منتخب غزلیں

جدید لب و لہجہ کے ممتاز شاعر سید مصلح الدین شاذؔ ت…

جدید لب و لہجہ کے ممتاز شاعر سید مصلح الدین شاذؔ تمکنت ۸ا؍ اگست ۱۹۸۵کو اتوار کے روز ۵۲ سال کی عمر میں حیدرآبادمیں انتقال کرگئے ۔ ۳۴ ویں برسی پر خراج پیش ہے۔

مناجات
——-
اک حرف تمنا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تک مرے مولا
اے دل کے مکیں دیکھ یہ دل ٹوٹ نہ جائے
کاسہ مرے ہاتھوں سے کہیں چھوٹ نہ جائے
میں آس کا بندہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تک مرے مولا
یہ اشک کہاں جائیں گے دامن مجھے دیدے
اے باد بہاری میرا گلشن مجھے دیدے
میں شاخ سے ٹوٹا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تک مرے مولا
سرتا بقدم اپنی مرادوں کو سنبھالے
جاتے ئے تکتے ہیں مجھے قافلے والے
میں لالٔہ صحرا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تک مرے مولا
اے دست طلب کیوں تیری باری نہیں آئی
کہنا مرے آقا کی سواری نہیں آئی
تصویر و تماشہ ہو بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تک مرے مولا
ممکن نہیں یہ آنکھ تیری دید کو ترسے
ہر رنگ میں دیکھوں تجھے دیوار سے در سے
میں تو ترا رستہ ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تک مرے مولا
اے کاشف اسرار نہانی ترے صدقے
اب شاذؔ کو دے اذن روانی ترےصدقے
ٹھرا ہوا دریا ہوں بڑی دیر سے چپ ہوں
کب تک مرے مولا

متفرق اشعار
=======

؎ وہ بجھے بجھے وہ لٹے لٹے سر راہ شاذؔ ملے تو تھے
انہیں اب وطن میں نہ ڈھونڈئیے کہ وہ اب وطن سے چلے گئے
….
مرا ضمیر بہت ہے مجھے سزا کے لیے
تو دوست ہے تو نصیحت نہ کر خدا کے لیے
….
؎ زندگی ہم سے ترے ناز اٹھائے نہ گئے
سانس لینے کی فقط رسم ادا کرتے تھے
….
؎ شب و روز جیسے ٹھہر گئے کوئی ناز ہے نہ نیاز ہے
ترے ہجر میں یہ پتا چلا مری عمر کتنی دراز ہے
….
؎ اتنی تہذیب رہ و رسم تو باقی تھی کہ وہ
لاکھ رنجش سہی وعدہ تو وفا کرتے تھے
….
؎ ارے جسے ورق چہرہ چہرہ یاد ہو شاذؔ
بھلا وہ آدمی درس کتاب کیا لیتا
….
؎ ہے اس کا سراپا دیدۂ تر دنیا کو مگر کیا اس کی خبر
سب کے لیے آنکھیں ہنستی ہیں میرے لیے کاجل روتا ہے
….
؎ وہ کس کے لیے سنگھار کرے چندن سا بدن یوں روپ بھرے
جب مانگ جھکا جھک ہوتی ہے آئینہ جھلا جھل روتا ہے
….
؎ آگے آگے کوئی مشعل سی لیے چلتا تھا
ہائے اس شخص کا کیا نام تھا پوچھا بھی نہیں

؎ نہ جانے کون سے عالم میں اس کو دیکھا تھا
تمام عمر وہ عالم رہا ہے آنکھوں میں
….
؎ دل زندہ سے ہے یہ گرمئ بازار حیات
سر سودا زدہ قائم ہے تو الزام کئی

؎ جانے والے تجھے کب دیکھ سکوں بار دگر
روشنی آنکھ کی بہہ جائے گی آنسو بن کر
….
؎ شاذؔ کو صبر عطا کر کے بڑا کام کیا
اس نے کیا مانگا تھا کیا پایا ہے اے رب ہنر
….
؎ جس طرف جاؤں ادھر عالم تنہائی ہے
جتنا چاہا تھا تجھے اتنی سزا پائی ہے
….
میں جسے دیکھنا چاہوں وہ نظر نہ آ سکے ؎
ہائے ان آنکھوں پہ کیوں تہمت بینائی ہے
….
لوگ رہتے ہیں یہاں خالی مکانوں کی طرح ؎
کس کے دروازہ پہ دستک کی صدا ٹھہرے گی
….
؎ ہم شاذؔ سے سیکھیں گے زخموں کی چمن بندی
کچھ دل کو لہو کرنا کچھ پھول کھلا دینا
……
بشکریہ غوث ارسلان
Yahiya Khan


متعلقہ تحاریر

2 Comments

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/