عکسِ خیال

نوشی کی کچھ غزلیں سونے کے تار سے لکھنے لائق ھیں یہ…

نوشی کی کچھ غزلیں سونے کے تار سے لکھنے لائق ھیں یہ ان میں سے ایک ھے۔

ھر ذرۂ امید سے خوشبو نکل آئے
تنہائی کے صحرا میں ، اگر تُو نکل آئے

کیسا لگے اِس بار اگر موسمِ گل میں
تتلی کا بدن اوڑھ کے ، جگنو نکل آئے

پھر دِن تری یادوں کی منڈیروں پہ گزارا
پھر شام ھُوئی آنکھ سے آنسو نکل آئے

بے چین کیے رھتا ھے ، دھڑکا یہی جی کو
تجھ میں نہ زمانے کی ، کوئی خُو نکل آئے

پھر دل نے کیا ترکِ تعلق کا ارادہ
پھر تجھ سے ملاقات کے ، پہلو نکل آئے

"نوشی گیلانی”


بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house

متعلقہ تحاریر

جواب دیں

Back to top button
تفکر ڈاٹ کام
situs judi online terpercaya idn poker AgenCuan merupakan salah satu situs slot gacor uang asli yang menggunakan deposit via ovo 10 ribu, untuk link daftar bisa klik http://faculty.washington.edu/sburden/avm/slot-dana/