عالمی ادب

“اچھوت” __ “Untouchable” ناول نگار: ملک راج ان…

“اچھوت” __ “Untouchable”
ناول نگار: ملک راج انند
(1905-Peshawar,2004-Pune India)
اردو تلخیص: ماجد اقبال چودھری
“اس ناول کا پلاٹ، ذات پات کے نظام کو ختم کرنےکی دلیل کے گرد گھومتا ہے۔ اس میں ایک نوجوان سویپر“باکھا”کی زندگی کے ایک دن کی تصویر کشی کی گئی ہے، جواپنے کام “لیٹرینوں”کی صفائی کی وجہ سے "اچھوت" ہے۔” اس کے باپ کا نام “لاکھا” ہے جو شہر کے تما م خاکروبوں کا سر براہ بھی ہے۔ باکھا ایک ذہین مگر سادہ مزاج لڑکا ہے اور دن بھر کے تجربات اسے پختہ کار بنا دیتے ہیں۔
. کہانی شروع ہوتی ہے ایک صبح سے جب باکھا بستر پر سو رہا تھا کہ اس کا والد لاکھا وہاں پہ آیا اور اس پر چیخنے لگااُٹھو اور جلدی اپنے کام پہ جاؤ! “کام” یعنی اپر کلاس کے توئلٹ وغیرہ صاف کرنے کا کام۔باپ اور بیٹے، دونوں کی آپس میں بنتی نہیں ہے کیونکہ لاکھا خود تو سُست طبع آدمی ہے اور بیٹے کو کام کرنے کا کہتا رہتا ہے۔ایک شخص چرت سنگھ جو کہ ہاکی کا کھلاڑی ہے باکھا نے اس کے گھر کی صفائی ستھرائی اور ٹوئلٹ صاف کیا تھا چرت سنگھ نے خوش ہو کر اسے کل ایک بالکل نئی ہاکی تحفہ میں دینے کا وعدہ کیا ۔
دن بھر کا م کرنے کے بعدباکھا جب گھر واپس لوٹا تو اس کو بڑی پیاس لگ رہی تھی اور گھر میں پانی نہیں تھااس کی بہن “سوہنی” وہ اس کے لئے پا نی لینے قریبی کنویں پہ گئی وہاں پانی بھرنے والوں کی قطار لگی تھی یہ بھی پیچھے کھڑی ہو جاتی ہےاچھوت ہونے کی باعث اسے خود سے پانی بھرنے کی اجازت نہیں تھی وہاں کنویں پر کالی ناتھ نام کا پچاری تھا اس نے سوہنی کو کنویں میں سے پانی نکال کے دیا اس شرط پر کہ وہ کل مندر میں آکر صفائی کرے گی،وہ مان جاتی ہے اور پجاری سے اپنے بھائی کے لئے پانی لے لیتی ہے۔ پانی پینے کے بعد با کھا پھر سے اپنے کام لیٹرینوں کی صفائی کے لئے نکل پڑتا ہے راستے میں وہ غلطی سے ایک اپر کلاس کے آدمی سے ٹکرا جاتا ہے وہ آدمی اس پر غصہ کرتا ہے اور اسے مارنا پیٹنا شروع کر دیتا ہے اور جما کے تھپڑ اس کے منہ پہ دیتا ہےکہ اے“اچھوت “تیری اتنی ہمت ،تو مجھ سے کیوں ٹکرایا؟دریں اثنا ایک مسلمان تاجر وہاں پہ آیا اور اس کی جان چھڑائی اس مسلمان تاجر کواس کی ذات سے کوئی لینا دینا نہیں تھااس نے صرف انسانیت کی خاطر اس کی مدد کی۔ با کھا کو اپر کلاس کے آدمی کابرتاؤبہت بُرا لگا۔ پٹنے کے بعد با کھا چلتے چلتے مندر کی طرف گیا وہاں کیا دیکھتا ہے مندر کا پجاری پنڈت ناتھ سب کے سامنے اس کی بہن پر الزام لگا رہا تھاکہ “اس لڑکی نے مُجھے گندھا کر دیا”سوہنی بے چاری گھبرائی ہوئی تھی وہ اپنے بھائی کے پاس گئیں اور بولی اس پجاری نے اس کے ساتھ زبر دستی کرنے کی کوشش کی۔ اس سے پہلے کہ با کھا کُچھ کرتا اس کی بہن نے اسے روک دیا اور با کھا نے اپنی بہن کو گھر بھیج دیا کہ تم جاؤ تمہارے کام(ٹاؤن سے کھانا وغیرہ مانگنے کا کام) میں کر لوں گا۔بہن کو گھر بھیجنے کے بعد با کھا ادھر اُدھر بھٹکتا رہا جس گھر بھی کھانا لینے گیا وہاں سے دھتکارا گیا کھانے کی بجائے گالیں سُننے کو ملیں۔تھک ہار کے با کھا جا کرایک گھر کے باہر سو گیا کہ اس گھر کی مالکن باہر نکلی تواس پر چلانے لگی اور بُرا بھلا کہا۔اس عورت نے اس سے کہا کہ وہ یہاں کی صفائی کردے تو وہ اسے کھا نا دے گی۔ ایسا برتاؤ دیکھنے کے بعد باکھا اعلی ذات کے لوگوں سے نفرت کرنے لگا تھا۔ بعدازاں با کھا اپنے گھر گیا اور اپنے باپ لاکھا کو بتانے لگا کہ کس طرح ایک اعلی ذات کے شخص نے بیچ بازار اسے مارا پیٹا اور بے عزتی کی۔اس کے باپ نے الٹا با کھا کو ہی ڈانٹ پلائی کہ بڑی ذات کے لوگوں کے خلاف بات کرنے سے پہلے یہ بات ذہن میں رکھ”ایک بار اس بڑی ذات کے ڈاکٹر نے ہی تیری جان بچائی تھی”یہ سن کر با کھا پریشان ہو گیاوہ اپنے ایک دوست رام چرن کی بہن کی شادی پہ چلا گیاوہاں اس کا دوست چھوٹو بھی تھادونوں نے با کھا کو پریشان دیکھ کر اس کا سبب پوچھا؟با کھا نے دونوں باتیں بتا دیں،اعلی ذات کے ہندو سے پٹنے اور مندر والے پجاری کی بات۔ دوستوں نے سوچا ہم بدلہ لیں گےپہلے باکھا نے بھی ایسا سوچا تھا لیکن یہ جانتے تھے کہ انجام اچھا نہیں ہوگاچھوٹو نے بات بدلتے ہوئے ہاکی کا ذکر چھیڑ دیا تبھی باکھا کو یاد آیا کہ چرت سنگھ نے اسے ہاکی دینے کا وعدہ کیا تھاباکھا اپنا گفٹ لینے کے لئے چرت سنگھ کے پاس آیا چرت سنگھ دوسرے ذہن کا آدمی تھااس نےباکھاکو چائے وغیرہ کا پوچھا اس نے باکھا اپنا کوئی بھی سامان چھونے کی اجازت دے رکھی تھی۔چرت سنگھ سے نئی ہاکی تحفہ لینے کے بعد باکھا اپنے گلی محلے میں ہاکی کھیلنے لگایہاں بھی مخالف ٹیم سے اس کا جھگڑا ہو گیا کیوںکہ اس نے زیادہ گول کر دئے تھے ،اسی مار کٹائی میں ایک بچے کو چوٹ آگئی زخمی بچے کو اُٹھا کر با کھا اس کے گھر لے گیا وہاں بچے کی ماں ہی با کھا کو بولنے لگی کی تو نے میرے بچے کو مارنے کی کوشش کی۔ایسی صورت حالات کا سامنا کرنے بعد با کھا گھر پہنچا وہاں اس کا باپ لاکھا غصے میں بیٹھا تھاکہ تو ساری دوپہر کہاں غائب تھا؟ اس نے با کھا کو گھر سے نکال باہر کیا۔گھر بدر ہونے کے بعد با کھا دور نکل گیا اور وہاں جا کر ایک درخت کے نیچے بیٹھ گیا۔یہاں ایک گورے کرنل ہچنسن کا گزر ہوتا ہے جو اسے اپنے ہمراہ چرچ چلنے کی دعوت دیتا ہے۔ ھے باکھااس کر نل کے ساتھ چرچ پہنچا ہی تھا کہ کرنل کی بیوی اس پر چلانے لگی کہ کیا روز روز تم ایسے لوگوں کو اٹھا کرکے آجاتے ہو؟باکھا بڑی گھٹن محسوس کرنے لگا تھا اس نے چرچ میں پاؤں تک نہیں رکھا تھاوہ ریلوے اسٹیشن چلا گیا وہاں کیا دیکھتا ہے کہ بھیڑ لگی ہے لوگ جمع ہو رہے ہیں معلوم کرنے پر پتہ چلا کہ یہاں مہاتما گاندھی آنے والے ہیں اور خطاب کریں گے گاندھی نے تقریر شروع کی اس نےذات پات کی برائی کی اور لوگوں کو بھی اس کے خلاف کامُ کرنے کا کہا۔یہ باتیں باکھا کو بہت اچھی لگیں وہاں اور لوگ بھی تھے جو گاندھی جی کے اس موقف کے حامی نہیں تھے۔ اور کچھ حامی بھی تھے باکھا کے پاس کھڑے دو آدمی جن میں سے ایک وکیل تھا اور دوسرا شاعر و ادیب، وہ باتیں کر رہے تھے کہ انگریز انڈیا میں ایک ایسی مشین (فلش والے ٹائلٹ)لے کر کے آرہے ہیں جس کے آنے سے لیٹرینوں کی صفائی (یعنی ہاتھوں سے غلاظت اٹھانے) کا کا م ہو سکتا ہے آنے والے وقت میں ختم ہو جائے ۔باکھا شاعر اور وکیل کی بات بہت غور سے سُن رہا تھاکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے ہاتھ سے ٹوئلٹ وغیرہ صاف کرنے کا کام ختم ہو جائے۔باکھا اس بات کو لیکر بڑا پر جوش(excited) تھاوہ سیدھا گھر گیا اور یہ نوید گھر والوں کو جا کر سنادی۔


بشکریہ
https://www.facebook.com/groups/1876886402541884/permalink/2904056936491487

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/