عکسِ خیال

میں تو جب بھی گلزار کی آواز میں گلزار کی یہ نظم سن…


میں تو جب بھی گلزار کی آواز میں گلزار کی یہ نظم سنتا ھُوں تو میرے رونگٹے کھڑے ھو جاتے ھیں۔ سوچ میں پڑ جاتا ھُوں کہ دونوں ملکوں نے اکہتر بہتر سال ایک دوسری کی نفرت میں کیوں اور کیسے گزار دیے ؟؟

"خواب کی دستک”

صُبح صُبح اِک خواب کی دستک پر
دروازہ کھولا ، دیکھا
سرحد کے اُس پار کچھ مہمان آئے ھیں

آنکھوں سے مانوس تھے سارے
چہرے سارے سُنے سنائے
پاؤں دھوئے ، ھاتھ دُھلائے
آنگن میں آسن لگوائے
اور تنور پہ مکی کے
کچھ موٹے موٹے روٹ پکائے

پوٹلی میں مہمان میرے
پچھلے سالوں کی فصلوں کا گڑ لائے تھے

آنکھ کھلی تو دیکھا
گھر میں کوئی نہیں تھا
ھاتھ لگا کر دیکھا تو
تنور ابھی تک بُجھا نہیں تھا
اور ھونٹوں پر میٹھے گڑ کا ذائقہ
اب تک چپک رھا تھا

خواب تھا شاید ، خواب ھی ھو گا
سرحد پر کل رات سُنا ھے چلی تھی گولی
سرحد پر کل رات ، سُنا ھے
کچھ خوابوں کا خون ھُوا تھا

"گلزار”

بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/