”سانولی“
کیا جانے , کب سے دھُوپ میں بیٹھی تھی سانولی؟
اُبھری ھُوئی اَنا کی شِکن سی جَبِیں پر
دیکھا فضا میں اُڑتے پرندوں کو ایک بار
پھر کھینچنے لگی وہ لکیریں زمین پر
”محسن نقوی“
بشکریہ
https://www.facebook.com/Inside.the.coffee.house
