منتخب غزلیں

"جشنِ اردو کے خاص مہمان'' ہمارے خا…

"جشنِ اردو کے خاص مہمان''
ہمارے خاص ادبی سلسلے "جشنِ اردو کے خاص مہمان'' کو جاری رکھتے ہوئے لیجئے دوستو ہم ایک بار پھر سے حاضرِ خدمت ہیں۔ ہر بار کی طرح اس بار بھی ہماری یہی کوشش رہے گی کہ یہ پیشکش بھی بہترین اور سود مند ثابت ہو۔
اس مرتبہ جس شخصیت سے آپ کو روبرو کروائیں گے، ان کی پیدائش 17نومبر 1938 عیسوی کو سلطانپور میں ہوئی۔ بنیادی تعلیم اسی جگہ سے حاصل کی۔ بچپن سے ہی گھر میں ایسا ماحول میسر رہا جس سے اردو اور فارسی میں ان کی دلچسپی بڑھی اور اس قدر بڑھی کہ ابھی جناب انٹرمیڈیٹ میں ہی زیر تعلیم تھے کہ فارسی کے ڈرامہ نگار سید نفیسی کے ڈرامہ " آخری یادگارِ نادر شاہ" کا اردو میں ترجمہ کیا۔
اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے اللّٰہ آباد یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور یہاں ان کی ملاقات فراق گورکھپوری، ڈاکٹر اعجاز حسین، پروفیسر احتشام حسین، پروفیسر ایس سی دیب جیسی ادبی شخصیات سے ہوئی جنہوں نے ان کی ادبی ذہانت پر کافی اثر ڈالا۔
علیگڑھ مسلم یونیورسٹی سے ڈی لِٹ کرنے کے بعد جامعہ ملیہ اسلامیہ سے وابستہ ہوئے اور کئی برس تک خدمات انجام دیتے رہیں۔ ان کی تحریروں سے ان کے ادبی مزاج اور جدیدیت کے بانی ہونے کا رنگ صاف جھلکتا ہے ۔ ان کی کتابیں،' جدیدیت کی فلسفیانہ اساس' اور ' نئی شعری روایات' اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
حال میں نئی دہلی میں مقیم ہیں اور کئی ادبی اداروں اور تنظیموں کی سربراہی کر کے ادب کی خدمت جاری رکھے ہوئے ہیں جن میں غالب اکیڈمی، انجمن ترقئی اردوہند، غالب انسٹیٹیوٹ اور ریختہ وغیرہ شامل ہیں۔
تو آئے دوستو اس ہفتے خیر مقدم کرتے ہیں ہمارے اس شمارے کے خاص مہمان جناب شمیم حنفی صاحب کاجو بروز ہفتہ 5 ستمبر 2020 کو ہم سے روبرو ہوں گے۔۔۔

′′ Special guest of Urdu celebration ′′
Continuing our special literary series ′′ Special Guest of Urdu celebration ′′ friends, we are here once again. Like every time, we will try to make this offer best and interesting.
This time, the personality you will get in front of him, was born on 17 November 1938 AD in Sultanpur. He received basic education from the same place. Since childhood, there was an environment in the house which was available in Urdu and Persian. His interest increased and increased so much that Mr. Intermediate was still educated that he translated Persian drama writer Syed Nafisi's drama ′′ Last Yadir Shah ′′ into Urdu.
Admitted to Allahabad University to achieve higher education and here he met literary personalities like Farak Gorakhpuri, Dr. Ijaz Hussain, Professor Ehtisham Hussain, Professor SC Deb who have influenced their literary intelligence.
Aligarh was affiliated with Jamia Millia Islamia after de-lit from Muslim University and served for many years. His writings clearly show the color of his founder of literary mood and modernism. His books, 'Modernism' Philosophical base ' and ' new poetry traditions ' are its mouth speaking proof.
Recently based in New Delhi and continues to serve literature by headed by several literary institutions and organizations including Ghalib Academy, Anjuman Tarqai Erdwhand, Ghalib Institute and Ruktha etc.
So come on friends this week we welcome our special guest of this edition Mr. Shamim Hanafi Kaju will be in front of us on Saturday, September 5, 2020

Translated


متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/