منتخب غزلیں

” شکستِ غم ” رُخ پہ ڈالے ہوئے سیاہ نقاب غم نے آ ک…

” شکستِ غم ”

رُخ پہ ڈالے ہوئے سیاہ نقاب
غم نے آ کر کیا یہ مجھ سے خطاب;

” مجھ کو بھیجا ہے لالہ زاروں نے
تیری گزری ہوئی بہاروں نے
شمعیں ماضی کی خواب گاہوں میں
تجھ سے طالب ہیں سرد آہوں کی
خوابِ پیشیں نے تیری دی ہے یہ رائے
اب نہ تیری پلک جھپکنے پائے
اُس تبسّم نے، تھا جو وجہِ نمو
تجھ سے مانگے ہیں خون کے آنسو ”

جوشؔ سن کر یہ داستانِ ستم
میں یہ کہتا ہوا بڑھا سوئے غم;

” اہلِ دل جز ترے کسے چاہیں
آ کہ گردن میں ڈال دوں بانہیں ”

جب ملا غم کو یہ لطیف جواب
مسکرانے لگا الٹ کے نقاب

(جوش ملیح آبادی)

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/