان مساجد اور مقدس مقامات کی زیارت روحانی اعتبار سے ایک مفید عمل ہے اور ان کے حسین و جمیل روایتی فن تعمیر اور ان کی فضائے قدسی میں نماز ادا کرنا، وہاں بیٹھ کر ذکر ہمیشہ روحانی افادیت کا حامل ہوتا ہے۔ مجھے خوشی ہوتی ہے جب فقراء مساجد میں جا کر ذکر کرتے ہیں یا مقدس مقامات کی زیارت کے لیے جاتے ہیں۔

اب کچھ بات صدقہ /انفاق کی ہو جائے، خواہ کسی خاص گروہِ مساجد کے لیے کیے جانے والا یا اس سے الگ آزاد انفاق۔ بدیہی بات ہے کہ انفاق فی سبیل اللہ ہمارے لیے حکمِ خداوندی کے تحت لزوم کی حیثیت رکھتا ہے۔ صدقہ خیرات کو ہر مذہب میں ایک نہایت مثبت حیثیت دی جاتی ہے لیکن بعض لوگوں کا نقطۂ نظر یہ ہے کہ ہے خدا صرف بھوکے کو کھانا کھلانے سے ملتا ہے۔ بعض لوگوں کے لیے یہی راہِ عمل ہے اور مسلمانوں کے لیے بھی اطعام ِمسکین کی تلقین کی گئی ہے لیکن ہمارا طریقہ راہِ عرفان سے عبادت ہے۔ ہم اس دنیا میں محض اور فقط اطعامِ مساکین کے لیے نہیں آئے اگرچہ جب بھی ممکن ہو اور جیسے ممکن ہو ہم محتاجوں کو کھانا کھلانے کا اہتمام کرتے ہیں اور ایسا کرنا بھی چاہیے۔ ہم یہاں اس لیے ہیں کہ خداشناسی پیدا کریں اور اللہ سے محبت کریں۔ عرفانِ خدا وندی اور عشقِ الٰہی ایک لحاظ سے خیر کی اعلیٰ ترین صورتیں ہیں کیونکہ انھی کے وسیلے سے ہم حق کی ترویج و اشاعت کر سکتے ہیں۔ نجات کا واحد وسیلہ غرباء و مساکین کو کھانا کھلانا نہیں ہے بلکہ اس کا اعلیٰ ترین وسیلہ خدا کے بارے میں جاننا، عرفانِ حق اور نیکی اور پارسائی کی زندگی۔ یہی ہمارا راستہ ہے۔ ہم ان لوگوں کی بہت عزت کرتے ہیں جو اپنا وقت اور مادی وسائل صرف کرکے دوسروں کے کام آتے ہیں لیکن اس نوعیت کی سرگرمی اپنی بساط سے بڑھ کر کرنے کی کوشش نہیں کرنی چاہیے۔ ہمارا ایک طریقہ ہے، راہِ عرفانی ہے، اس کے چہار جوب کے اندر رہتے ہوئے ہمیں اپنی روحانی ز ندگی کے مختلف عناصر میں ایک توازن قائم رکھنا چاہیے۔

عملی زندگی کے بارے میں یہاں ایک اور نکتے کا اضافہ کرنا چاہتاہوں اور اس کا تعلق اس بات، اس سوال سے بھی ہے کہ ہم کون ہیں اور یہ ایک اور سوال کے اندر چھپا ہوا ہے۔ مجھ سے پوچھا جاتا ہے کہ ہمیں دوسرے مذاہب کی عبادات میں شریک ہونے کی کس حد تک اجازت ہے؟میرا جواب یہ ہے ہم ہر طرح کی امتزاجیت، عبادات کے تال میل کے سخت خلاف ہیں۔ مراسمِ عبودیت اور مذہبی شعائر کی سطح پر ہم شعائِر مذہبی کی ایک صورت کو دوسری میں ملانے کو روا نہیں رکھتے۔ شعائر اور عبادات، ما بعدالطبیعیات کی طرح نہیں ہوتے جہاں ایک اصولِ واحد اور ایک تصورِ حقیقت کو مختلف مذہبی روایتوں میں مختلف زبانوں، جدا جدا اسالیب میں بیان کیا گیا ہے۔ سو اگر آپ کسی ایسی جگہ ہوں جہاں دوسرے مذاہب کے لوگ عبادت کے لیے یکجا ہوئے ہوں تو وہاں بیٹھنا گوارا کیا جاتا ہے خواہ یہ لوگ نصرانی ہوں، یہودی ہوں، ہندو یا بدھ مت کے پیروکار ہوں یا کسی اور روایتی مذہب کے ماننے والے۔ لیکن آپ کو کسی دوسرے مذہب کی عبادات میں ہر گز شامل نہیں ہونا چاہیے جیسے عشائے ربانی یا اسی نوع کی اورکوئی عبادت۔ دعا کی اجازت تو دی جا سکتی ہے مگر غیر اسلامی عبادات میں شرکت ممنوع ہے۔

حال ہی میں مجھ سے یہ بھی دریافت کیا گیا کہ دوسرے صوفی سلاسل کی مجالس میں شرکت کے لیے کیا حکم ہے؟ اگریہ صوفی مجالس روایتی اورمستند اہلِ تصوف کی ہوں، نیو ایج خرافات نہ ہو، اور آپ کو دعوت دی جائے تو جانے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ لیکن کسی بھی صوفی جماعت میں خود سے زبردستی گھسنے کی کوشش نہ کیجیے۔ نیز شاذلیہ سلسلہ کی وہ شاخیں جو ہمارے بارے میں بدقسمتی سے ایک عنادکا رویہ رکھتی ہیں ان سے میل جول کی بھی ضرورت نہیں۔ ہماری تو کسی سے بھی دشمنی نہیں۔ ہم سب کے خیر خواہ ہیں۔ نہ کاہو سے دوستی نہ کاہو سے بیر۔ لیکن دنیا کے مختلف حصوں میں شاذلیہ علویہ سلسلے کی کچھ شاخیں ایسی ہیں جو ہم سے ایک نوع کا بغض رکھتے ہیں، کچھ رقیبانہ رویہ بھی ہے، اور ہماری شاخ کی سند پر سوال اٹھاتے رہتے ہیں۔ مجھے یہ رویہ سمجھ نہیں آتا کیونکہ ہم نے ہمیشہ تمام مستند سلاسلِ تصوف کا اور بالخصوص اپنے سلسلے کی تمام شاخوں کا بہت احترام کیا ہے۔ اگر خواہی سلامت برکنار است۔ بہتر یہی ہے کہ دور رہیے اور بے مصرف مناظرہ بازی میں الجھنے سے پرہیز کیجیے۔

خلاصہ یہ کہ اگر آپ کی رہائش کسی ایسے علاقے میں ہے جہاں آپ کے سلسلے کی مجالس نہیں ہوتیں اور قرب و جوار میں کسی دوسرے سلسلے کے کوئی مستند بزرگ تشریف فرما ہیں اور آپ ان کی مجالس میں شریک ہونا چاہیے تو میری طرف سے اجازت ہے کہ گاہ گاہ شرکت کرتے رہیے۔ اپنے معمولات ترک نہ کیجیے۔ ہمیشہ یاد رکھیے کہ ہمارے لیے افضل الذکر وہی ذکرِ اسم ِذات ہے جو آپ کو تلقین کیا گیا ہے۔ یہی سب کچھ ہے، اسی میں ہمارا اٹھنا بیٹھنا، سونا جاگنا اور مرنا جینا ہے۔

فقیری کا سارا ہنر یہ یاد رکھتا ہے کہ یادکرنا ہے، مطلب یہ کہ یہ یاد رکھنا کہ ہمیں خدا کو یاد کرنا ہے، اس کا ذکر کرنا ہے کیونکہ اگر ہم یہ یاد رکھیں کہ ہمیں خدا کا ذکر کرنا ہے تو ہم گویا خدا کو یاد کر رہے ہیں۔ بہت سے لوگوں کے لیے یہ پہلی بات ’’یاد رکھنا‘‘ مشکل ہوتا ہے اور وقت کے دھارے میں اسے یادداشت کا حصہ بنانا دشوار ہوتا ہے سو اس ’’ یادداشت‘‘پر کام کرتے رہنا ضروری ہے۔ الا یعلم من خلق (جس نے نے ہمیں خلق کیا وہ بہتر جانتا ہے)۔ خدا ہمیں ہم سے زیادہ جانتا ہے! وہ جانتا ہے کہ انسان نسیان کا پتلا ہے اور س کے لیے یادبود اور یاد آوری ایک مشکل امر ہے لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں کچھ مشکل نہیں، وہ علی کل شئ قدیر ہے۔ باذن اللہ وبعونہ آپ سب اس ایک راہ پر چلنے میں کامیاب رہیں گے، وہ واحد راستہ جس پر گامزن رہنا اس زندگی میں رونق کی ضمانت ہے، جو اس لائق ہے، شایان زحمت ہے کہ اس کے لیے زندگی صرف کی جائے یعنی راہِ ذکر جو ہمیں مبدء ہستی کی جانب لوٹا کرلے جانے کاراستہ ہے، ہمارے حقیقی مسکن و ماوائے حیات کی طرف، مصدرِ حیات کی طرف جہاں سے ہم آئے تھے:

انا للە وانا الیە راجعون


ہمارا طرز زیست

’’ ہم کون ہیں‘‘کے مبحث کا یہ آخری حصہ ہے۔ اپنے طریقے کی اس شاخ کے آغاز، اس کی ابتدا، پر گفتگو ہو چکی، تصورِ حقیقت کے بارے میں ہمارا نقطۂ نظر کیا ہے اس پر بات ہو چکی اور اس حقیقتِ اولیٰ تک پہنچنے کے لیے اس کے بتائے ہوئے اعمال و اذکار کا بیان کر دیا گیا۔ اب ہم مختصراًیہ عرض کریں گے ان نکات کی روشنی میں بطور فقراء و فقیرات ہمیں زندگی کیونکر بسر کرنا درکار ہے۔ ہمارے یومیہ معمولات کے قلب اور مرکز میں ذکرِ اسمِ ذات قائم ہے جس کے ساتھ دھیان مراقبات منسلک ہیں جو چھ مراقبات سے شروع ہو کر ’’ہیئت وحدانی‘‘ کے اکسیری مراقبے تک ممتد ہوتے ہیں اور ان کی مختلف امتزاجی صورتیں ہیں۔ ان کی شش جہات میں دن رات کی نمازوں اور ورد کا سلسلہ پھیلا ہوا ہے۔ لیکن ہم انسان ہیں اور بحیثیت مردو زن ہماری روزمرّہ کی ایک زندگی ہے جو ہمیں روحانیت کی راہ کے مسافروں کی طرح بسر کرنا ہ۔ ے سو میں اس کی جانب بھی اشارہ کرنا ضروری گردانتا ہوں کہ راہِ طریقت پر گامزن افراد کو روز مرہ زندگی کے اوقات کیونکر صرف کرنا چاہیں کہ ہمارا جملہ طرزِ حیات ذکر اور حقائقِ ذکر کی مطابقت میں وقوع پذیر ہو سکے۔ ظاہر ہے کہ روز مرہ طرزِ زیست کا معاملہ ہو تو اس میں ہر ایک کے لیے یکساں احوال و ظروف اور گذر بسر میں یکسانیت ممکن نہیں ہوگی۔ ہر شخص کو خداوندِ کریم نے ایک سے حالات سے دوچار نہیں کیا، ہر شخص کی زندگی مختلف، اس کے تقاضے جدا ہیں کے مسائل جداگانہ، اس کے وسائل ِ زیست الگ الگ ہیں۔ بنا بریں آپ کی زندگی کرنے کے انداز کے لیے میں کوئی یکساں سانچہ، بودو باش کا ایک لازمی طریقہ مقرر نہیں کر سکتا لیکن فقیرانہ زیست کرنے کا ایک سٹائل، ایک اسلوبِ حیات تو بہرحال ہے جو انسانی زندگی کو الرحمن کی روحانی حقیقت کے مطابق گذار لے جانے سے عبارت ہے، خاص طور پر ہمارے طریقےمیں، وہ اسلوبِ زیست جسے ہم سب کو اختیار کرنا ہے، سیکھنا ہے اور اپنانا ہے۔

آپ سب اس سے آگاہ ہیں اور ہمارے سلسلے کے بزرگوں نے بیان کیا ہے کہ ہر راہِ طریقت تین عناصر پر مشتمل ہوتی ہے: ایک تصورِ حقیقت، ایک راہ ِعمل اور نفسِ انسانی کے تزکیے اور تصفیے کے لیے ایک’’ اکسیری‘‘ہنر۔ پہلے دو عناصر کی وضاحت ہو چکی، اب اس تیسرے پہلو، اس تیسرے عنصر کی وضاحت درکار ہے اور مجھے یہ بتانا ہے کہ زندگی کیسے گزارنی چاہیے۔ بدیہی ہے کہ تزکیہ و تصفیہ کی اس ’’ اکسیر‘‘کا مرکزی نکتہ ہے محاسنِ اخلاق، خوش اطواری اور صفاتِ حمیدہ سے نفس کو جِلا دینا۔ ذی استعداد لوگوں کے لیے تصورِ حقیقت کو سمجھنا، شعوری سطح پر حقیقت سے متعلق عقائد و تصورات کو گرفت میں لانا آسان ہے، مابعدالطبیعیات پر گفتگو بھی ممکن ہے، اس کے لیے درکار روحانی ریاضت البتہ قدرے مشکل ہے مگر ایسی زیادہ مشکل بھی نہیں ہے، خاص طور پر جب یہ اعمال و اذکار پوری یکسوئی اور توجہ سے انجام دئیے جائیں۔ صحیح معنی میں پارسائی، نفس مزکّیٰ کا حامل ہونا سب سے مشکل اور دشوار ہے، اس طرح کہ اسم ِخداوندی ہمارے نفوس میں جاگزیں ہوجائے، ہمارے گھٹ میں اتر جائے اور یہ تبھی ہوتا ہے جب ہم سچ مچ نیک اور اوصافِ حمیدہ سے مزین ہو جائیں۔

دوسری جانب یہ بھی نظر میں رکھیے کہ جب ہم یہ کہتے ہیں کہ ہم پارسا، تزکیہ یافتہ ہو گئے یا ہمیں ہونا ہے تو یہ ایک مجاز کا اسلوب ہے کیونکہ آخر الامر ہر صفتِ حمیدہ، ہر حسنِ خلق، خدا کی دین ہے، صفات اسی کی ہیں، ہمارے لیے مستعار ہیں۔ اپنی اصل و اساس میں یہ حقائق مرتبۂ انسانی سے بلند اور بالاتر حقائق ہیں۔ سو جب یہ کہا جاتا ہے کہ صدق و صفا ہمارا اشعار ہونا چاہیے تو یہ فقرہ اس امر کی روشنی میں سمجھنا چاہیے کہ صداقت شعاری اصل میں صفتِ خداوندی کا پرتو ہے کہ وہی الحق ہے۔ باقی تمام محاسنِ اخلاق کا معاملہ بھی یہی ہے۔ تاہم مابعدالطبیعیاتی اعتبار سے صورتِ الٰہیہ پر خلق کی گئی اس انسانی مخلوق کو اللہ تعالیٰ کا فرمان یہ ہے کہ وہ نیکی کی راہ اپنائے، تخلقوا باخلاق اللہ پر عمل پیرا ہو، ذات سے تعلق قائم کرے اور صفات کا اپنے اندر تخلّق کرے۔ یہاں سے روحانی زندگی کے عملی پہلو کا آغاز ہوتا ہے۔ بیعت کی برکت سے، شریعت کی پابندی اور روحانی اعمال و اذکار کی مدد سے، راہِ عمل کے اس نقشے پر گامزن ہو کر جو ہمارا تصورِ حقیقت ہمارے لیے بنا کر دیتا ہے، اس سمت ِسفر کے مطابق جو اس دنیا میں ہمارے لیے متعین کی گئی ہے اور اس دنیا کے بعد کے مراحل کی جانب بڑھنے کی دعوت کے ساتھ ہمیں روحانی محاسن و اوصاف کی آبیاری کرنا درکار ہے۔

اوصافِ حمیدہ، خوش خصائل بننے اور پارسائی کے بارے میں گفتگو کرتے چلے جانا آسان ہے، پارسائی اور نیکی پر عمل پیرا ہونا مشکل ہے۔ شمہ برابر عجز و ذرہ برابر زہد و تقویٰ کا حامل ہوئے بغیر بھی عجز و انکسار، زہد وارتیاض، خدا ترسی اور تقویٰ پر کتابیں تو کوئی بھی لکھ سکتا ہے۔ یہ ہمارا مقصود نہیں ہے۔ ہم آپ سے یہ تقاضا نہیں کرتے کہ محاسنِ اخلاق اور صفاتِ خداوندی کے تخلّق کے بارے میں صرف باتیں کیا کریں، کتابیں پڑھا کریں اور اچھی تصانیف سپردِ قلم کیا کریں؛ ہم آپ کو صحیح معنی میں پارسا، پاکباز اور تزکیہ یافتہ دیکھنا چاہتے ہیں۔ عباداتِ منصوصہ انجام دیجیے، خود کو یوں منقلب کر دیجیے کہ آپ کی ساری زندگی نیکی اور پارسائی کا مرقع بن جائے اور آپ حقیقتِ الٰہیہ کے شعور میں زندگی بسر کرنے لگیں، صرف اوقاتِ صلوۃ میں نہیں بلکہ اپنی روز مرہ زندگی کے ہر ہر لمحے میں:

کسانیکہ یزداں پرستی کنند                بہ آوازِ دولاب مستی کنند

 

(Visited 1 times, 1 visits today)




بشکریہ

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/